علی رضا سید کا رکن یورپی پارلیمنٹ امجد بشیر کو بھارت جانے سے روکنے کی مذمت

Ali Raza Syed

Ali Raza Syed

برسلز (پ۔ر) کشمیر کونسل یورپ ( ای یو)کے چیئرمین علی رضاسید نے کہاہے کہ بھارت برطانوی رکن یورپی پارلیمنٹ امجدبشیرکو ویزا نہ دے کرکشمیریوں پر اپنے مظالم دنیا سے چھپاناچاہتاہے۔

برسلزسے جاری ہونے والے اپنے بیان میں چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے بھارت کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ امجدبشیرکو اس لئے ویزا نہیں دیاگیاکیونکہ وہ مظلوم کشمیریوں کی بات کرتے ہیں۔ یادرہے کہ امجد بشیرجو یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امورکمیٹی کے رکن بھی ہیں، کمیٹی کے دیگر اراکین کے ساتھ بھارت کے دورے پر جاناچاہتے تھے۔

بھارت نے امجدبشیرکی ویزاکی درخواست مسترد کردیاہے جبکہ کمیٹی کے دیگر اراکین کو بھار ت جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ بھارت کے اس فیصلے پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امورکمیٹی کے سربراہ ڈیوڈ میک آلیسٹرنے کہاہے کہ وہ اس معاملے کو بھارتی حکام کے سامنے اٹھائیں گے۔ رکن ای یوپارلیمنٹ امجد بشیرجو پاکستانی پس منظررکھتے ہیں، کاکہناہے کہ انہیں غیرسرکاری ذرائع سے پتہ چلاہے کہ کشمیرپر واضح موقف کی وجہ سے ان کا ویزا مستردکیاگیاہے۔

امجد بشیرجو یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کے رکن بھی ہیں، کشمیریوں کے حق خودارادیت کے زبردست حامی ہیں اور مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکام کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف کئی دفعہ بات کرچکے ہیں۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضاسید کاکہناہے کہ ایک رکن یورپی پارلیمنٹ کے ویزا کی درخواست کو مستردکردینا غیرجمہوری اقدام ہے اور اس طرح کا رویہ جمہوری اقدار اور عالمی قواعدو ضوابط کی خلاف ورزی ہے امجد بشیر کو بھارت جانے سے روکنے کا مقصد مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں پر پردہ ڈالناہے۔

خاص طورپریورپی برادری سے ان مظالم کوچھپاناہے۔علی رضاسید نے واضح کیاہے کہ جب تک مسئلہ کشمیرکشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل نہیں ہوتا، اس وقت تک جنوبی ایشیاء میں امن، استحکام اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتا۔

انھوں نے زوردے کرکہاکہ کشمیریوں کی جدوجہد پرامن ہے اور بھارت مظالم ڈھاکراس جدوجہد کوروک نہیں سکتا۔ کشمیری اپنے حق ارادیت کے لئے جدوجہدکررہے ہیں جس کا وعدہ خود بھارت نے کیاتھااور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں اس حق کو تسلیم کیاگیاہے۔

چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے عالمی برادری خصوصاً یورپی یونین سے مطالبہ کیاہے کہ وہ آگے آئیں اور بھارت کو کشمیریوں پر مظالم سے روکیں اور مسئلہ کشمیرکے پرامن حل کی راہ ہموار کریں۔