کیوں ہے چاہتوں پہ زوال سا

کیوں ہے چاہتوں پہ زوال سا

کیوں ہے چاہتوں پہ زوال سا میرے دل میں ہے یہ خیال سا کہ وصال ہو بے مثال سا مجھے شائبہ کہ یہ عشق ہے تبھی دل ہوا ہے نڈھال سا سبھی درد اپنے بھلا دیے اسے جب بھی دیکھا نہال سا…

جو کنارا نظر میں رکھا ہے

جو کنارا نظر میں رکھا ہے

جو کنارا نظر میں رکھا ہے اُس نے ہم کو بھنور میں رکھا ہے آج بھی وہ اولیں خواہش! جِس نے بارِ دگر میں رکھا ہے اُس کو منزل نصیب ہو جائے جِس نے ہم کو سفر میں رکھا ہے اے میرے…

روز آنکھوں میں کوئی خواب نیا ہوتا ہے

روز آنکھوں میں کوئی خواب نیا ہوتا ہے

روز آنکھوں میں کوئی خواب نیا ہوتا ہے ایسے موسم میں بھلا کون جدا ہوتا ہے جیسے موسم میں تُوہر روز خفا ہوتا ہے روز چھن جاتا ہے جینے کا سہارا ہم سے روز آنکھوں میں کوئی خواب نیا ہوتا ہے آئو…

تیرے پیاروں کی خیر ہو بابا

تیرے پیاروں کی خیر ہو بابا

تیرے پیاروں کی خیر ہو بابا غم گساروں کی خیر ہو بابا اِن سہاروں کی خیر ہو بابا جِن کو ترسے ہیں ڈوبنے والے اُن کناروں کی خیر ہو بابا یہ دعا ہے سیاہ بختوں کی چاند تاروں کی خیر ہو بابا…

ملے فرصت تو گہری نیند سو لوں

ملے فرصت تو گہری نیند سو لوں

ملے فرصت تو گہری نیند سو لوں کوئی اک آدھ رونا ہو تو رولوں مجھے یہ اِذن کب کہ لب میں کھولوں کوئی تدبیر ہو پاتی تو کرتے ! میں کیسے بخت کی کالک کو دھو لوں وہ میرا قتل کر کے…

منقبت    بحضور حضرت زینب سلام اللہ علیہا

منقبت بحضور حضرت زینب سلام اللہ علیہا

اسیران کربلا کی سپہ سالار تھی زینب کوفہ وشام میں بے تیغ لڑی تھی زینب اسلام کا علم اپنے ھاتھوں میں تھام کر سب بیبیوں کو ساتھ لے کر چلی تھی زینب بے گوروکفن لاشے اپنوں کے چھوڑ کر کس دل سے…

اپنی یادوں کو شال ہونے دے

اپنی یادوں کو شال ہونے دے

اپنی یادوں کو شال ہونے دے ہجرتوں کو وصال ہونے دے رابطے پھر بحال ہونے دے جس کا تو ہی جواب دے پائے مجھ کو ایسا سوال ہونے دے چھوڑ دے یہ حسابِ سود و زیاں عشق کو لازوال ہونے دے جھوٹ…

نیند اب نہیں آئے گی

نیند اب نہیں آئے گی

زندگی کو ایک پل میں کھو دیا ہم نے ہائے یہ کیسا کانٹا دل میں چبھو دیا ہم نے جس نے پھول بچھائے ہماری راہوں میں اس کی ہی آنکھوں میں، دکھ سمو دیا ہم نے ہمیشہ لپٹ کر تنہائی کی باہوں…

ڈوبتی ہوئی کشتی سے

ڈوبتی ہوئی کشتی سے

یاد آتے ہیں اگر ہم تو ،پکارا کیجئے کرم بھی لگتے ہیں ستم، تو گوارہ کیجئے دل تو ہے ترک تعلق پہ آمادہ لیکن آپ کو کیا چاہیے،اشارہ کیجئے ڈھونڈتے رہتے ہو کتابوں میں پناہیں اکثر زندگی کا بھی کبھی کھل کے…

جگ ہنسائی کی حد ضروری ہے

جگ ہنسائی کی حد ضروری ہے

جگ ہنسائی کی حد ضروری ہے پارسائی کی حد ضروری ہے اس خدائی کی حد ضروری ہے کون سمجھائے اہلِ مسند کو خود ستائی کی حد ضروری ہے عِلم اور جَہل کے تصادم میں جگ ہنسائی کی حد ضروری ہے جس کا…

قیمت تو چکانا پڑتی ہے

قیمت تو چکانا پڑتی ہے

شہرت کی محبت کی جاناں! قیمت تو چکانا پڑتی ہے اپنوں کی عنایت کی جاناں! قیمت تو چکانا پڑتی ہے جب عقل و جنوں میں ٹھن جائے اور دنیا دشمن بن جائے تب دل کی بغاوت کی جاناں! قیمت تو چکانا پڑتی…

جواں مردی

جواں مردی

سرکٹانے سے رکتانہیں نواسہ رسول کا باطل کے آگے جھکتانہیں نواسہ رسول کا اداکرتا ہے نمازایسی کہ سجدے میں رکھ کے سراٹھتانہیں نواسہ رسول کا کرتا ہے دشمنوں سے مقابلہ جواں مردی سے میدان سے کبھی چھپتانہیں نواسہ رسول کا دیتا ہے…

