روٹی پاکستان میں بھی ملتی ہے

Saudi Arabia

Saudi Arabia

تحریر : انجینئر افتخار چودھری
لوگوں کا خیال ہے کہ سعودی عرب کی نئی پالیسیاں اسے اپنے قدموں پر کھڑا کر دیں گی جب کہ میرا خیال ہے سعودی عرب کے قدم کاٹے جا رہے ہیں ہر آنے والے سال میں اجنبیوں پر لگائے گئے ٹیکس اس ملک سے لوگوں کو فارغ کر دیں گے اور وہاں کے ایک معروف صحافی نے لکھا ہے کہ سالانہ بیس لاکھ لوگ ملک سے چلے جائیں گے۔٢٠١٨ میں بیس ٢٠١٩ میں پچیس لاکھ اور کرتے کرتے صرف وہی لوگ رہ جائے گیں جو یا تو بہت اعلی مشاہروں پر کام کریں گے یا سنگل کیمپوں میں رہنے والے مزدور۔پتہ نہیں ان سعودی دوستوں کا کون مشیر ہے جو اس طرح کے مشوروں سے مملکت کا بیڑہ غرق کر رہا ہے۔

مملکت کی تعمیر و ترقی میں باہر کے رہنے والوں کا بڑا ہاتھ ہے میں تو اس دور کا مسافر ہوں جب عمرے ویزے پر دھڑا دھڑ لوگ وہاں پنچے تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک کے پاس سیاہ سونا نکلا اس کی قیمت بڑھی۔پھر یوں ہوا کہ مسلم ٤٤ ویزے کے تحت اس ملک میں آنے والے مسلمانوں کو داخلی اقامے دئے گئے یہ شاہ خالد کا دور تھا پھر یوں ہوا کہ مکان ملنے مشکل ہو گئے اسی کی دہائی میں معمولی فلیٹ کا کرایہ چالیس ہزار ریال سالانہ تک پہنچ گیا تھا۔وہاں بھیڑ چال چل نکلی اور تعمیرات کی دنیا میں انقلاب آیا دنیا بھر سے لوگ وہاں پہنچے۔گزشتہ چند سال سے تیل کی قیمتیں کم اور تیل پر کم انحصاری کی وجہ سے وہ ریل پیل ختم ہوئی اور لوگوں کی نوکریاں ختم ہو کر رہ گئیں لوگ بڑی تعداد میں بے روز گار ہو گئے اور اپنے اپنے ملکوں کو واپس ہو گئے تیل نے ریل پیل کی اور اب اسی نے قلاش بھی لیکن اس کے پیچھے بڑا مجرم کون ہے وہ میں اور آپ بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔

سعودی حکومت کی موجودہ پالیسیاں شائد ایک گھبراہٹ کے نتیجے میں بنائی گئی ہیں کہ وہاں فیملیوں کے افراد پر بھاری ٹیکس لگا دئے گئے ہیں۔ہر آنے والے سال میں ان پر حکومت نے بھاری ٹیکس لگا دیا ہے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء پر بھی ریلیف ختم کیا جا رہا ہے یعن جس پر مقامی باشندوں کو چیزیں سستی ملیں گی اور اجنبی لوگ اس پر ٹیکس دیں گے۔یہ چیز ان کے لئے بہت آسان ہے کہ ہر بندہ وہاں رجسٹرڈ ہے کائونٹر پر شناخت دکھا کر وہ چیزیں خریدے گا۔مکانات کی بڑی تعداد خالی ہے اور مزید خالی ہو جائے گی کرائے دو سال بعد پچاس فی صد کم ہو جائیں گے۔جو لوگ فیملیز کے ساتھ رہ کر پوری توجہ سے جاب کر رہے تھے اب شائد ان کے لئے یہ ممکن نہیں رہے گا۔فیملیز سے الگ ہو کر رہنا دونوں جانب پریشانی کا باعث بنے گا۔جس کا نتیجہ ہو گا کہ لوگ اس ملک کو چھوڑ کر چلے جائیں گے اور سعودی لوگ مظلوموں کو تلاش کرتے پھریں گے۔جس کا اثر سعودیوں پر ہو گا۔اس وقت تک لاکھوں لوگ اپنے اپنے ملکوں میں پہنچ چکے ہیں شہر میں مکانات خالی ہیںجن کے کرائے تیزی سے کم ہو رہے ہیں ایسے میں مزید انخلاء اس ملک کی اکانومی پر برا اثر ڈالے گا۔پچھلے سال سے لگے ان ٹیکسوں میں ہر آنے والے سال پر اضافہ ہو گا جس کی وجہ سے لوگوں کو فیملیز رکھنا مشکل ہو جائے گا۔یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ بہت سے فارنر وہاں سعودیوں کے نام پر کام کرتے ہیں اور یہ کام ان کے ذاتی ہوتے ہیں جس کا وہ سعودیوں کو ٹیکس دیتے ہیں میری مراد ہے سعودی کفیلوں کو حصہ دیا جاتا ہے۔

