اسمبلی اور پنجاب

Punjab Assembly

Punjab Assembly

تحریر : چوہدری جاوید
پیر کے روز لاہور میں کچھ دیر کے لیے کھل کر بارش ہوئی تو مال روڈ سمیت مختلف علاقے پانی میں ڈوب گئے اور اس روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس بھی تھا جو آج تک مقررہ وقت پر کبھی بھی شروع نہیں ہوسکا حسب معمول پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقروہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ 50منٹ سے زائد کی تاخیر سے سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان کی صدارت میں تلاوت قر آن پاک سے شروع ہوا توجلاس کے آغاز میں ہی اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمودالرشید اور دیگرا راکین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ایک بارش سے سڑکوں پر کئی فٹ پانی کھڑا ہو چکا ہے اور کئی بھی حکومت اور واسا نظر نہیں آرہا 1970میں بھی لکشمی چوک میں جتنا پانی کھڑا ہوتا رہا ہے آج بھی وہی ایسی ہی صورت ہے۔

سڑکوں پر بارش کے پانی کی وجہ سے بدترین ٹریفک جام ہو جاتی ہے اور ٹر یفک میں ایمبولنس بھی پھنسی ہوئی ہے حکومت کہاں ہے ؟ہمارامطالبہ ہے کہ پنجاب حکومت کی گورننس پر ایوان میں بحث کروائی جائے اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہے اور ایک ہی بارش سے قذافی سٹیڈیم کے باہر بھی کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہو جاتا ہے اور لوگوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے اپوزیشن خاتون رکن سعدیہ سہیل نے لاہو ر ’’اورنج کشتی سروس ’’شر وع کر نیکا مشورہ دیدیا۔

‘آزادرکن اسمبلی احسن ریاض فتیانہ نے سپیکر کو جانبدار قر ار دیتے ہوئے ضمنی سوال سے انکار کر دیا ‘ فائزہ احمد ملک اور احسن ریاض فتیانہ سمیت دیگر اپوزیشن اراکین اپنے سوالوں کے غلط اور نامکمل جوابات پر ایوان میں شدید احتجاج کرتے رہے جبکہ (ن) لیگ کے پنجاب اسمبلی میں چیف وہب رانا ارشد نے اراکین اسمبلی کے ایوان سے مسلسل غیر حاضری اور حاضری لگانے کے باوجود ایوان میں نہ آنے پر وزیر اعلی شہبا زشر یف کو اپنی رپورٹ بجھوادی۔ جبکہ کمیٹی کمیٹی کے کھیل میں پاناما لیکس کو مردہ گھوڑا بنانے والوں اب عدالت کا رخ کرلیا ہے پاناما لیکس کی تحقیقات کے سلسلہ میں پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی درخواست دائر کر دی۔

Supreme Court

Supreme Court

درخواست میں وزیر اعظم،ان کی بیٹی مریم نوازاور داماد کیپٹن(ر)صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے آف شور کمپنیاں بنائیں اور اثاثے چھپائے، پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا اب وہ صادق اور امین کی تعریف پر پورا نہیں اترتے، وزیراعظم کو نااہل قرار دیکر انکا اور انکے اہل خانہ کا نام ای سی ایل میں ڈالاجائے،پٹیشن میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ نے قومی دولت غیرقانونی طریقے سے باہر منتقل کی،سپریم کورٹ اپنی نگرانی میں پانامہ لیکس کی تحقیقات کرائے اور نیب کو لوٹی ہوئی رقم واپس لانے کا پابند بنایا جائے۔ پٹیشن میں نیب اور ایف بی آر کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کا بھی مطالبہ کردیا گیا۔

اسکے ساتھ ہی جڑی ہوئی ایک اہم خبر کہ دو ماہ قبل کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کا سافٹ ویئر خراب ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے ابھی تک درست نہیں ہوسکا اسکے ساتھ ساتھ پنجاب کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں پڑا ادویات کا سٹاک بھی استعمال میں نہیں آ رہا وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے غریب اور دکھی عوام پر کمال مہربانی کرتے ہوئے صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت دور کرنے کیلئے ایک ارب روپے کی خصوصی گرانٹ دی تھی۔ جون میں محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ نے ایک ارب سے زائد کی ادویات خرید کر ہسپتالوں کو فراہم کر دی تھیں۔

تاہم ان ادویات کے سیکڑوں نمونے دو ماہ بعد بھی ٹیسٹ نہیں ہو سکے کیونکہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کا سافٹ ویئر خراب ہو گیا جس سے ٹیسٹوں کا سلسلہ التوا کا شکار ہے کروڑوں روپے لاگت سے بننے والی سٹیٹ آف دی آرٹ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں ادویات کے نمونے ٹیسٹ نہ ہونے کے باعث وہ ادویات استعمال نہیں ہو رہی کیا ہی بہتر ہوتا کہ خادم اعلی پنجاب مظفر گڑھ میں تعینات ڈی ایچ او ڈاکٹر عتیق چشتی جیسے محنتی ،ایماندار اور درددل رکھنے والے ذمہ دار افسران کوپنجاب کے دوسرے اضلاع میں ذمہ داریاں دیں تاکہ مسلم لیگ ن کے منشور اور وزیراعلی پنجاب میں شہباز شریف کے وژن کے مطابق عوام کی صحیح معنوں میں خدمت کا عمل جاری رہ سکے۔

Choudhry Javed

Choudhry Javed

تحریر : چوہدری جاوید
03155560555