افغانستان میں فورسز کی کارروائیوں میں 26 دہشت گرد ہلاک، متعدد ٹھکانے تباہ

Afghanistan

Afghanistan

کابل (جیوڈیسک) افغانستان میں دہشت گردوں کیخلاف فورسز کی کارروائیں جاری ہیں، ننگرہار،غزنی اور لوگر میں26 دہشت گردمارے گئے جب کہ فضائی حملوں میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے بھی تباہ کردیے گئے۔

ارزگان صوبے میں طالبان کے چیک پوسٹ پرحملے میں 10افغان فوجی ہلاک ہوگئے،طالبان نے رمضان کے مقدس مہینے میں جنگ بندی کی تجویزمستردکرتے ہوئے حملوں میں تیزی لانے کااعلان کردیا۔ رمضان میں جنگ بندی کی تجویزاقوام متحدہ کے افغانستان میں مشن اور افغان حکومت کے زیر نگرانی قائم اعلیٰ امن کونسل کی جانب سے دی گئی تھی۔

علاوہ ازیں افغان وزارت داخلہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کیخلاف لڑنے میں مسلح باغیوں کی مدد کررہی ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان نکولس ہیثم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ رمضان کے دوران میں تمام گروہوں سے درخواست کروں گا کہ وہ ماہ مقدس کے تقدس کا خیال کرتے ہوئے جنگ بندی کردیں۔

جنگ بندی کی تجویز آنے کے بعد افغان طالبان نے بلاتردد اس پیشکش کو مسترد کردیا۔ ترجمان تحریک طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ جہاد ایک اہم ذمے داری اور افضل ترین عبادت ہے۔ ہمارا جہاد رمضان المبارک کے دوران مزید مضبوطی اختیار کرے گا اور ہم مزید شدت سے حملے کریں گے کیونکہ رمضان المبارک کے دوران نیکی کا اجر 70 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ دریں اثنا صوبہ ارزگان میں طالبان کے حملے میں 10 افغان فوجی ہلاک ہوگئے جب کہ عسکریت پسندوں نے 12 کو یرغمال بنالیا۔ طالبان نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔

افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، ننگرہار میں 5، غزنی میں 14 اور لوگرمیں7 شدت پسند مارے گئے ایک کو گرفتار کرلیا گیا، دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔ طالبان کے حملے میں جاں بحق ہونے والے افغان صحافی ذبیح اللہ تمنہ کی تدفین منگل کے روز کابل میں ہوئی جس میں شدید گرمی کے باوجود سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ تمنہ کے لواحقین میں بیوہ، 2 لڑکے اور ایک لڑکی شامل ہیں۔