جمہوریت کی بقاء بھی بے لاگ احتساب کا عمل یقینی بنانے سے ہی ممکن ہے

Shahbaz Sharif

Shahbaz Sharif

تحریر : سید توقیر حسین
احتساب کے نعرے پر جاری سیاست اور شہباز شریف کا بے لاگ احتساب میں جج’ جرنیل’ سیاستدان سمیت کسی کے نہ بچنے کا عندیہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ اب سب کیلئے بے لاگ احتساب کا وقت آگیا ہے’ اربوں روپے کے قرضے معاف کراکے اشرافیہ کہلانے والے بھی اب احتساب سے نہیں بچ پائیں گے اور غریب قوم کے اربوں روپے ہڑپ کرکے پاکستان کو کنگال کرنیوالوں کو اب حساب دینا ہوگا۔ گزشتہ روز یوم مئی کے موقع پر ایکسپوسنٹر جوہرٹائون لاہور میںمنعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے میاں شہبازشریف نے کہا کہ ٹی اوآر پر واویلا کرنیوالے کہتے ہیں اگر سب کا احتساب کیا گیا تو اس میں وقت لگے گا لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ قرضے معاف کرانے والوں کی فہرستیں موجود ہیں جن کی روشنی میں آدھے گھنٹے میں فیصلہ ہو جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں ایک پارٹی کی ریلی دراصل انکی اپنی ہی صفوں میں موجود قرضے معاف کرانے والوں اور قبضہ مافیا کیخلاف ہے جنہوں نے قرضے بھی معاف کرائے اور آف شور کمپنیاں بھی بنائیں۔ انہوں نے کہا بلاول وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں’ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ انکی پارٹی اور انکے والد آصف علی زرداری کے دور حکومت میں کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم رہا اور اگر انکے والد کی کرپشن کے ایک بھی میگا سکینڈل کی تفصیلات سامنے آگئیں تو بلاول دم دبا کر لاڑکانہ جا بیٹھے گا۔ انکے بقول اس بچے نے ابھی آگے جانا ہے اس لئے اسے سوچ سمجھ کر وہی بات کرنا چاہیے جو اسکی پارٹی سہہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اب ماضی پر رونے دھونے کی بجائے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ انکے بقول وزیراعظم نوازشریف نے ”بڑے خان صاحب” کے عدالتی کمیشن کے قیام کے مطالبہ پر چیف جسٹس کو خط لکھ دیا ہے’ آپ کمیشن کی تحقیقات شروع ہونے دیں’ اسکی روشنی میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا۔

احتساب کے نعرے پر اپوزیشن کی جارحانہ سیاست کا آغاز تو پانامہ پیپرز کے افشاکے بعد ہوا ہے جبکہ حکمران اشرافیہ طبقات کی کرپشن اور قومی وسائل و خزانے کی لوٹ مار کی داستانیں سن سن کر قوم تو گزشتہ دہائی سے بے لاگ احتساب اور معاشرے کے کرپٹ عناصر پر بلاامتیاز قانون و انصاف کی عملداری کی متقاضی ہے مگر بدقسمتی سے احتساب کا عمل سول حکمرانیوں سے جرنیلی آمریتوں تک کسی نے بھی خلوص نیت سے شروع نہیں کیا۔ اگر احتساب کا عمل شروع ہوا تو اسے سیاسی انتقامی کارروائیوں کیلئے بروئے کار لایا جانے لگا جس کے باعث بلاامتیاز احتساب کا تقاضا آج تک پورا نہیں ہو سکا۔ جرنیلی آمریتیں تو احتساب کے دلفریب نعرے کے ساتھ ہی ماورائے آئین اقدامات کے تحت اقتدار پر براجمان ہوتی رہی ہیں جو طاقت و اختیار کا یکا وتنہا منبع ہونے کے ناطے معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کا مصمم ارادہ کرتیں تو کوئی انکے ہاتھ روک نہ سکتا مگر جرنیلی آمر اپنے غیرآئینی اقتدار کو سیاسی سپورٹ دلانے کی خاطر ان لوگوں کے ساتھ ہی این آر او کرتے رہے جن کی اختیارات سے متجاوز اور کرپشن کی داستانیں سنا سنا کر وہ اپنے اقتدار کا جواز نکالا کرتے تھے۔ اسی طرح سول حکمرانوں نے احتساب کے معروف نعرے کو سیاسی مخالفین کی کردار کشی کیلئے استعمال کیا چنانچہ احتساب کو بھی آئین کی دفعہ 6 بنا دیا گیا جس کی عملداری کا تقاضا تو کیا جاتا ہے مگر اسکی عملداری کی کبھی نوبت نہیں آنے دی جاتی۔ یہ حقیقت ہے کہ احتساب کے نعرے کو محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال کرنے کی روش نے ہی حکمران اشرافیہ کلچر کو تقویت پہنچائی ہے جس کا مطمع? نظر اپنے اپنے اقتدار میں ایک دوسرے کی لوٹ مار کو تحفظ فراہم کرنا اور مزید لوٹ مار کے نئے راستے نکالنا ہوتا ہے۔