مکتب عمل کی فیسیں الگ انشورنس کارڈ کے خرچے اپنی جگہ سعودی کفیل کی فیس ڈال کر وہ پہلے ہی ہزاروں ریال تجدید پر لگا دیتے ہیں اب ان کے ساتھ جڑے لوگوں پر بھی بھاری ٹیکس لگائے گئے ہیں۔اس کا نتیجہ ہوگا کہ ان لوگوں کو فیملیز پاکستان یا اپنے ملکوں میں منتقل کرنی ہوں گی۔وہ ملک جہاں کا امن و امان مثالی تھا لوگ بڑے خوبصورتی سے وہاں رہا کرتے تھے اب بڑی فیملی والوں کو رکھنا نا ممکن ہو جائے گا۔اس سے پاکستانیوں اور دیگر غیر ملکیوں کے لئے معاشرتی مسائل پیدا ہوں گے ایسے میں فیملی سے الگ ہو کر رہنا مشکل ہو جائے گا۔
ایک وقت آئے گا کہ آئیندہ آنے والے چند سالوں میںبہت کم فیملیز وہاں رہنے کے قابل ہوں گی۔یہ چیز بیرون ملک کی ورکنگ فورس کے لئے مشکل تو ہو گی لیکن خود سعودی جو مکانات کے کرایوں اور دیگر کاروبار سے کما کر کھاتے تھے ان کے لئے ایک عذاب ہو گا۔ایسے میں بے روزگاری کا ایک ایسا طوفان آئے گا کہ یہ طوفان سعودی نظام کی چولیں ہلا سکتا ہے۔

یاد رہے سعودی عرب قبائلی سسٹم میں زندہ ہے اب تک پیسے کی ریل پیل نے اسے جوڑے رکھا ہوا ہے۔بے کار سعودی نوجوانوں کو فارن لوگوں کی کمپنیوں میں تیس فی صد تک ملازمتیں ملتی تھیں اب اگر ایک شخص جس کی عمر پچاس سال ہے اور وہ اپنی لمبی چوڑی فیملی کو وہاں نہیں رکھ سکتا تو اس نے ملک چھوڑ کر دبئی وغیرہ میں منتقل ہونا ہے تو کیا وہ کاروبار جاری رکھ سکے گا۔ایسا نا ممکن ہے۔

