طاہر القادری کا عید کے بعد فیصل آباد، راولپنڈی اور ملتان میں احتجاج کرنیکا اعلان

Tahir-ul-Qadri

Tahir-ul-Qadri

لاہور (جیوڈیسک) سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی چور پکڑا گیا ہے، قاتل باقی ہے، نواز شریف کے پیچھے اصل قوت پنجاب کا اقتدار ہے، نواز شریف کہتے ہیں آئین میں ترمیم کریں گے، نواز شریف آئین سے امانت اور صداقت کو نکالنا چاہتے ہیں، ووٹ کا تقدس بھی نواز شریف نے ہی پامال کیا، نواز شریف ارکان اسمبلی کی بولیاں لگاتے ہیں، نواز شریف نے صدر کے ساتھ مل کر بے نظیر کو نکالا، سیاست میں کرپشن کو متعارف کرایا، چھانگا مانگا کی سیاست متعارف کروائی، پاکستان کے جمہوری نظام کو تباہ و برباد کیا، 10 سال تک ضیاء الحق کی گود میں پرورش پائی اور 35 سال سے ملک میں برسراقتدار ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے مزید کہا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نظام بدلنا یاد آیا ہے جبکہ شہباز شریف کہتے ہیں کہ اشرافیہ نے ملک لوٹ لیا ہے، شہباز شریف صاحب! کیا آپ کو پتہ ہے اشرافیہ کسے کہتے ہیں؟ اشرافیہ کا مطلب ہے شریف برادران کی حکومت، شہباز شریف واقعی سچ کہہ رہے ہیں، وہ لوٹ کر کھا گئے ہیں، نواز شریف کا انقلاب “نواز شہباز بچاؤ” انقلاب ہے، نواز شریف جی ٹی روڈ پر مجھے برا بھلا کہتے رہے، وہ دونوں عنقریب سزا پانے والے ہیں۔

طاہر القادری نے مزید کہا کہ آپ بیریئر ہٹانے نہیں کیریئر بنانے گئے تھے، آرٹیکل 62، 63 کا سبق میں نے پڑھایا تھا، پولیس کے ذریعے ماڈل ٹاؤن میں قتل عام کرایا گیا، ماڈل ٹاؤن کے شہداء کا کیا قصور تھا؟ جسٹس باقر نجفی کی کمیشن رپورٹ پبلک کر دیں۔ طاہر القادری نے عید کے بعد فیصل آباد میں ریلی نکالنے کا اعلان کر دیا، کہتے ہیں راولپنڈی اور ملتان سمیت ہر شہر میں احتجاج کریں گے، ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے کہ جسٹس نجفی کی رپورٹ عام کی جائے۔

طاہر القادری نے مزید کہا کہ نواز شریف نے آج پوچھا کہ کس لئے نکالا اور شہباز شریف کل پوچھیں گے کہ مجھے کس لئے نکالا؟ لیکن چاہے کچھ ہو جائے ان کو سزا ملے گی۔ انہوں نے مجھے کس لئے نکالا؟ کے عنوان سے ایک طویل نظم بھی پڑھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ

اگر پوچھتے ہو ہم سے مجھے کس لئے نکالا؟
کسی اور نے نہیں تجھے اللہ نے نکالا
اقامہ بھی چھپایا اور مال حرام کمایا
کرپشن کی انتہاء کی اور خون بھی بہایا
شہداء کے وارثوں کو تو نے تین سال تک ستایا
تجھے اس لئے نکالا، تجھے اس لئے نکالا

ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ وہ 9 بجے دوبارہ خطاب کریں گے۔ تاہم کچھ مقررین کے خطاب کے بعد وہ کچھ دیر کیلئے پھر ڈائس پر آئے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے حکمرانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ظالمو! احتجاج نواز شریف، شہباز شریف کی ریاستی دہشت گردی کیخلاف ہے، ہمارا احتجاج چیف جسٹس کیخلاف نہیں ہے۔ طاہر القادری نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو مخاطب کرکے کہا، شہباز شریف صاحب! آپ کے بھی بیٹے، بیٹیاں ہیں، کئی سال گزر گئے، انصاف نہیں مل رہا، بے گناہوں کو شہید کیا گیا۔

بعد ازاں، تمام مقررین کے بعد، ڈاکٹر طاہر القادری ایک بار پھر ڈائس پر آئے اور دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا، بولے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے تحت دھرنا ختم کرتے ہیں، ہم نواز شریف کی طرح عدلیہ کو گالیاں نہیں دینگے، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ٹھیک 10 بجے دھرنا ختم کرتے ہیں لیکن انصاف کے حصول کیلئے احتجاج کا یہ سفر جاری رہے گا اور اگلا احتجاج فیصل آباد میں ہو گا، انصاف اور قصاص لے کر رہیں گے، شریف برادران میرے غریب کارکنوں کو نہیں خرید سکتے، یہ فقیری نہیں بیچتے، فقیری پر ناز کرتے ہیں، ماؤں، بیٹیوں کے سمندر میں جے آئی ٹی ممبران کو لاکھ مرتبہ سلام کرتا ہوں، جے آئی ٹی ممبران نے انصاف کی تاریخ رقم کی، سپریم کورٹ کے جج صاحبان مبارکباد کے مستحق ہیں۔