جعلی عامل اور معصوم عوام

Fake Aamil

Fake Aamil

تحریر: نادیہ خان بلوچ
بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اشرف المخلوقات ہونے کے ساتھ ساتھ تمام سمجھ بوجھ عقل رکھنے کے باوجود ہمارے معاشرے میں خاندانی پیری مریدی اور عامل باباؤں پر یقین اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ ہماری رگوں میں خون کی طرح دوڑ رہا ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا. ہم میں سے یا پھر ہمارے آس پاس اکثر لوگ ایسے ہیں جنہیں اگر سر درد یا بخار کی شکایت ہونے لگے تو بجائے اسکے کہ اسے بیماری سمجھیں اسے جادو ٹونہ تعویز وغیرہ سمجھ لیتے ہیں اور اسکا علاج کسی ڈاکٹر یا نیم حکیم کے پاس ڈھونڈنے کی بجائے ایسے عامل بابا کے پاس ڈھونڈتے ہیں جو یہ دعوی کرے کہ اس کے پاس جناتی طاقت ہے کوئی کالی ماتا اسکے قبضے میں ہے وہ بنگالی بابا ہے اور وہ کالا جادو جیسا ناپاک کام جانتا ہے۔

آئے روز ایسے بے شمار واقعات سننے کو ملتے ہیں جن میں کوئی مریض کسی ایسے جعلی بابا کے ہتھے چڑھ کے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے. لوگوں کا ان جعلی باباؤں پر یقین اس قدر پختہ ہوچکا ہے کہ انکی باتوں میں آکر پاکیزگی سے بھی دور ہوجاتے ہیں اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے اپنیپیاروں کو اپنے ہاتھ سے قتل کردیتے ہیں. ایسا کئی بار ہوا ہے. بعض دفعہ ہم جیسی ہماری مائیں بہنیں گھریلو حالات سے گھبرا کر اپنی پریشانیوں کا حل ڈھونڈنے کیلئے ان کے پاس جاتی ہیں. مشکلیں تو حل نہیں ہوتیں مگر وہ اپنی عصمت ضرور لٹوا آتی ہیں اور بار بار ان کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہتی ہیں کبھی بدنامی کے ڈر سے خود اپنے آپ کو موت کو سونپ دیتی ہیں ایسے واقعات سننا تو جیسے اب ہمارا معمول ہی بن چکا ہے۔

Media

Media

صدیوں سے ان جعلی باباؤں کا کاروبار ہوتا چلا آرہا ہے. جوں جوں زمانے نے ترقی کی اسی طرح باباؤں کا کاروبار بھی خوب چمکنے لگا. اور ان عاملوں کیلئے سونے پر سہاگہ تو یہ ہے کہ انہیں اس میں ہمارے سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا دونوں کا ساتھ ہے. وال چاکنگ کے ذریعے تو کم پڑھی لکھی عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے جن کی زندگی ایک محلے تک ہی محدود ہوتی ہے مگر الیکٹرانک میڈیا،سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے ان لوگوں کو ان جعلی عاملوں کے ہتھے چڑھنے کی دعوت دی جاتی ہے جو ساری زندگی کتابوں،رسالوں میں یہی پڑھتے آئے ہیں کہ یہ سب فراڈ ہوتا ہیمگر جب وہ ڈپریشن کا شکار ہوں کوئی مشکل ہو خود اخبار میں یا سوشل میڈیا یا پھر کسی اور جگہ بھی انکا اشتہار دیکھیں تو وہ بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ شاید یہ جعلی عامل نہ ہو ورنہ اپنا اشتہار تو نہ دیتا چھپ کے کام کرتا. بس اسی چکر میں ان سے رابطہ کرلیتے ہیں اور یوں وہ بھی انکا شکار بن جاتے ہیں. کل میں جنوبی پنجاب کے ایک مشہور اخبار کا سنڈے میگزین پڑھ رہی تھی۔

اس میں ایک صفح? پر تین باباؤں کے ایڈ تھے جن کا دعوی تھا وہ کاروبار کی بندش،رشتوں کا نہ ہونا،اولاد کا نہ ہونا یا پھر ہوکے مر جانا،بیرون ملک سفر، پسند کی شادی، سسرال کی پریشانی، محبوب آپ کے قدموں میں ایسے تمام مسائل کے حل کر سکتے ہیں وہ بھی بس 2.5 منٹ میں. میں نے جب یہ دیکھا تو میں نے اپنے بھائی کو کہا آج خود بھی آزماتے ہیں دیکھیں ہمیں کیا کہتے ہیں یہ بابا لوگ. ایک بابا کو کال ملائی جن کا اشتہار کے مطابق نام علم نجوم کے بے تاج بادشاہ بابا ریاض حسین شاہ تھا. بات ہوئی تو کہنے لگے بیٹا اپنا اصل نام والدہ کا نام اور مسلہ بتاؤ. ہم نے بھی اس جعلی باباکی طرح اپنا نام پتہ اور مسلہ جعلی بتا دیا.عامل بابا صاحب کہنے لگے آپ کا مسلہ حل ہوجائے گا آپ پریشان مت ہوں. میں حساب لگا کے بتاتا ہوں آپ 10 منٹ تک کال کرو. پھر دوبارہ جب کال کی تو کہنے لگے آپ پر بہت سخت عمل کیا گیا ہے کوئی آپ کا دشمن ہے. آپ اسکا توڑ کرائیں. میں نے کہا بابا جی میں کیسے؟ تو کہنے لگے وہ سب ہم کریں گے بس آپ کو ہمارا ساتھ دینا ہوگا. آپ ہمیں 6500 روپے بھیج دیں جو عمل پہ خرچہ آئے گا. ہم تین دن میں عمل کریں گے پھر سب آسان ہوجائے گا. ہم نے ہنس ہنس کے کال کاٹ دی. پھر اسکے ساتھ اگلا اشتہار دیکھا تو سوچا لگے ہاتھوں اسے بھی دیکھ لیں یہ کیا کہتا ہے.

