امریکہ میں تعینات ترک ایڈمرل لاپتا

Admiral Missing

Admiral Missing

واشنگٹن (جیوڈیسک) ایک ترک ایڈمرل لاپتا ہو گئے ہیں جن کے لیے بتایا جاتا ہے کہ اُنھوں نے پناہ کی درخواست کی ہے۔ اِس سے قبل ترک حکام نے اُنھیں ملک واپس آنے کے احکامات جاری کیے تھے، تاکہ وہ فوجی جاسوسی کے الزامات پر قانونی چارہ جوئی کا سامنا کریں۔

ترک بحریہ کے ریئر ایڈمرل، مصطفیٰ اُگرلو ورجینا میں واقع نیٹو اتحادی کمان کے نورفوک کے صدر دفتر میں تعینات رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اپنے شناختی کاغذات حوالے کرنے کے بعد، وہ 22 جولائی کو لاپتا ہوگئے۔

پندرہ جولائی کی بغاوت کے بعد گذشتہ ماہ ترک حکام نے اُگرلو سے گھر لوٹنے کے لیے کہا تھا۔

ایک ترک اہل کار نے رائٹرز خبر رساں ادارے کو بتایا ہےکہ ناکام بغاوت کے بعد امریکہ میں تعینات دیگر دو اہل کاروں کو ترکی واپس بلا لیا گیا تھا۔ تاہم، اُن میں سے کسی کو بھی حراست میں نہیں لیا گیا۔

امریکی بحریہ کے ایک اہل کار نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ 100 سے زائد ترک فوجی اہل کار امریکہ میں ہیں، جن میں سے کچھ نیٹو کے اڈے پر جب کہ تبادلے کی بنیاد پر کچھ اہل کار امریکی فوجی اداروں سے منسلک ہیں۔

اگرلو اُن سینکڑوں ترک فوجی عہدے داران میں سے ہیں جنھیں 22 جولائی کو اپنے فرائض سے علیحدہ کیا گیا تھا۔

محکمہٴ خارجہ، یو ایس سٹیزن شپ اینڈ اِمی گریشن سروسز اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے نے ابھی تک اگرلو کے معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا۔ اگرلو کے بارے میں معلومات کے تقاضے پر نیٹو نے اخباری نمائندوں سے کہا ہے کہ وہ ترک حکومت سے رابطہ کریں۔

ترکی میں اگرلو کو ازمیر میں سنہ 2011 کی سازش کے ایک مقدمے میں شامل تفتیش کیا گیا تھا، جس میں بحریہ کے کئی دیگر افسران شامل تھے۔ اگرلو کو حراست میں لینے کا حکم، جس میں اُنھیں زبردستی ترکی پیش ہونا تھا، اُسی عدالت کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔

اگرلو کے کیس کی بنا پر امریکہ اور ترکی کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

پہلے ہی ترکی نے جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے ایک عالم دین کی ملک واپسی کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔ ترکی نے فتح اللہ گولن، جو امریکی ریاست پنسلوانیا میں مقیم ہیں، پر الزام لگایا ہے کہ اُنھوں نے صدر رجب طیب اردوان کا تختہ الٹنے کی سازش کی تھی۔

جواب میں، امریکہ نے کہا ہے کہ اس کے لیے ترکی کو ثبوت فراہم کرنا ہوگا، جو کہ صدر کے ایک سابق ساتھی رہ چکے ہیں، تاکہ اُنھیں ترکی کے حوالے کیا جا سکے۔