ایشین سنوکر چیمپئن حمزہ اکبر کو بالآخر اپنی انعامی رقم کا کچھ حصہ مل گیا

Hamza Akbar

Hamza Akbar

اولڈھم (نوید چوھان) ایشین سنوکر چیمپئن حمزہ اکبر جنھیں اس ماہ کے آغاز میں ویزہ نہ ملنے کے سبب پاکستان واپس جانا پڑا اور اب ان کی واپسی اگلے سال جنوری میں متوقع ہے کو ایشین سنوکر چیمپین بننے پر پچیس لاکھ کی جس انعامی رقم کا وعدہ کیا گیا تھا بالآخر اس کا کچھ حصہ مل گیا ہے۔

محمد نثار جو کہ حمزہ اکبر کے مینیجر ہیں کہ مطابق انھیں پندرہ لاکھ کا چیک دیا گیا تھا جس میں سے پانچ لاکھ قرضے کی مد میں کاٹ لیے گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حمزہ وہ پہلا پاکستانی کھلاڑی ہے جسے پروفیشنل سرکٹ کھیلنے کا موقع ملا ہے تاہم پاکستان سنوکر اینڈ بلیئرڈ فیڈریشن اور پاکستانی سپورٹس منسٹری کے غیر مناسب رویے کے سبب اب حمزہ دو مقابلوں میں شرکت ہی نہ کر پائے گا۔

حمزہ اکبر دو بار پاکستان چیمپئین اور بھارتی کھلاڑی پنکج ایڈوانی کو مارچ2015 میں ہرا کر ایشین سنوکر چئیمپین بنے تھے جس کے بعد وہ انگلینڈ میں دو سال کے لیے پروفیشنل سرکٹ کھیلنے کے اہل ہوئے تھے لیکن فنڈز اور سنوکر فیڈریشن کے عدم تعاون اور ویزہ اور دیگر مسائل کے باعث وہ کچھ مقابلوں میں حصہ نہ لے سکے۔

محمد نثار نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ باقی کی انعامی رقم بھی حمزہ اکبر کو ادا کی جائےتاکہ وہ آئندہ مقابلوں میں ملک کا نام روشن کر سکیں۔