میں

میں

میری نظمیں مجھے تخلیق کرتی ہیں میں خود کو مکمل کرنے کے لیے لکھتی ہوں نیل احمد…

ویران اندر سے کر رہا ہے کوئی

ویران اندر سے کر رہا ہے کوئی

ویران اندر سے کر رہا ہے کوئی مجھ سا مجھ میں اتر رہا ہے کوئی وقت سا تحلیل ہوا چاہتا ہے خاموش جان سے گزر رہا ہے کوئی ساتھ چلنے کا وعدہ تو کر لیا تھا سفر طویل دیکھ کر مکر رہا…

محبت اک عبادت ہے

محبت اک عبادت ہے

محبت اک عبادت ہے عبادت میں تصنع سے خدا بھی روٹھ جاتا ہے نمائش اور دکھاوے سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے محبت اور عبادت میں نمائش ہو نہیں سکتی محبت اک عبادت ہے عبادت کے لیے بہتر ہے تنہائی کا عالم ہو…

میں سرِ دار بھی ہوں کتنی بلندی پہ یہ دیکھ

میں سرِ دار بھی ہوں کتنی بلندی پہ یہ دیکھ

میں سرِ دار بھی ہوں کتنی بلندی پہ یہ دیکھ جب بھی دیکھا ہے وہی گھور اندھیرا نکلا جانے کس سمت محبت کا ستارا نکلا ہم کو جس عہد میں جینا تھا بغاوت کے لئے اُس میں ہر شخص روایات کا شیدا…

سانسوں کو تیرے نام کی گردان کیا جائے

سانسوں کو تیرے نام کی گردان کیا جائے

سانسوں کو تیرے نام کی گردان کیا جائے چپکے سے کسی روز تو مہمان کیا جائے آجا کہ کبھی پورا یہ ارمان کیا جائے اِک شام تیرے وصل کی دنیا سے چُرا کر یادوں کی گزرگاہوں کو آسان کیا جائے ہونٹوں پہ…

پڑ گئی ہم کو تیری یاد کی عادت لکھنا

پڑ گئی ہم کو تیری یاد کی عادت لکھنا

پڑ گئی ہم کو تیری یاد کی عادت لکھنا جب بھی لکھنا تو یہی رنج و مسرت لکھنا پڑ گئی ہم کو تیری یاد کی عادت لکھنا یہ تیری ہم سے شب و روز تغافل کی روش عین ممکن ہے کوئی ڈھائے…

ڈھونڈتے ہیں چارہ گر دردِ لادوا لے کر

ڈھونڈتے ہیں چارہ گر دردِ لادوا لے کر

ڈھونڈتے ہیں چارہ گر دردِ لادوا لے کر اپنی بد نصیبی کا کوئی تذکرہ لے کر اب کبھی نہ آئیں گے حرفِ التجا لے کر ہم نے تیری محفل میں وہ سماں بھی دیکھا ہے آئے تھے جزا پانے چل دِیے سزا…

اے وادی کشمیر

اے وادی کشمیر

صبح آزادی کو ترستی ہوئی وادی کشمیر نقشہ عالم پہ ہے تو لاچاری کی تصویر اے وادی کشمیر تیرے پہاڑوں نے اٹھا رکھا ہے اسلام کا جھنڈا کفر دبا نہ سکا کبھی بھی تیرا نعراہ تکبیر اے وادی کشمیر نہ بنا سکا…

پاس رہ کے بھی فاصلہ دیکھا

پاس رہ کے بھی فاصلہ دیکھا

پاس رہ کے بھی فاصلہ دیکھا ہم نے کیسا یہ ماجرا دیکھا پاس رہ کے بھی فاصلہ دیکھا اک دیا آج بھی سرِ مژِگاں جو جلایا تو نہ بجھا دیکھا راستوں کے غبار میں کس نے کب مسافر کوئی پڑا دیکھا جس…

روز کرتا ہے سوگوار ہمیں

روز کرتا ہے سوگوار ہمیں

روز کرتا ہے سوگوار ہمیں جو رلاتا ہے زار زار ہمیں اس پہ کتنا تھا اعتبار ہمیں کب کسی مرتبے کی خواہش ہے اپنے قدموں میں کر شمار ہمیں جس کا ملبوسِ جسم و جاں ٹھہرے آ کے دیکھے تو تار تار…

کہیں چلے جائو

کہیں چلے جائو

زمین کتنی بڑی ہے کہیں چلے جائو یہ ہجرتوں کی گھڑی ہے کہیں چلے جائو تجھے بھروسا ہے جس شخص کی رفاقت پر اُسے تو اپنی پڑی ہے کہیں چلے جائو وہ شکل جس سے جدائی محال ہے دل میں نگینہ بن…

ایک صدا سی کانوں میں گونجتی رہتی ہے

ایک صدا سی کانوں میں گونجتی رہتی ہے

ایک صدا سی کانوں میں گونجتی رہتی ہے جیسے ہر کسی سے پتہ میرا پوچھتی رہتی ہے آنکھوں میں اسکی کوئی منظر جم گیا ہو جیسے میرے ساتھ ہو کر بھی مجھے ڈھونڈتی رہتی ہے وہ جیسے مجھے پہچانتی ہے مجھ سے…

