ایئر پورٹ سوسائٹی کے مکین پانی کی بوند بوند کو ترس گئے۔ٹینکرز مافیا کا راج

Water

Water

اسلام آباد: جی ہاں یہ کوئی دور دراز کا علاقہ نہیں وزیر داخلہ کے حلقے میں شامل ایک پوش سوسائٹی ہے جو پانی بجلی اور راستے کی سہولتوں سے محروم ہے۔

گزشتہ کئی دنوں سے عوام سراپہ ء احتجاج بنے ہوئے ہیں سیکٹر فور کے مکینوں نے سڑک پر آ کر احتجاج کیا سیکٹر تھری اور دیگر سیکٹروں کے لوگ بھی پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں ۔یہ وہ بدقسمت لوگوں کا علاقہ ہے جن کی جائدادوں کی قیمت گر چکی ہے لوگ یہاں سے مکان بیچ کر دوسری جگہوں پر منتقل ہیں۔کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ انتظامیہ تو نا اہل اور کرپٹ ہے ہی اسے تحریک انصاف کا ساتھ دینے کی سزا دی جا رہی ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے منتحب کونسلر پر بھی الزام ہے کہ وہ انتظامیہ سے مل کر مال پانی بنا رہا ہے ۔ٹینکروں والوں سے پوچھو تو بل کا رونا روتے ہیں جو انہیں نہیں دئے گئے۔

ایم پی اے اور ایم این اے اور یو سی کے چیئرمین جن کا تعل تعلق حکمران جماعت سے ہیں آنکھوں میں سرمہ ڈالنے کو بھی نہیں ملتے۔حالت یہ ہے کہ آئے دن سوسائٹی انتظامیہ کے دفتر میں ہنگامہ آرائی ہوتی ہے۔کوآپریٹو کے حکام کالی ٹینکی کے پاس بیٹھ کر کالے دھندے کرنے والی انتظامیہ کے ساتھ مل کر وزیر اعلی اور سیکرٹری کو سب اچھا کی رپورٹ دے دیتے ہیں۔رہائیشی علاقے کو کمرشل کر دیا گیا ہے ناجائز تجاوزات نے مکینوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔

حالت یہ ہے کہ گزشتہ جمعے کی نماز کے لئے پانی نہیں تھا اور لوگ عین وقت پر نماز نہ پڑھ سکے۔ایک راستہ ایکسپریس وے کو نکلتا ہے جو صرف تین سو میٹر کچا ہے وہاں وزیر داخلہ کے نام کی تختی ان کا منہ چڑا رہی ہے۔سوسائٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹینکر مافیا بوگس بل دے کر مال پانی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ریاض نامی پولیس کا ملازم جس کے ٹینکروں کی تعداد بے شمار ہے اس کا کہنا ہے کہ بل ملیں گے تو پانی ملے گا ورنہ قیمت ایک ہزار روپے ہے۔لوگ اس وقت سر پیٹنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر رہے۔وزیر اعلی اس اہم مسئلے پر توجہ دیں۔