Newspaper

Newspaper

اخبار سے اسکا نمبر دیکھا. انکا اشتہار میں نام عامل روحانی مومن اصغر عباس تھا. انہیں کال کی انہوں نے بھی بالکل وہی سوال کیا جو پچھلے بابا نے کیا. یہ اتفاق تھا یا پھر کچھ اور ہمیں انکی اور پچھلے بابا کی آواز بھی ایک جیسی لگی. اب کی بار ہم نے نام،پتہ اور مسلہ سب کچھ بدل دیا. اس بابا نے بھی کہا آپ دس منٹ بعد کال کریں. 10 منٹ بعد کال کی تو فورا وہ ہم پر برس پڑے جیسے وہ نفلوں کے بھوکے تھے. کہنے لگے شرم نہیں آتی؟ کیوں عاملوں کو تنگ کرتے ہو. کبھی کچھ نام بتاتے ہو تو کبھی کچھ. کبھی کہتے ہو رشتے میں رکاوٹ ہے تو کبھی کوئی اور مسلہ. کیوں ہمارے پیچھے پڑے ہو جب کام کروانا نہیں پھر پوچھنے کا مقصد؟ میں حیران. کہ انہیں کیسے پتہ چلا کہ میں نے پہلے کسی اور کو کال کی.

اور دونوں کو غلط نام اور مسلہ بتایا. پھر سمجھ آیا کہ یہ تو ایک ہی بندہ ہے. اللہ میرے اس قدر فراڈ. . . . ایک بندے کے دو دو اشتہار. اور نام بھی الگ الگ. ایک جگہ ایڈریس قصور کا تو ایک جگہ لاہور کا. ایسا بھی ہوتا ہے…. ویسے کاروبار کرنے کا یہ اچھا طریقہ ہے. کتنے بندوں کو اس نے پھنسایا ہوگا. یہ تو ایک صفحہ پر اسکے دو اشتہار تھے مختلف ناموں سے. اور کتنی جگہ اس نے یہ اشتہار دیے ہوں گے. کئیوں نے ان سے رابطہ کیا ہوگا. اور اپنا ایمان پیسہ دونوں ان جیسوں پر لٹایا ہوگا. کس قدر شرک کیا ہوگا. ہم مانتے ہیں جادو ہوتا ہے. علم نجوم کے بھی انکاری نہیں.

مگر یہ علم اس قدر عام نہیں کہ کوئی للو پنجو سڑک کنارے بیٹھ کر اسکا دعوی کرے اور آپ کی قسمت بدل دینے کی باتیں کرے. اگر ایسے لوگ واقعی قسمت بدل سکتے تو اپنی نہ بدل لیتے؟ کیا آپ کی قسمت ان عاملوں پر یقین کرنے سے بدلے گی؟ اللہ نے جو قرآن دیا اسکا کیا مقصد ہے؟ اس میں تو ہر مسلے کا حل ہے. ان لوگوں پر یقین کرنا کمزور ایمان ہونے کی نشانی ہے. ایسے عاملوں کا کاروبار بند کرانا نہایت ہی ضروری ہے. ایسے جعلی عامل تو مسلمان بھی نہیں ہوسکتے. مشکلیں حل کرنا صرف اللہ کے بس کی بات ہے. اور تمام مشکلیں نماز اور قرآن سے حل ہوسکتی ہیں. اگر اس طرح یہ سب چلتا رہا تو ہر بندہ پھر دین کو چھوڑ کر ان باباؤں کے پاس جانے لگے گا. اخبار،ٹی. وی،ریڈیو اور خاص طورپر دیواروں پر ان کے اشتہارات کی بھرمار ہے. اس پر پانبدی لگنی چاہیے اور ان جعلی عاملوں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے تاکہ پھر کوئی شبانہ یا سمیرا اپنے ہاتھوں سے اپنی اولاد کو نہ مارے. اور کوئی فاطمہ انکا شکار ہوکر خودکشی نہ کرے. جو اخبار اور ٹی.وی انکے اشتہاری پیغام چلاتے ہیں وہ بھی اس سے گریز کریں اور عوام میں آگاہی پیدا کریں۔

Nadia Khan

Nadia Khan

تحریر: نادیہ خان بلوچ کوٹ ادو