عیادتِ مریض

Patient,Doctor

Patient,Doctor

تحریر : انیلا احمد
جو کسی مسلمان بھائی کی عیادت کو جائے اللہ تعالیٰ کے اِس پر بے بہا انعامات ہوتے ہیںـ کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ ایک صحابی حضرت موسیٰ اشارٰی ؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ بھوکے کو کھانا کھلاؤ مریض کی عیادت کرو اور ناحق بے گناہ قیدی کو آزاد کرو اسی طرح حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ جس نے اچھے طریقے سے وضو کیا یعنی تمام فرائض کے ساتھ اور اپنے بیمار بھائی کی عیادت کو گیا اس کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہو۔ تو وہ جہنم سے 60 سال کی مسافت کے بقدر دور ہو گیا۔

آپ اندازہ لگائیں کہ خالصة اپنے رب کی رضا کیلئے عیادت کو جانا کتنا عظیم اجر ہے۔ اگر ہر مسلمان اس جذبے کے تحت عیادتِ مریض کرے تو تمام معاشرے پر اس کے کتنے خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن آج کے ترقی یافتہ دور میں دیکھا گیا ہے مریض کی عیادت کو جانا دکھاوا بوجھ یا فیش کا کوئی حصہ سمجھ لیا گیا ہے۔ دوست یا عزیز و اقارب جاتے تو ضرور ہیں مگر اتنا شعور نہیں رکھتے کہ سوچیں یا دیکھیں کہ کہاں اور کس جگہہ بیٹھے ہیں روزمرہ معمول کی طرح ہنسی مذاق ٹھٹھے لگانا بات بے بات ایسی لغو بات کہہ جانا جو سننے والے کے لئے دل آزاری کا باعث بنتا ہے۔ مریض اور اس کے اہلِ خانہ سوچتے ہی رہ جاتے ہیں کہ اس پریشانی کے موقعے پے آنے والے کی غیر سنجیدہ بات کا کیا جواب دیا جائے۔

Allah

Allah

ایسے دوست اور رشتے دار انسان کی شرافت اور خاموشی کو بیوقوفی سمجھ کر جو ناروا رویہ اختیار کرتے ہیں وہ اپنی چرب زبانی کے زعم میں کیا کھو چکے ہیں اس کا انہیں احساس نہی ہوتا۔ ایسے حاسدین اور عزیز اسے اپنی عقلمندی سمجھتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ (وہ اپنے خاص منصب اور مقام جو ان کا ہوتا ہے کھو چکے ہیں) اور نظروں سے گِر جاتے ہیں۔ اُن کےکرخت الفاظ خود اُن کے اندر کی قلعی کھول دیتے ہے۔ جگہہ کا تعین کئے بغیر بے تکی ہانکنا کسی کی دل آزاری کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ایسے حاسدین بھول جاتے ہیں جو دکھ یا آزمائش اللہ پاک کسی کو دے سکتا ہے وہ ان کو بھی کبھی اسی کٹہرے میں لا کر کھڑا کر سکتا ہے تب بھی کیا تم اسی طرح ناجائز باتیں اور ہنسی مذاق کر سکتے ہو۔

اسی لئے کہتے ہیں کہ اپنے کردار کو جتنا اچھا رکھ سکتے ہو رکھو کیونکہ موت تو انسان کو مار سکتی ہے لیکن اچھا کردار اور بہترین زبان والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں دلوں میں بھی اور لفظوں میں بھی لیکن یہ سمجھنے کی اور احساس کی باتیں ہیں جو کم شعور اور ناقص العقل والوں میں ناپید ہیں اس طرح کے کم علم اور کم فہم دوسروں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اس طرح کے حاسدین دوسروں کے دکھ پر اپنی دلی خوشی کو دبانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں مگر اُس میں کامیاب نہیں ہوتے۔

Patient

Patient

اللہ تعالیٰ ایسے حاسدین اور منافقین جو مسلمان بھائیوں کے دکھ اور پریشانی پر خوش ہونے والوں کی شیطانی سوچوں سے تمام امتِ مسلمہ کی حفاظت کرے اور اِن کو اپنی اِصلاح کرنے کی توفیق دے کیونکہ شائدیہ خود بھی نہیں جانتے کہ ان کے اس غیر سنجیدہ رویے سے وہاں موجود مریض کے لواحقین کے دل اور دماغ پے کیا قیامت ٹوٹتی ہے اللہ پاک ہم سب کو ایک دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرنے عیادت کے احسن طریقوں کے مطابق عیادت کی توفیق دے آمین۔

تحریر : انیلا احمد