بارسلونا میں اردو دوست ایسوسی ایشن کے زیراہتمام یوم اقبال کی تقریب کا انعقاد کیا گیا

Iqbal Day Ceremony

Iqbal Day Ceremony

پیرس (زاہد مصطفی اعوان سے) بارسلونا میں اردو دوست ایسوسی ایشن کے زیراہتمام یوم اقبال کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پاکستانیو ں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور علامہ محمد اقبال کی شاعری ، علم وفن اور فکر اقبال کو سمجھنے کی کوشش کی گئی، تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا جس کی سعادت ظلحہ شیر خان نے حاصل کی جبکہ نعت رسول مقبول علی ریحان نے پیش کی۔

کلام اقبال ہر لحظہ ہے مومن معروف صوفی گائیک قدیر اے خان نے ترنم سے پیش کر کے ہال میں خاموشی طاری کر دی۔

یوم اقبال کی تقریب کی نظامت ڈاکٹر عرفان مجید راجہ نے کی انہو ں نے کہاکہ علامہ محمد اقبال کی ہمہ جہت شخصیت صرف پاکستانیو ں کے لئے ہی علم و روشنی کا مینارہ نہیں ہے بلکہ آپ کے علم کی چکا چوند یورپی ممالک تک پھیلی ہو ئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقبال کا پیغام ہر دور کے انسان کے لئے ہے۔ اقبال نے اس وقت علم بغاوت بلند کیا جب کہ بادی النظر میں مغرب ہر حیثیت سے مشرق پر قابض ہو چکا تھا اور ہندوستان کے عوام ایک ایسے وقت کے منتظر تھے کہ جب مشرقی تہذیب مجموعی حیثیت سے مغربیت کے طوفان میں گم ہو جانے والی تھی۔ اس نازک موقع پر اقبال نے پہلا نعرہ جنگ بلند کیا۔اقبال ہی تھے جنہو ں نے مغربی فلسفے کو مادہ پرستانہ تنگ نظری کہا۔

علامہ محمد اقبال کی تحریک پاکستان کے لئے خدمات پر راجہ نامدار اقبال خان نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد اقبال نے اپنے آفاقی کلام کے ذریعے نوجوانوں میں بیداری کی لہر پیدا کی اور یہ خواب دکھایا کہ آزادی سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہے۔ اور اس کا حصول مسلمانوں کے لئے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبال نے نوجوان نسل کو تحریک پاکستان کا ہر اول دستہ بنا دیا تھا۔ مصور پاکستان علامہ اقبال امت مسلمہ کے ایسے شاعر ہیں جنہوں نے درد ملت کا درماں بن کر مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کیا۔ وہ مسلم امہ کے روحانی پیشوا کی حیثیت رکھتے ہیں وہ اقبال کہ جس سے اقبال بھی آگاہ نہیں اُس وقت منصہ شہود پر نمودار ہوئے جب امت مسلمہ کسی مرد دانا کی رہنمائی کو ترس رہی تھی۔

یوم اقبال کی تقریب کے فاضل مقرر افضال احمد بیدار نے اپنے مقالہ کا عنوان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے خطوط عطیہ بیگم کے نام رکھا۔اور فاضل مقرر نے نہایت فصیح و بلیغ انداز میں سامعین کو ان خطوط کی اہمیت اور اردو ادب میں ان کی حیثیت پر سیر حاصل گفتگو کی۔ عطیہ بیگم کے نام خطوط اردو ادب میں سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں جس میں عطیہ بیگم کے مختلف سوالات کا علامہ اقبال نے نہایت علمی جوابات دئیے ہیں۔