نائجیریا: قدامت پسند مذہبی گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی

Nigeria Bomb Building

Nigeria Bomb Building

نائیجریا کے ایک قدامت پسند اسلامی گروپ نیابوجا میں اقوام متحدہ کی عمارت پر ہونے والے کار بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جِس میں کم از کم 18افراد ہلاک ہوئے۔عینی شاہدین کے مطابق جمعے کے روز گیٹ پر ایک موٹر گاڑی سکیورٹی کے محافذوں  کو جھانسہ دے کرمقامی وقت کے مطابق 11بجے صبح زبردستی وسیع کمپلیکس  کے اندر داخل ہوئی۔ امدادی کارکنوں نے لاشوں اور زندہ بچ جانے والوں کو ملبے تلے سے نکالا۔قدامت پسند گروپ کے ترجمان، بوکو حرم نے ٹیلی فون پر وائس آف امریکہ کی نائجیریا کی  ہوسہ سروس کو بتایا کہ یہ بم دھماکہابھی ا یک ابتدا ہے۔نیو یارک میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ان کے پاس اموات کی  تعداد موجودنہیں ہے، تاہم  بتایا کہ کافی افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔مسٹر بان نے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کوبتایا کہ دہشت گردی کی ایسے حملے گوارا نہیں کیے جاسکتے اور انتباہ دیا کہ  یہ نہیں سمجھا جانا چاہیئے کہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے دفاتر  پر آسانی کے ساتھ حملہ کیا جاسکتا ہے۔ابوجا میں اقوام متحدہ کیدفتر کے احاطے کے اندر تقریبا  400افراد کام کرتے ہیں، جہاں انسانی بنیادوں پر 26ترقیاتی ادارے کام کرتے ہیں۔سکریٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ایک ٹیم  نائجیریا کے دارالحکومت کا دورہ کرکے صورتِ حال کا جائزہ لے گی۔  انھوں نے   کسی طرح کی قیاس آرائی سے احتراز کیا کہ بم حملے کس کی ایما پر سرزد ہوئے۔