حیرت ہے کہ ہر آدمی ناکام بہت ہے

حیرت ہے کہ ہر آدمی ناکام بہت ہے

افکار میں یہ شعلئہ گلفام بہت ہے آشفتہ سرِ دل مِرا بدنام بہت ہے جنبش تو شب و روز کیا کرتا ہے لیکن حیرت ہے کہ ہر آدمی ناکام بہت ہے اب وصل کی چاہت ہے نہ دیدار کی حسرت میرے دلِ…

دکھ شوق سے کتنے ہی لئے پال یہ دیکھو

دکھ شوق سے کتنے ہی لئے پال یہ دیکھو

دکھ شوق سے کتنے ہی لئے پال یہ دیکھو اِک بار کبھی آکے میرا حال یہ دیکھو کس طور گزارے ہیں مہ و سال یہ دیکھو آنکھوں سے سبھی خواب میرے چھین لئے ہیں بے رحم زمانے کی کبھی چال یہ دیکھو…

چاہت ِ زیست لیے جیتے ہیں مر جاتے ہیں

چاہت ِ زیست لیے جیتے ہیں مر جاتے ہیں

ہم بھی گمنام کسی نام پہ مر جاتے ہیں اور مر کر بھی تِرا نام ہی کر جاتے ہیں جانے کس نام سے رشتوں کو نبھانا ہے ہمیں اور کس نام سے ایام گذر جاتے ہیں وقت کی شام کسی نے نہیں…

ہر پل بچھڑتے رہنے کا یہ ڈر اتار دے

ہر پل بچھڑتے رہنے کا یہ ڈر اتار دے

ہر پل بچھڑتے رہنے کا یہ ڈر اتار دے سانسوں میں وہ خمار کا منظر اتار دے جو مجھ کو تیری روح کے اندر اتار دے گر ہوسکے تو دل کے اس اجڑے دیار میں اپنے خیال و خواب کا پیکر اتار…

کون اب ہم کو جگانے آئے

کون اب ہم کو جگانے آئے

کون اب ہم کو جگانے آئے زخم سینے کے دِکھانے آئے ہم تجھے ساتھ رُلانے آئے چشمِ ساقی نے سہارا جو دیا تب کہیں ہوش ٹھکانے آئے سو گئے اوڑھ کے مٹی کی رِدا کون اب ہم کو جگانے آئے اِس ہوس…

دسمبر ہر سال ایک نیا زخم دے جاتا ہے

دسمبر ہر سال ایک نیا زخم دے جاتا ہے

تم نے خواب سے نکل کر نرم، گرم اوڑھنی اور بچھونے سے نکل کر کبھی درو دیوار کے اس پار چلنے والی سرد ہواؤں کے تھپیڑے کھائے ہیں اور ان یخ بستہ تھپیڑوں میں (کہ جن میں نسوں میں دوڑتا خون بھی…

ماں جدھر میں هوں

ماں جدھر میں هوں

ماں جدھر میں هوں وھاں پھول هی پھول هیں مگر… خوشبو میں تمھاری یاد کرتا هوں جب تم سو جاتی هو تمھارے پاس آتا هوں تمھارے آنسو صاف کرتا هوں اور… اپنے ساتھ لے جاتا هوں.. تمھاری خوشبو میرے ساتھ جاتی هے……

چلو کہ آئو زمانے سے اختلاف کریں

چلو کہ آئو زمانے سے اختلاف کریں

چلو کہ آئو زمانے سے اختلاف کریں روایتوں سے کھُلے عام انحراف کریں چلو کہ آئو زمانے سے اختلاف کریں لپیٹ دے جو بساطِ ادائے بے خبری جو تُو کہے تو کوئی ایسا انکشاف کریں یقیں کرو کہ دسمبر کی سرد راتوں…

خبر کسے کہ وہ کتنا اداس رہتا ہے

خبر کسے کہ وہ کتنا اداس رہتا ہے

خبر کسے کہ وہ کتنا اداس رہتا ہے جو شخص اب بھی سراپا سپاس رہتا ہے سمجھ رہی ہے یہ دنیا جسے جدا مجھ سے وہ دور کب ہے میرے آس پاس رہتا ہے ہزار سالوں کی تہذیب اوڑھ کر انساں نظر…

دیکھ کر کیوں مجھے مسکراتے ہو تم

دیکھ کر کیوں مجھے مسکراتے ہو تم

دیکھ کر کیوں مجھے مسکراتے ہو تم یہ محبت ہے پھر کیوں چھپاتے ہو ہم کسی کے نہیں جب تمہارے سوا پھر ہمیں کس لیے آزماتے ہو تم لکھا نام تیرا دل و جان پر کس لیے دل ہمارا جلاتے ہو تم…

روشن ستارے

روشن ستارے

جدھر دیکھتا ہوں جلوے ہیں تیرے سب سے اونچے رتبے ہیں تیرے نہ جانے ہماری کیا حالت ہوتی بچائے ہوئے ہمیں سجدے ہیں تیرے اذان میں، نماز میں، میلاد میں مکان سے لامکاں چرچے ہیں تیرے سب جہانوں میں حکومت ہے تیری…

پسِ دیوار بھی اکثر صدائیں خوب ملتی ہیں

پسِ دیوار بھی اکثر صدائیں خوب ملتی ہیں

پسِ دیوار بھی اکثر صدائیں خوب ملتی ہیں یہاں پر دل لگانے کی سزائیں خوب ملتی ہیں محبت کرنے والوں کو جفائیں خوب ملتی ہیں کسی ٹُوٹے ہوئے دل پر ذرا سا پیار کا مرہم اگر بھُولے سے بھی رکھ دیں دعائیں…