المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام کامران غنی صبا کے اعزاز میں نشست

Kamran Ghani

Kamran Ghani

دربھنگہ (نمائندہ) المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام ڈاکٹر آفتاب حسین کمپلکس، دمری منزل سبھاش چوک دربھنگہ میں نوجوان شاعر وادیب اور دربھنگہ ٹائمز کے نائب مدیر کامران غنی صبا کی دربھنگہ آمد پر اعزازیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مہمان کے طورپر حاجی پور سے تعلق رکھنے والے نوجوان قلمکار عارف حسن وسطوی شامل ہوئے۔ نظامت ٹرسٹ کے سکریٹری ڈاکٹر منصور خوشتر نے کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں نئی نسل سے تعلق رکھنے والے شعراء میں ایک نام تیزی سے ابھر کر سامنے آیا ہے اور وہ نام ہے ‘کامران غنی صبا’۔ صبا ایک علمی وادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہر چند کہ وہ درس وتدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں لیکن ادب وصحافت کا نشہ ان کے رگ وپے میں داخل ہو چکا ہے ۔ کامران غنی صبا کی تخلیقات اخبارات ورسائل میں شائع ہوتی رہتی ہیں ۔کچھ دنوں قبل ان کی ایک نظم”مجھے آزاد ہونا ہے ” پر نظر پڑی، نظم کی پہلی قرأت نے ہی مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ نظم گرچہ خود کلامی کے انداز میں لکھی گئی ہے لیکن نظم کی قرأت کیجئے تو ایسا محسوس ہوتاہے کہ شاعر نے قاری کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگا دیا ہے ۔ کامران غنی صبا ایک کامیاب شاعر ہیں ۔ انہوں نے غزلیں بھی کہی ہیں اور نظمیں بھی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان کی نظموں میں زیادہ گہرائی اور بصیرت ہے ۔ ”پیامِ صبا” کی اشاعت پر انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ کامرانی کی منزلیں اسی طرح آپ کے قدم چومتی رہیں۔ڈاکٹر انتخاب احمد ہاشمی نے کہا کہ کامران غنی صبا تعمیری وفکری نظم تخلیق کرنے پر قدرتِ کاملہ رکھتے ہیں ۔ پابند نظموں کے ساتھ آزاد نظموں میں بھی کامران غنی کا شعری حسن قاری کو ایک خوبصورت شاعری سے روشناس کراتا ہے ۔ عہدِ حاضر کے حالات ومسائل پر کامران غنی کی گہری نگاہ ہے ۔اس موقع پر ڈاکٹر احسان عالم نے کہا کہ کامران غنی صبا اپنی عمر کی مناسبت سے کافی صلاحیت مند ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے خاص نظریے کو آشکار کرتی ہے ۔ وہ نظریہ انسانی جذبے سے سرشار ہے ۔ ان کے اشعار ان کی ایمانی حرارت کے آئینہ دار ہیں۔

مہمانِ خصوصی عارف حسن وسطوی(حاجی پور) نے کہا کہ شاعر ، ادیب اور صحافی کی حیثیت سے کامران غنی صبا کی حیثیت مسلّم ہے ۔ پیشے کے اعتبار سے وہ درس وتدریس سے وابستہ ہیں ۔شعروادب سے ان کی وابستگی والہانہ ہے ۔عمدہ شاعری کے ساتھ ساتھ خوبصور ت نثر لکھتے ہیں ۔انور آفاقی اور نوجوان افسانہ نگار ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے کہا کہ کامران غنی صبا کی آزاد شاعری میں خود کلامی کا انداز پایا جاتا ہے ۔ قاری ان کے اشعار پڑھ کر اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ ان کی شاعری ایک صالح معاشرے کی تشکیل کی جانب بہترین پیش رفت ہے ۔ کامران غنی صبا کی شاعری باغیانہ تیور نہیں رکھتی ۔ وہ سماج ومعاشرے کی بے سمتی کا شکوہ ضرور کرتے ہیں ۔ لیکن اسی معاشرے میں رہ کر اس کی اصلاح کے بھی متمنی ہیں۔ڈاکٹر احسان عالم نے اس موقع پر کہا کہ کامران غنی صبا کی آزاد نظم ”مجھے آزا د ہونا ہے ” بہت مشہور ہے ۔ یہ نظم ایک باکمال نوجوان کی فکر انگیز تخلیق ہے ۔ جس میں دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔

کامران غنی صبا کی نظم ”مجھے آزا د ہونا ہے ” ان کے پاکیزہ قلب وذہن کی پیداوار ہے ۔ ا س نظم کا مطالعہ ان کی نکہتی سوچ وفکر کی غمّاز ہے ۔ کامران غنی صبا نے سبھی معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات کی مسلسل حوصلہ افزائی اور محبتیں ہی میرے شعری شعور کو اعتماد اور پختگی عطا کرتی ہیں۔ انہو ںنے خاص طورسے المنصور ایجوکیشنل ٹرسٹ کی سرگرمیوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹرسٹ نے حالیہ چند برسوں میں اپنی ادبی سرگرمیوں سے جوعالمی شناخت حاصل کی ہے وہ ایک مثال ہے۔