بچوں کی تربیت اور برطانیہ

Children

Children

تحریر : تنویر کھٹانہ
صبح ایک صاحب سے بہت دیر تک گفتگو ہوئی بیچارے اپنی قسمت اور اولاد کو بہت کوس رہے تھے۔ پوچھا چچا کیا وجہ ہوئی کہنے لگا بیٹا میں نے اپنی ساری زندگی اس دیار غیر میں اپنے بچوں کے لیے محنت مشقت کی لیکن جب اب میری باری آئی تو میں بلکل بے یارو مددگار ہوں کوئی بچہ بھی میرا پرسان حال نہیں۔ چچا اکبر تقریباً چالیس سال قبل برطانیہ میں آۓ بہت محنت مشقت کی۔ اوائل میں فیکٹریوں میں ملازمت کی دو دو کام کیے اور پھر اللہ کا کرم ہوا اور چچا اکبر نے ٹیکسی پاس کر لی۔ ٹیکسی کی کمائی اچھی ہونے لگی اس وقت مکان بھی سستے ہوتے تھے۔ چچا نے ایک دو مکان بھی خرید لیے اور چچا دن رات محنت کرتے۔ چچا کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ چچا صبح سویرے کام پر جاتے اور رات گئے گھر لوٹتے بچوں سے ان کی ملاقات بہت کم یا شاید عید شب برات پر ہی ہوتی۔

بچے بھی والد کی کمی کو محسوس کرتے رہے اور بعد میں عادی ہو گئے۔ والد کی توجہ نہ ملنے پر بچوں کی صحبت بری ہوگئ چونکہ والدہ گھر تک تو ان پر نظر رکھتی تھی باہر یہ انکے بس کی بات نہیں تھی ایک دن دونوں بیٹے کو کین بیچتے ہوئے گرفتار ہوئے اور ان کو پانچ پانچ سال کی سزا ہو گئ۔چچا کی بیٹی بھی کسی کے ساتھ بھاگ گئ۔

اس غم سے نڈھال ان کی بیوی بھی اس جہان فانی سے کوچ کر گئ اور آج چچا اکبر میرے سامنے بیٹھے مجھے اپنی روداد سنا رہے ہیں۔ برطانیہ میں ایک محتاط اندازے کے مطابق کم عمر بچے جو جرائم کرتے ہیں ان کی بنیادی وجہ والدین کی عدم توجہی ہے اور ایشین کمیونٹی میں جو بچے جرائم کرتے ہیں ستر فیصد تک ان بچوں کے والدین ٹیک آوے اور ٹیکسی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

Society

Society

یہ کہانی چچا اکبر کی ہی نہیں برطانیہ میں موجود تقریباً پچاس فیصد ایشین لوگوں کی ہے اور بعد میں ہم معاشرے، صحبت ، پانی ہی برا ہے اور نہ جانے کیا کیا الزامات عائد کرتے ہیں۔ چچا اکبر اور ان جیسے دوسروں لوگوں سے میرا سوال یہی ہے کہ ایک بچے کی تعلیم و تربیت میں جتنا حصہ ماں کا ہے اتنا والد کا بھی ہے بچوں کو دونوں والدین کی توجہ کی ضرورت ہے آپ نے اپنی زندگی میں وقت کام کو دیا بچوں کی بنیادی ضروریات ان کی خواہشات کو رد کیا اور اس وجہ سے آج آپ کو یہ دن بھی دیکھنا پڑا۔

آج اگر آپ اپنے بچوں کو وقت دیں گے تو وہ کل آپ کو بھی وقت دیں گے۔ لیکن ہماری ترجیحات صرف اور صرف پیسہ ہے ہم نے پاکستان میں محل یہاں کم از کم دو گھر اور لمبا چوڑا بینک بینکس رکھنا ہے چاہے اس کے لیے ہمارے رشتوں میں بیلنس ختم ہو جائے۔ ایشین جوڑوں میں بھی طلاق جی شرح میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا جس کی بنیادی وجہ شریک حیات کو وقت نہ دینا ہے۔ اکثر لوگ حلال اور حرام کمائی کو بھی الزام دیتے ہیں بلاشبہ یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے۔

لیکن کتنے والدین ہیں جو بچوں کو پڑھاتے ہیں میں ایسے بہت سے لوگوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جو شائد ہفتے میں دو گھنٹے سے زیادہ وقت اپنے بچوں کو نہیں دیتے تو جب کل وہ بری صحبت میں پڑ کر کچھ برا کرتے ہیں تو اس میں قصور بچے کا نہیں آپ کا ہے چونکہ آپ کے پاس اس کو دینے کےلیے وقت نہیں تھا۔ خدارا پیسہ کمانے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں ورنہ یہ نہ ہو کہ کل آپ بھی چچا اکبر کی طرح اولاد کو وہ الزام دے جس کی اولاد کم اور آپ زیادہ قصور وار ہیں۔

Tanveer Khatana

Tanveer Khatana

تحریر : تنویر کھٹانہ