ایسے میں سعودی عرب کے لئے سخت مشکلات پیداہو جائیں گی یمن سے جڑے علاقے پہلے ہی حالت جنگ میں ہیں نجران جیزان خمیس مشیط ابہاء بالجرشی نماس طایف ادھر ساحلی شہر غنفدہ جیزان تک کی پٹی میں یمن سے میل جول اس ملک سعودی عرب کے لیئے خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔جیزان نجران اور یمن سے جڑے علاقے انتہائی پسماندہ ہیں ان میں اب ترقیاتی کام ہو رہے ہیں ٢٠١٢ تک جیزان میں لکڑی کے کھمبے لگے ہوئے تھے۔وسطی سعودی عرب نجد تو پہلے ہی اپنے آپ کو سپر سعودی کہلواتا ہے اور وہ حجازیوں کو بقایةالحجاج کہتے ہیں اور مکہ کے لوگ بدو نجدیوں کو کسی کام کا نہیں سمجھتے مہکہ والے تو کہتے ہیں انا من مکہ میبغی کلام دادی(میں مکہ سے ہوں فالتو بات نہ کرنا)۔ ادھریہ بریدہ قسیم ریاض الحساء الحفوف کے بدو اپنے برابر کسی کو سمجھتے ہی نہیں اور صیح عرب کلچر کے وارث یہ لوگ اپنی مثال آپ ہیں ۔جو منطقہ شرقیہ ہے تیل کی دولت سے مالا مال ہے مگر یہاں قطیف دمام الخبر الخفجی حفرالباطن کے ایرئے ایران سے ہمدردی رکھنے والوں پر مشتمل ہیں۔ دوسری بڑی بات آرامکو کی وجہ سے یہ انتہائی پڑے لکھے مہذب لوگ ہیں

ایسے میں سعودی عرب کو یمن کی بے مقصد اور بے فائدہ جنگ سے نکلنا ہو گا۔سعودی عرب اور ایران کی دوستی ناگزیر ہے ورنہ ڈر ہے ریچھ کیک کھا جائے اور یہ دو مسلمان لوگ سخت نقصان اٹھائیں گے۔پیسہ سعودی عرب کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے سعودیوں نے جو اچھے دن دیکھے ہیں اب وہ برے دنوں کی تکلیفیں کسی صورت نہیں برداشت کر سکتے۔

اس ملک کے حکمرانوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ نئی امریکی پالیسیاں انہیں عوامی غیض و غضب سے نہیں بچا سکتیں۔البریدہ القصیم کے علاقے مذہبی شدت پسندوں کا گڑھ ہیں یہ وہ علاقہ ہے جہاں سگریٹ نہیں بیچے جاتے جہاں اب بھی نظام صلوة بہت مضبوط ہے یہاں عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت پر بہت کچھ ہو سکتا ہے۔پوری دنیا کے مسلمان سعودی عرب کے پرانے نظام سے خوش ہیں ہمارا معاشرہ سعودی عرب کو دیکھ دیکھ کر انہی کے رنگ میں ڈل رہا ہے عبایہ پاکستان میں معروف کیوں ہوا سعودی لوگوں کے عظیم کلچر کی وجہ سے قوم پانچ وقتی نماز کے لئے ایک وقت کی متلاشی کیوں اسی سعودی سسٹم کی بدولت؟سعودی سسٹم کی وجہ سے۔وہاں کے امن و امان کو دیکھ کر ہم آہ بھرتے ہیں لیکن اب جو نئی نئی سکیمیں جناب ٹرمپ دے گئے ہیں یہ ا س ملک کا خانہ خراب کر سکتی ہیں۔

سعودی عرب کو اپنے اسلامی سیاحتی پروگرام کے علاوہ جنادریہ میلے تک رسائی ایک عام زائر کو دینی چاہئے اسے بریدہ دکھانا چاہئے جہاں کے کھجوروں کے باغ جنت نظیر ہیں اسے حائل دکھایا جائے جو صحراء کا دولہا شہر ہے۔ سیاسی طور پراسے چاہئے کہ وہ امن کا راستہ تلاش کرے ایران کے ساتھ نرمی کا برتائو کرے جہاں ان سے درخواست ہے وہاں ایران کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے خمینی انقلاب کو جیب میں رکھے اور اسے ایکسپورٹ کرنے کی کوشش نہ کرے۔

