خامشی کے بحر میں اُچھلن نہ کوئی کود ہے

خامشی کے بحر میں اُچھلن نہ کوئی کود ہے

خامشی کے بحر میں اُچھلن نہ کوئی کود ہے سوچ پہ سایہ ذہن پہ گرد جیسا دود ہے ذہن میں ایسے طلاطم فکر میں ایسے ملال کہ گئے لاکھوں فسانے مدعا مفقود ہے شوق ہے سجدہ گری تو سیکھ راز بندگی ماننے…

جس حسنِ عنایت سے چھنا گوشئہ رضوان

جس حسنِ عنایت سے چھنا گوشئہ رضوان

جس حسنِ عنایت سے چھنا گوشئہ رضوان صد آفریں اے خوشئہ گندم تیرے قربان اضدادِ مجسم ہے گھڑا پتلئہ خاکی بن جائے تو انسان بگڑ جائے تو شیطان جب روزِ اول بخش دی مختاری ء اعمال اب میرا کیا ہے کہ تو…

بکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوں

بکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوں

بکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوں میں کیا تھا، اور اب کیا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوں نہ جانے کس کا بدلہ لے گئی ہیں، ہوائیں مجھ سے کہ بس اک زرد پتا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا…

جو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کو

جو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کو

جو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کو بارہا میں نے بنایا ہے تماشا خود کو جو نامعلوم تھا پہلے اسے معلوم کیا پھر بہت دیر تلک غم میں جلایا خود کو کوئی بے مول سمجھتے ہوئے لے جائیگا اس دُھن…

اگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہے

اگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہے

اگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہے خلا اندر کا بھی تو اور بڑھتا جا رہا ہے نہ جانے کس جگہ جا کر رکے گا سلسلہ یہ بہت سے ‘آنگنوں’ میں صحن بٹتا جا رہا ہے ہمارے پاس گھر بھی…

دعا بھی دیتا ہے اور بددعا بھی دیتا ہے

دعا بھی دیتا ہے اور بددعا بھی دیتا ہے

دعا بھی دیتا ہے اور بددعا بھی دیتا ہے وہ کون ہے جو مجھے یوں سزا سی دیتا ہے میں اپنے آپ سے مخلص تو ہوں مگر کوئی درونِ ذات مجھے بددعا سی دیتا ہے بجا کے ابر نشانی ہے اُس کی…

کوئی پوچھے تو بتا دوں گا

کوئی پوچھے تو بتا دوں گا

کوئی پوچھے تو بتا دوں گا حال کیسا ہے سب سنا دوں گا مدتوں میں لکھا ہوا جیون ایک ہی سانس میں مٹا دوں گا اتنا کم فہم تو نہیں پھر بھی آپ کو دیوتا بنا دوں گا لوگ پوچھیں گے ماجرا…

دَر دَر خود کو یوں نہ رولو

دَر دَر خود کو یوں نہ رولو

دَر دَر خود کو یوں نہ رولو کبھی تو چندا آنکھیں کھولو سب روئیں تو دم گھٹتا ہے سب سے تنہا ہو کے رو لو شب کے تارے ، گنتی اور تم دن نکلا ہے کچھ تو سو لو جانے کونسا پتھر…

پتہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے

پتہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے

پتہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے ہر انچ اک میل ہوتا جا رہا ہے غروبِ شمس کا منظر ہے۔۔۔۔۔۔۔جیسے سمندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جھیل ہوتا جا رہا ہے جسے سمجھے تھے مہمل پہلے پہلے وہ خار اب۔۔۔۔۔۔۔۔کیل ہوتا جا رہا ہے کتابوں میں ”الف” سے ”…

میں سحرِ ناگہاں میں کھو گیا تھا

میں سحرِ ناگہاں میں کھو گیا تھا

میں سحرِ ناگہاں میں کھو گیا تھا ذرا سی دیر پاگل ہو گیا تھا کہانی میں نصیحت بھی تھی لیکن وہ بچہ سنتے سنتے سو گیا تھا سمندر جانتا ہے اس سے پوچھو ہوا میں کون آنسو بو گیا تھا سمندر آسماں…

زمین کی چھت پہ پڑا آسمان ہوں تنہا

زمین کی چھت پہ پڑا آسمان ہوں تنہا

زمین کی چھت پہ پڑا آسمان ہوں تنہا عمارتوں میں گھرا اک مکان ہوں تنہا ادھورے چاند کی صورت دریدہ عکس بھی ہوں تہہ کھنڈر بھی ، بکھرتا نشان ہوں تنہا کبھی ہوں بھیڑ کہ ۔۔۔۔۔تل دھرنے کو جگہ نہ ملے کبھی…

مثلِ عمرِ خبرِ تو جب زندگی رہ جائیگی

مثلِ عمرِ خبرِ تو جب زندگی رہ جائیگی

مثلِ عمرِ خبرِ تو جب زندگی رہ جائیگی دیکھنا، مضمون میں پھر تشنگی رہ جائیگی باقی ساری شان سے رسمیں ادا ہونے کے بعد کیا خبر تھی بس یہی اک رخصتی رہ جائیگی پہلے پہلے فون ہونگے، خط بھی لکھے جائینگے پھر…