ہو جائے نہ اونچا کہیں پانی تیرے سر سے

ہو جائے نہ اونچا کہیں پانی تیرے سر سے

ہو جائے نہ اونچا کہیں پانی تیرے سر سے تفہیمِ مہ و سال کے بے فیض ہنر سے دستار سے الجھے تو کبھی اپنے ہی سر سے اے ترکِ تعلق کے تمنائی ذرا ہوش! ہو جائے نہ اونچا کہیں پانی تیرے سر…

دردکار اگ ہو بھی سکتی ہے

دردکار اگ ہو بھی سکتی ہے

دردکار اگ ہو بھی سکتی ہے روشنی آگ ہو بھی سکتی ہے زندگی موج در سمندر ہے موج کل جھاگ ہو بھی سکتی ہے یہ جوڈستی ہے پچھلے پہروں میں چاندنی ناگ ہو بھی سکتی ہے حسنِ فن واہ وا نہیں ہے…

رنگ، مذہب نہ عقیدے کی تجارت کیجے

رنگ، مذہب نہ عقیدے کی تجارت کیجے

رنگ، مذہب نہ عقیدے کی تجارت کیجے عکسِ یزدان ہے، انساں سے محبت کیجے اپنی آنکھوں کوبھی پابندِ نصیحت کیجے اب کوئی خواب سجانے کی نہ جرات کیجے ہاتھ میں ریت ہو یا آنکھ میں پانی صاحب کب ٹھہرتے ہیں بھلے جتنی…

آگ کو پانی لکھ دوں

آگ کو پانی لکھ دوں

خاک ہوتے ہوئے جسموں کی کہانی لکھ دوں خوں اُگلتی ہوئی آنکھوں کی روانی لکھ دوں جی میں آتا ہے کہ اِس لوحِ زمانہ پہ کبھی جِسم کو برف لکھوں آگ کو پانی لکھ دوں ساحل منیر…

عدل و انصاف

عدل و انصاف

طاقت ملی اسلام کوجن کے ایمان لانے سے فاروق اعظم ہیں ہوئے داخل اسلام میں رسول پاک کے دعافرمانے سے فاروق اعظم ہیں برداشت نہیں ہورہا تھا بہن اوربہنوئی کااسلام قبول کرنا بدل گئی دل کی دنیا جنہیں قرآن سنانے سے فاروق…

وہ میرا چاند کوئی چاند سی عادت رکھتا

وہ میرا چاند کوئی چاند سی عادت رکھتا

وہ میرا چاند کوئی چاند سی عادت رکھتا میرا ہوتا تو یوں مجھ سے نہ عداوت رکھتا اپنے تو چاہنے والوں سے محبت رکھتا اس کی آنکھوں میں جو انسان شناسی ہوتی دور افتادہ فقیروں سے بھی نسبت رکھتا میرے آنسو نہ…

منحوس سماجی ڈھانچوں کو مسمار کرو، مسمار کرو

منحوس سماجی ڈھانچوں کو مسمار کرو، مسمار کرو

منحوس سماجی ڈھانچوں کو مسمار کرو، مسمار کرو انسان برابر ہیں سارے سب انسانوں سے پیار کرو ہر مذہب کا یہ محور ہے اِس محور کا پرچار کرو جیون کی اندھیری راہوں میں اِک دِیپ جلائو چاہت کا پھر دیپ سے دیپ…

وہ خوش شکل ہے، وہ خوش ادا ہے، مری بلا سے

وہ خوش شکل ہے، وہ خوش ادا ہے، مری بلا سے

وہ خوش شکل ہے، وہ خوش ادا ہے، مری بلا سے وہ جس کسی سے بھی مل رہا ہے، مری بلا سے میں جس کے وعدوں کی بھول بھلیوں میں کھو گیا ہوں وہ اب اگر مجھ کو ڈھونڈتا ہے ،مری بلا…

موسم راس نہ آئے کیا کیا

موسم راس نہ آئے کیا کیا

خاک میں گہر گنوائے کیا کیا آنکھ نے اشک بہائے کیا کیا ایک تیری باتوں میں آکر دل کو روگ لگائے کیا کیا کیسے کیسے لوگ جو بچھڑے موسم راس نہ آئے کیا کیا دن تو گزرا پتھر کھاتے رات نے درد…

دِل کی لگی میں نیند نہ آئی تو رو پڑے

دِل کی لگی میں نیند نہ آئی تو رو پڑے

دِل کی لگی میں نیند نہ آئی تو رو پڑے بزمِ تصورات سجائی تو رو پڑے بِچھڑے ہوئوں کی یاد جو آئی تو رو پڑے ساقی نے اپنے دستِ سخاوت سے دوستو اِک بوند آج ہم کو پلائی تو رو پڑے اے…

حیات اک نظم ہوتی تو

حیات اک نظم ہوتی تو

حیات اک نظم ہوتی تو میں اسکو خوبصورت استعاروں سے سجا لیتی قزح کے سات رنگوں کو میں لمحوں میں پرو دیتی کہیں پر شام کا منظر طلوع ِ صبح کی لالی فلک سے کہکشاں لا کر زمیں سے تتلیاں لے کر…

بند اوراق میں مرتے ہی رہے حرف میرے

بند اوراق میں مرتے ہی رہے حرف میرے

خود جلائے کبھی مصلوب کئے جاتے رہے درد پہ انکے کئی خوب کئے جاتے رہے سسکیاں لیتے رہے اور کبھی چلانے لگے کبھی خاموش و پشیماں بھی نظر آنے لگے آہ سنتی رہی انکی میں کبھی خوابوں میں جاگ اٹھنے پہ وہ…