ہم پاکستانیوں کو آئیندہ چند سالوں میں ایک طوفان کو سنبھالنے کی تیاری کرنی چاہئے کم از کم بجلی کے منصوبے مکمل کرے تا کہ باہر سے آنے والی فیملیز کو پنکھے کی ہوا تو ملے ۔میں سمجھتا ہوں فیملیز یہاں کی گرمی مچھر سے تڑپتے چیختے چھوٹے بچوں کی وجہ سے دو ماہ کی چھٹی کو پندرہ دن میں بدل دیتی تھیں اگر بجلی کا بحران قابو میں آ کر لیا گیا تو مسئلہ کم ہو جائے گا۔باقی رہی بات اوور سیز پاکستانیوں کو بلکل نہیں گھبرانا چاہئے انہیں یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اب پاکستان بدلنے کے قریب ہے اس ملک میں استعمال شدہ مشینری کی بڑی مانگ ہے جو لوگ کسی زمانے میں دبئی سے کنسٹرکشن مشینیں جدہ لاتے تھے انہیں چاہئے پاکستان آ جائیں سڑکوں پلوں کی تعمیر میں ان مشینیوں کی سخت ضرورت ہے ایک معمولی شاول ایک لاکھ روپے ماہانہ کرایہ پر چلتا ہے(ڈیزل مالک کا شاول والے کا نہیں) اب آپ اندازہ لگا لیں کہ اس ملک می کس قدر مزدوری ہے۔ویسے بھی نظام قدرت ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے لئے مواقع پیدا کرتا رہتا ہے۔جس ملک میں ایک پڑھا لکھا نوجوان صرف آٹھ دس لاکھ کی گاڑی سے پچاس ساٹھ ہزار آرام سے کما لیتا ہو وہاں اب بھوک ننگ افلاس کی بات کرنا مناسب نہیں گڈ گورننس کی کمی ہے وہ بھی دن دور نہیں اللہ اس ملک کو اس کرم سے نواز دے گا۔

اوور سیز پاکستانیوں گھبرانے کی کوئی بات نہیں میرا اللہ کرم کرے گا۔سعودی عرب کے لوگ اگر آپ کو بوجھ سمجھتے ہیں تو سمجھتے رہیں ہم نے ان کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرنے جو آ رہے ہیں ان کا شکریہ ادا کر کے آئیے کبھی وقت تھا عرب ریاست حیدر آباد میں چوکیداریاں کرتے تھے اور ایک وقت آیا کہ ہم ان کے حارث بنے یہ ایک سرکل ہے ہاں عزت وقار کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔خوبصورتی سے علیحدگی کمال کی چیز ہوتی ہے ۔مجھے جدہ میں گزاری ربع صدی بہت یاد آتی ہے ہم نے اس ملک سے بہت کچھ لیا سیکھا اور دیا بھی بہت کچھ۔طارق المعیناء نے کیا خوب کہا ہے کہ ان لوگوں کو نیشنیلٹیاں دو یا طویل المدتی اقامت۔وہاں کوئی سر خاب کے پر نہیں یورپ کینیڈا دیکھیں وہاں پاکستانیوں نے جہاں آباد کر لئے اور یہاں عشروں رہنے کے بعد بھی ہم اجنبی ٹھہرے یہی فرق ہے جو سعودی عرب کو عالم میں بدنام کر رہا ہے اسے انسانی حقوق کی حالت کو بہتر کرنا ہو گا۔ باہر کے لوگو! یہاں کے مسٹر ڈاکو جا چکے ہیں اور اب ان سے زیادہ برا کوئی نہیں جو اقتتدار میں آئے گا سی پیک ایک دستک ہے اللہ روٹی دے گا گھبرائیے مت۔

Engr Iftikhar Chaudhry

Engr Iftikhar Chaudhry

تحریر : انجینئر افتخار چودھری