یکسوئی

یکسوئی

عہد گم گشتہ کی تصویر دکھاتی کیوں ہو ایک آوارہ منزل کو ستاتی کیوں ہو وہ حسیں عہد جو شرمندہ ایفا نہ ہوا اس حسیں عہد کا مفہوم جتاتی کیوں ہو زندگی شعلہ بے باک بنا لو اپنی خود کو خاکستر خاموش…

اسطرح کرتے ہیں نیکی لوگ مجبوری کیساتھ

اسطرح کرتے ہیں نیکی لوگ مجبوری کیساتھ

اسطرح کرتے ہیں نیکی لوگ مجبوری کیساتھ جس طرح مزدور کا رشتہ ہو مزدوری کیساتھ وصل کی شب ہو کہ خوشبو، دل کو رہتا ہے ملال جان کا خطرہ بھی تو ہوتا ہے کستوری کیساتھ سامنے رکھنا اُسے ہر وقت مثلِ آئینہ…

روزوشب کا یہ سلسلہ ہے کیا

روزوشب کا یہ سلسلہ ہے کیا

روزوشب کا یہ سلسلہ ہے کیا تجھ سے ملنا بھی حادثہ ہے کیا عکس کیوں ایک سا نہیں رہتا وقت کیا اور آئینہ ہے کیا دیکھتا ہوں جب اپنی تحریریں سوچتا ہوں کہ یہ لکھا ہے کیا بے طرح یاد آ رہا…

وقت ہر اِک غبار سے باہر

وقت ہر اِک غبار سے باہر

وقت ہر اِک غبار سے باہر دفن ہے یہ مزار سے باہر آنیوالے ہجوم نے مجھ کو کر دیا ہے قطار سے باہر شیر سویا ہے اور جاگتی ہے اس کی ہیبت کچھار سے باہر جان لیوا ہے اس کو چھونا بھی…

حال کچھ اسطرح دلوں کا ہے

حال کچھ اسطرح دلوں کا ہے

حال کچھ اسطرح دلوں کا ہے جیسے ویران ساحلوں کا ہے راستہ جان بوجھ کر کھونا گو ہمیں علم منزلوں کا ہے کس سے دامن بچا کے گزرو گے شہر کا شہر سائلوں کا ہے کچھ تو شامِ سفر بھی گہری ہے…

مروت تھی کچھ گِلے تھے کہیں

مروت تھی کچھ گِلے تھے کہیں

مروت تھی کچھ گِلے تھے کہیں آرزوئوں کے سلسلے تھے کہیں دوریاں درمیاں تھیں پہلے بھی پر دلوں میں یہ فاصلے تھے کہیں اِک بھلا نام یاد پڑتا ہے تجھ سے پہلے بھی ہم ملے تھے کہیں ایک جنگل عمارتوں کا تھا…

یہ زہر ہے یا کوئی نشہ مٹھاس کا

یہ زہر ہے یا کوئی نشہ مٹھاس کا

یہ زہر ہے یا کوئی نشہ مٹھاس کا پیتا ہوں کب سے پر وہی عالم ہے پیاس کا آنکھوں کو خوں سے بھر گیا اِک ریزہ ریزہ خواب پائوں میں چبھ گیا کوئی ٹکڑا گلاس کا مفرور قیدیوں کو ڈسیں سرسراہٹیں سانپوں…

اِک نئے دور کی بنیاد کو رکھا جائے

اِک نئے دور کی بنیاد کو رکھا جائے

اِک نئے دور کی بنیاد کو رکھا جائے دور ماں باپ سے اولاد کو رکھا جائے شکوہ بے جا تو نہیں دنیا کے اس کمرے میں کس طرح مختلف افراد کو رکھا جائے شکل و صورت کے کھنڈر کی ہوئی تعمیر نئی…

آر سے پار نہیں نکلا

آر سے پار نہیں نکلا

آر سے پار نہیں نکلا عکسِ دیوار سے نہیں نکلا شہر بنتے گئے مگر انساں آج تک غار سے نہیں نکلا اُس کنویں میں پڑا ہوا صندوق ایک دو چار سے نہیں نکلا میں بہت سامنے ہوا اُس کے وہ حسیں کار…

پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہا

پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہا

پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہا جنگ تھی باہر گلی میں ، میں غزل کہتا رہا شاعری کی اور نظر انداز کی بچوں کی بھوک چاند کو روٹی کا نعم البدل کہتا رہا آ پڑا دل پر مرے آخر…

اُسی کا نام لیا جو غزل کہی میں نے

اُسی کا نام لیا جو غزل کہی میں نے

اُسی کا نام لیا جو غزل کہی میں نے تمام عمر نبھائی ہے دوستی میں نے چراغ ہوں میں اگر بُجھ گیا تو کیا غم کہ جتنی دیر جلا روشنی تو کی میں نے میں شیر دیکھ کے پنجرے میں خوش نہیں…

چھوڑی ہوئی بستی کا وہ منظر نہ ملیگا

چھوڑی ہوئی بستی کا وہ منظر نہ ملیگا

چھوڑی ہوئی بستی کا وہ منظر نہ ملیگا گھر لوٹ کے جائو گے تو وہ گھر نہ ملیگا اس جنگ میں گر جیت بھی جائو گے تو کیا ہے اس تاج کو رکھنے کیلئے سر نہ ملیگا اس شہر کے لوگوں کو…