Accountability

Accountability

قوم کے ذہنوں سے یہ حقیقت بھی ابھی محو نہیں ہوئی ہوگی کہ جنرل (ر) مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو جمہوری حکومت کی بساط الٹوانے کے بعد اپنے ماورائے آئین اقتدار کے آغاز ہی میں نیب کا ادارہ تشکیل دے کر بے لاگ احتساب کو اپنی حکمرانی کا مطمع? نظر بنایا تھا چنانچہ اسی وقت سٹیٹ بنک کی جانب سے کروڑوں’ اربوں روپے کے قرضے معاف کرانے والوں کی ایک طویل فہرست سپریم کورٹ میں پیش کی گئی۔ اگر مشرف آمریت احتساب کے نعرے میں مخلص ہوتی تو سب سے پہلے قومی خزانے سے بھاری قرضے لیکر ہڑپ کرنیوالی ان سب چھوٹی بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالتی اور انکے شکموں سے ہضم کئے گئے قرضوں کی رقوم نکلوا کر قومی خزانے میں واپس جمع کرائی جاتیںمگر چند روزہ شورشرابے کے بعد قرض خوروں کی فائلیں واپس شیلفوں کی زینت بن گئیں اور یہ طرفہ تماشا ہے کہ قرضے معاف کرنے کا عمل مشرف کے اپنے دور حکومت میں بھی جاری رکھا گیا۔ چنانچہ آج پاکدامنی کا لیبل لگا کر بے لاگ احتساب کے نعرے لگانے والے عناصر ہی قرضوں کی معافی کے کلچر میں ڈبکیاں لگاتے رہے ہیں جبکہ مشرف آمریت کے سہارے اور اسکے بعد آنیوالی سول جمہوری حکومتوں میں تو قومی معاہدوں میں کمیشن اور کک بیکس کے ذریعے کرپشن کلچر کو کھلے عام پروان چڑھایاگیا۔ ایسی ہی صورتحال ضیاء آمریت کے بعد قائم ہونیوالی سول حکومتوں کے ادوار میں بھی قائم ہوئی تھی جبکہ ایک دوسرے کے بعد آنیوالے سول حکمرانوں نے قومی احتساب بیورو کے ذریعے احتساب کے عمل کو ایک دوسرے کیخلاف سیاسی انتقامی کارروائیوں کیلئے تو ضرور استعمال کیا مگر پھر چارٹر آف ڈیموکریسی کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ این آراو بھی کرلیا۔

اس پس منظر میں مقتدر حلقوں اور حکمران اشرافیہ طبقات کے ہاتھوں راندہ? درگاہ ہونیوالے عوام تو حقیقی اور بے لاگ احتساب کے ہمیشہ متمنی رہے ہیں جو عمران خان کے ”نیا پاکستان” اور طاہرالقادری کے ”پہلے احتساب پھر انتخاب” کے نعروں کے چکموں میں بھی آتے رہے مگر آج تک ان کا بے لاگ احتساب کا خواب شرمندہ? تعبیر نہیں ہو سکا جبکہ عوام کا مقدر بے رحم اور بے لاگ احتساب کو حقیقت کے قالب میں ڈھال کر ہی سنوارا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں آج پانامہ پیپرز کی بنیاد پر اپوزیشن بالخصوص تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کی قیادتیں وفاقی حکمرانوں کو اقتدار کے شکنجے میں لانے پر مصر ہیں اور اسکے جواب میں حکمران مسلم لیگ (ن) کی قیادتیں قرضے معاف کرانے والوں سمیت سب کے احتساب کی باتیں کررہی ہیں جیسا کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے اعلان کیا ہے کہ اب بے لاگ احتساب کا وقت آگیا ہے جس میں جج’ جرنیل’ سیاست دان’ بیوروکریٹ سمیت کوئی بھی نہیں بچنا چاہیے تو احتساب کے نعرے پر اپوزیشن کی سیاست کے باوصف وفاقی حکومت کو ریاستی مشینری بروئے کار لا کر احتساب کا ایسا عمل شروع کر دینا چاہیے جو قوم کو نظر بھی آئے اور اسکے بے لاگ ہونے میں کوئی شبہ بھی نہ رہے۔

