یوم عرفہ

Mohammad

Mohammad

اس دن دین اسلام کی تکمیل اورنعتموں کا اتمام ہوا

صحیحین میں عمربن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث مروی ہے کہ ایک یھودی نے عمربن خطاب سے کہا اے امیر المومنین تم ایک آیت قرآن مجید میں پڑھتے ہو اگروہ آیت ہم یھودیوں پرنازل ہوتی توہم اس دن کو عید کا دن بناتے عمررضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے وہ کون سی آیت ہے ؟

اس نے کہا : { الیوم أكملت لكم دینكم وأتممت علیكم نعمتی ورضیت لكم الإسلام دینا } المائدة :3 .

آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کوکامل کردیا اورتم پراپناانعام بھر پور کردیا اورتمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پررضامند ہوگیا ۔

توعمررضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے :

ہمیں اس دن اورجگہ کا بھی علم ہے ، جب یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہوئ وہ جمعہ کا دن تھا اورنبی صلی اللہ علیہ عرفہ میں تھے ۔

2 – عرفہ میں وقوف کرنے والوں کے لیے عید کا دن ہے :

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

یوم عرفہ اوریوم النحر اورایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید کےدن ہیں اوریہ سب کھانے پینے کے دن ہیں ۔

اسے اصحاب السنن نے روایت کیا ہے ۔

اورعمربن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا :

یہ آیت { الیوم اکملت } جمعہ اورعرفہ والے دن نازل ہوئ ، اوریہ دونوں ہمارے لیے عید کے دن ہیں ۔

3 – یہ ایسا دن ہے جس کی اللہ تعالی نے قسم اٹھائ ہے :

اورعظیم الشان اورمرتبہ والی ذات قسم بھی عظیم الشان والی چیز کے ساتھ اٹھاتی ہے ، اوریہی وہ یوم المشہود ہے جو اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں کہا ہے :

{ وشاهد ومشهود } البروج ( 3 ) حاضرہونے والے اورحاضرکیے گۓ کی قسم ۔

ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :

( یوم موعود قیامت کا دن اوریوم مشہود عرفہ کا دن اورشاھد جمعہ کا دن ہے ) اسے امام ترمذی نے روایت کیا اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے حسن قرار دیا ہے ۔

اوریہی دن الوتر بھی ہے جس کی اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں قسم اٹھائ ہے { والشفع والوتر } اورجفت اورطاق کی قسم ۔ الفجر ( 3 )

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں الشفع عیدالاضحی اورالوتر یوم عرفہ ہے ، عکرمہ اورضحاک رحمہ اللہ تعالی کا قول بھی یہی ہے ۔

4 – اس دن کا روزہ دوسال کے گناہوں کا کفارہ ہے :

قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عرفہ کے روزہ کےبارہ میں فرمایا :

( یہ گزرے ہوۓ اورآنے والے سال کے گناہوں کاکفارہ ہے ) صحیح مسلم ۔

یہ روزہ حاجی کے لیے رکھنا مستحب نہیں اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ررزہ ترک کیا تھا ، اوریہ بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عرفہ کا میدان عرفات میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ، لھذا حاجی کے علاوہ باقی سب کے لیے یہ روزہ رکھنا مستحب ہے ۔

5 – یہ وہی دن ہے جس میں اللہ تعالی نے اولاد آدم سے عھد میثاق لیاتھا :

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( بلاشبہ اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کی ذریت سے عرفہ میں میثاق لیا اورآدم علیہ السلام کی پشت سے ساری ذریت نکال کرذروں کی مانند اپنے سامنے پھیلا دی اوران سے آمنے سامنے بات کرتے ہوۓ فرمایا :

{ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواب دیا کیون نہیں ! ہم سب گواہ بنتے ہیں ، تا کہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ تم تو اس محض بے خـبر تھے ، یا یوں کہو کہ پہلے پہلے شرک توہمارے بڑوں نے کیا اورہم توان کے بعد ان کی نسل میں ہوۓ ، توکیا ان غلط راہ والوں کے فعل پرتو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا ؟ } الاعراف ( 172- 173 ) مسند احمد ، علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کوصحیح قرار دیا ہے ۔ تواس طرح کتنا ہی عظیم دن اورکتنا ہی عظیم عھدو میثاق ہے ۔

6 – اس دن میدان عرفات میں وقوف کرنےوالوں کوگناہوں کی بخشش اور آگ سے آزادی ملتی ہے :

صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا حدیث مروی ہے کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اللہ تعالی یوم عرفہ سے زیادہ کسی اوردن میں اپنے بندوں کوآگ سے آزادی نہیں دیتا ، اوربلاشبہ اللہ تعالی ان کے قریب ہوتا اورپھرفرشتوں کےسامنے ان سے فخرکرکے فرماتا ہے یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ )

عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اللہ تعالی یوم عرفہ کی شام فرشتوں سے میدان عرفات میں وقوف کرنے والوں کےساتھ فخرکرتے ہوۓ کہتے ہیں میرے ان بندوں کودیکھو میرے پاس گردوغبار سے اٹے ہوۓ آۓ ہیں ) مسند احمد علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کوصحیح قرار دیا ہے ۔