بزم غزل کی جانب سے گزشتہ شام ایک شاندار آن لائن طرحی مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا

Mushaira

Mushaira

پٹنہ (نمائندہ) آن لائن مشاعروں کے انعقاد کے لیے دنیا بھر میں مشہور واٹس ایپ گروپ ‘بزم غزل’ کی جانب سے گزشتہ شام ایک شاندار آن لائن طرحی مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں شعرائے کرام نے اپنے کلام پیش کر کے داد و تحسین حاصل کی وہیں مختلف ملکوں کے عام شائقین شعرو ادب بھی اس شعری محفل سے لطف اندوز ہوئے۔

مشاعرہ کی صدارت بزم اردو قطر کے جنرل سکریٹری احمد اشفاق نے فرمائی جبکہ نظامت کا فریضہ نوجوان شعرا ایم آر چشتی اور کامران غنی صبا نے بحسن و خوبی انجام دیا۔ دیر رات تک چلے اس مشاعرہ میں جن شعرا و شاعرات نے حصہ لیا ان کے اسمائے گرامی اور منتخب کلام پیش خدمت ہیں:

مرغوب اثر فاطمی
منزل نے جب پکار لیا زادِ راہ کیا
پیروں میں ہم لپیٹے جنونِ سفر گئے
نیاز نذر فاطمی
گھر کی تمام رنجشیں آفس میں بانٹ کر
دفتر کے دردِ سر کو لیے شام گھر گئے
منصور قاسمی
قسمت کا کھیل ہم نے بھی دیکھا یہ بارہا
تشنہ لبوں پہ آ کے سمندر گزر گئے
نور جمشیدپوری
حسن و جمال رُخ پہ جو آیا ابھی نظر
محفل میں سن کے نام ترا ہم نکھر گئے
نصر بلخی
دامن بھی تار تار گریباں بھی چاک چاک
اب کے جنونِ شوق میں حد سے گزر گئے
ایم آر چشتی
اک بار درد سے جو مری گفتگو ہوئی
کچھ گمشدہ خیال کے چہرے نکھر گئے
احمد غیور
دیکھا ہے میں نے لوگوں کی آنکھوں میں خوف سا
امن و اماں کے اب وہ زمانے کدھر گئے
کامران غنی صبا
پہلی نظر میں پیار ہوا، دوسری میں عشق
اور تیسری میں ساری حدوں سے گزر گئے
جہانگیر نایاب
کچھ میرے دشمنوں کا نہ آیا انہیں خیال
جتنے بھی حادثات تھے سب میرے سر گئے
بشر رحیمی
تاریکیوں کے بعد جو سورج ہوا طلوع
ہم کیا کہیں کہ اپنے ہی سایے سے ڈر گئے
رضا مفتی
وہ رات گرمیوں کی، وہ بادل ، وہ آدھا چاند
کھل کر جیے ہوئے بھی زمانے گزر گئے
امام قاسم ساقی
جگنو کا یہ سوال بھی کتنا عجیب تھا
ہم سے اجالے مانگنے والے کدھر گئے
انعام عازمی
اک تم ہو ڈر رہے ہو نہ مر جائوں میں کہیں
اک ہم ہیں زندگی میں کئی موت مر گئے
افتخار علم
ہم حق پرست لوگ ہیں ہم پر ہے زور کیا
وہ اور تھے جو ان کی حکومت سے ڈر گئے
نشاط فاطمہ
زندہ ہیں، زندگی کی رمق کچھ نہیں ہے اب
تم کیا گئے کہ خواب ہمارے بکھر گئے