Nawaz Sharif

Nawaz Sharif

وزیراعظم نوازشریف نے میڈیا سے گفتگو کے دوران خود کو اپنے خاندان سمیت چیف جسٹس سپریم کورٹ کے سپرد کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ پیشکش بھی کردی کہ چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کے ذریعے احتساب کا عمل انکی ذات سے شروع کرسکتے ہیں تو بجائے اسکے کہ احتساب کے نعرے پر محض پوائنٹ سکورنگ اور بلیم گیم کی سیاست کا دامن تھامے رکھا جائے’ اپوزیشن کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی معاونت کرنی چاہیے اور ایسے حالات پیدا نہیں کرنے چاہئیں جس سے زچ ہو کر فاضل چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کیلئے عدلیہ میں سے کوئی جج فراہم کرنے سے ہی معذرت کرلیں۔ گزشتہ روز لاہور میں تحریک انصاف کے پبلک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے جس انداز میں بلیم گیم کو پروان چڑھایا’ کسی بھی وقت رائے ونڈ جانے کی کال دینے کا عندیہ دیا اور وزیراعظم کے استعفے کا اعادہ کیا اس سے بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ احتساب کے نعرے پر صرف حکومت گرانے کی سیاست کررہے ہیں ورنہ وہ احتساب کا عمل شروع کرانے میں مخلص ہوں تو انہیں وزیراعظم کی پیشکش قبول کرکے سپریم کورٹ کے ماتحت جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس پر مکمل اعتماد کا اظہار کرنا چاہیے اور بے لاگ احتساب کے حوالے سے اپنے سارے تحفظات جوڈیشل کمیشن میں پیش کرنے چاہئیں۔ اسی طرح اگر احتساب کے نعرے لگانے والی سیاسی قیادتیں احتساب کیلئے مخلص ہوں تو عوام کے منتخب فورم پارلیمنٹ کو بھی اس مقصد کیلئے بروئے کار لایا جاسکتا ہے جس پر قوم کو بھی اعتماد ہوگا’

اگر پانامہ پیپرز کے افشاء کے بعد آف شور کمپنی کے معاملہ میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے پارلیمنٹ سے رجوع کرکے خود کو کلیئر کرایا ہے نتیجتاً ان کیخلاف عوامی تحریک کا زور بھی ٹوٹ گیا ہے تو ہمارے حکمران اور احتساب کے نعرے لگانے والے سیاست دان بھی اپنے اپنے معاملہ میں انصاف کیلئے پارلیمنٹ سے رجوع کرسکتے ہیں جو بے شک اتفاق رائے سے جوڈیشل کمیشن کے سربراہ کا خود تعین کردے۔ اس سے کم از کم بے لاگ احتساب کی راہ تو ہموار ہو جائیگی۔ اگر ماضی کی طرح اب بھی احتساب کے نعرے پر محض سیاست ہوتی رہی اور اس نعرے کی بنیاد پر حکومت گرانا ہی اپوزیشن کا ایجنڈا بنا رہا تو بے لاگ احتساب کیلئے قوم کے دلوں میں پیدا ہونیوالی امید کی کرن پھر دم توڑ جائیگی اور معاشرے کے معروف کرپٹ عناصر کو پھر کھلے عام لوٹ مار کا موقع مل جائیگا۔ یقیناً بے لاگ احتساب کا تقاضا تبھی پورا ہوگا جب وزیراعلیٰ شہبازشریف کے بقول جج’ جرنیل’ جرنلسٹ’ سیاست دان اور بیوروکریٹ سب اسکی زد میں آئینگے اور قومی دولت و وسائل کی لوٹ مار کی سزا بھگتیں گے۔ احتساب کے نعرے پر سیاست کرنیوالوں کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سسٹم کی بقاء و استحکام بھی بے لاگ احتساب کے عمل کو یقینی بنانے سے ہی ممکن ہے۔ احتساب کے نعرے پر مفاداتی سیاست کو پروان چڑھایا جائیگا تو ماورائے آئین اقدام کی خواہش پالنے والے طالع آزمائوں کو جمہوریت کی گاڑی ٹریک سے اتارنے کا پھر نادر موقع مل جائیگا۔

Syed Tauqeer Hussain Zaidi

Syed Tauqeer Hussain Zaidi

تحریر : سید توقیر حسین