مصر کے سابق صدر کی عدالت میں تیسری پیشی

hosni mubarak

hosni mubarak

مصر کیسابق  صدر   حسنی مبارک  بد عنوانی اور مظاہرین کو قتل کرنے کے الزام میں پیر کے روزعدالت میں پیش ہوئے۔ یہ ان کی تیسری پیشی تھی۔  گزشتہ دو سماعتوں کی طرح  آج بھی مسٹر مبارک کوسٹریچر پر عدالت میں لایا گیا۔ عدالتی کاروائی کو ٹیلیویژن پر نشر نہیں کیا گیا اور نہ ہی عدالت میں موجود صحافیوں کو اپنا موبائل فون اندر لے جانے کی اجازت تھی۔   کمرہ عدالت میں جنوری میں ہلاک ہونے والے افراد کے عزیز و اقارب نے صدر کے وکلا پر طنز کئے اور گاہے گاہے ان پر پانی کی بوتلیں پھینکیں۔ادھر اس پولیس اکیڈمی کے باہر جہاں  ان کے خلاف مقدمے کی سماعت ہو رہی تھی،حسنی مبارک کے مخالفین نے  پولیس پر پتھرا کیا اور راستے میں کھڑی کی گئی رکاٹوں کو گرا دیا۔  بعد میں پولیس نے اس ہجوم کو باہر دھکیل دیا جس میں بیشتر نوجوان شامل تھے۔اس موقعہ پر موجود محمد باکری نے بتایا کہ ہجوم بہت بڑا تھا۔  کمرہ عدالت میں  لوگ دست و گریباں ہو رہے تھے اور ایک دوسرے پر پانی کی بوتلیں  پھینک رہے تھے۔   بیشتر وکیل کمرہ عدالت سے اس لئے باہر چلے گئے کہ کہیں زخمی نہ ہو جائیں۔ تاہم،  وہ اس بات  پر حیران تھے کہ لوگ کمرہ عدالت میں کس طرح داخل ہوئے کیونکہ سب کی جامہ تلاشی ہوئی تھی۔مصر کے ایک آزمودہ کار ایڈیٹر اور ناشر ہشام قاسم  کہتے ہیں کہ عدالت میں ڈارامائی مناظر کے باوجود کاروائی جاری رہی۔ ان کا خیال ہے کہ جج صاحبان منصفانہ کاروائی کو ممکن بنانے کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور یہ مقدمہ پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔کاروائی کے دوران مصر کے سابق صدر نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ انہوں نے مظاہرین کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ عوامی بغاوت میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریبا850رہی۔    اِس تحریک نے ان کے تیس سالہ دورِ اقتدار کا خاتمہ کیا۔مسٹر مبارک اور ان کیدو صاحبزادوں کو بھی بد عنوانی کے الزامات کا سامنا ہے۔ سابق وزیر داخلہ حبیب العدلی  اور ان کے چھ ماتحتوں پر بھی سابق صادر کے ساتھ مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔  انہیں بھی مظاہرین کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ عدلی نے مبینہ طور پر جج سے کہا کہ ان پر الگ سے مقدمہ چلایا جائے۔