یہ کمیشن خور معاشرہ

Commission

Commission

تحریر : حاجی زاہد حسین خان
لیاقت علی خان ایک پاکستانی پٹھان تھے لال سرخ۔ وہ جدہ کی ایک بڑی فیکٹری میں بحیثیت پرجیز مین اپائنٹ ہوئے کمپنی کے لئے دودھ چائے سے لے کر گاڑیوں کے پرزہ جات تک کی خریداری کرتے ایک دن ایک بڑے آرڈر کے لئے مارکیٹ کے لئے نکلے سامان خریدا ۔ مارکیٹ والوں نے ان کے کمیشن کے ساتھ بل بنایا۔ اور اچھا خاصہ کمیشن انکے ہاتھ میں تھما دیا۔ انہوں نے پوچھا یہ کیا ہے۔ جواب ملا یہ آپ کا حق ہے۔ آپ زیادہ سے زیادہ آرڈ ر لاتے ہیں آپ کو اسی طرح روزمرہ کمیشن ملتا رہے گا۔ انہوں نے کیا تاریخی جواب دیا۔ معاف کرنا جناب مجھے کمپنی اس کام کے لئے اچھی بھلی تنخواہ رہائش گاڑی اور کھانا دیتی ہے۔ اس ڈسکائونٹ اور کمیشن پر میرا نہیں میری کمپنی کا حق ہے۔ آ یہ کمیشن کمپنی کے بل سے نفی کر لیں۔

سٹور کے مالک نے ایک نظر لیاقت کو دیکھا اور بل کم کر کے اس کے ہاتھ تھما دیا۔ شام کو بل جب کمپنی کے سعودی مالک کی ٹیبل پر آیا تگو وہ ہکا بکا رہ گیا۔ مگر کچھ بولا نہیں مہینہ کی یکم تاریخ کو لیاقت علی خان کو دفتر بلایا ۔ کھڑا ہو کر سلیوٹ کیا اور پانچ صد ریال تنخواہ کے ساتھ اضافی ریال ۔ لیاقت کے ہاتھ تھما دیئے لیاقت کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے۔ مگر سعودی شیخ کی آنکھوں میں بھی آنسو ۔ ایک پاکستانی کی دیانت داری کا ثبوت تھے۔ اور قارئین لیاقت بیس سال اس کمپنی میں امانت اور دیانت کا عملی ثبوت بن کر اپنے وطن پاکستان کا نام روشن کرتا رہا ۔ مگر اسے کیا پتہ تھا کہ اہپنے وطن جاکر اس معاشرے میں گم ہو جائے گا جو سارے کا سار ا کمیشن پر ہی چلتا ہے۔ یہاں کمیشن در کمیشن کی لعنت گزشتہ دس سالوں میں خوب پھلی پھولی ہمارے تمام ادارے کمیشن دیتے اور لیتے ہیں۔ اسے نہ جرم سمجھتے ہیں نہ حرام اس جیسی حرام کمائی سے اولاد کی پرورش کرتے ہیں ایک دوکاندار سے لے کر ایک ملک مالک تک کمیشن لیتا دیتا ہے۔

قومی سودا گر باہر سے سونے کے بھائو خریداری کرتے ہیں۔ مٹی کے بھائو قومی دولت لٹاتے ہیں۔ اسلحہ کی خریداری ہو یا جہازوں ٹرینوں کی خریداری ریکوڈیک کی معدنی دولت ہو یا تھر پارکر کا کوئلہ ۔ گوادر جیسے منصوبے ہوں یا ڈیموں قومی شاہرائوں کی مصنوعات کے سودے بجلی کے پاور پلانٹ ہوں یا ستیل ملز کا خام مال جدھر دیکھیں کمیشن در کمیشن چھوتے سے چھوٹا برے سے بڑا کمیشن کے روپ میں اس ملک کو لوٹے جا رہا ہے۔ کل کے سڑک چھاپ سیاستدان حکمران تاجر آج کے بادشاہ بنے بیٹھے ہیں۔ اپنی اور اغیار کی جیبیں بھر رہے ہیں۔ آئے روز یہ کمیشن دس سے بیس فیصد اب سو فیصد بڑھتا جا رہا ہے۔ اور ملکی معیشت کا دھڑن تختہ کیا جا رہا ہے۔

وطن کا ہر شہری قرضوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا ہے ملکی تمام بڑے ادارے خسارے کا منہ بولتا ثبوت اور بند ہوتے جارہے ہیں۔ چیک اینڈ بیلنس کا کوئی وجو د نہیں۔ چوروں کا مال اور ڈاکوں کے گز مسلط ہیں۔ احتساب نمائشیں بن کر رہ گیا ۔ سزا جزا کا تصور نہیں اور پھر بدقسمتی سے ہر قومی ایشو ز پر ہر حادثات پر جوڈیشل کمیشن بنا کر کچھ مدت بعد سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے ۔ خدا کی پناہ اتنے بڑے بڑے حادثات پر کمیشن بیٹھا کر دفن کر دیئے گئے ہیں۔

ملک ٹوٹا کمیشن بیٹھا دیا سلالہ ایبٹ آباد حادثے پر کمیشن بہاولپور اور کوہاٹ حادثے ، کراچی بحریہ اور پنڈی ، پشاور حادثے پر کمیشن لیاقت باغ بے نظیر قتل اور لال مسجد حادثہ ، مسجدوں مدرسوں خانقاہوں بارگاہوں کے حادثے مگر کسی بھی بیٹھائے کمیشن نے اور جی آئی ٹی کا کوئی نتیجہ نکل نہ سکا۔ قوم کے سامنے مجرم نہ آسکے ۔ آج ہمارا پاکستان کمیشن زدہ اور کمیشن خور معاشرہ بن چکا ہے۔ فرد سے افراد تک اور دوکان سے اداروں تک ۔ یہ کمیشن خوروں کا یہ معاشرہ ہے۔ پولیس ہی نہیں ایجوکیشن اور ہیلتھ میں بھی بدیانت اور چوروں کا معاشرہ زہر بھری خوراک اور ملاوٹ کے بادشاہوں کا معاشرہ کتوں اور کھوتوں کا گوشت کھلانے والوں کا معاشرہ ۔ صحت کے نام پر دو نمبر دوائوں اور کمیشن لینے والے بدیانت ڈاکٹروں مسیحائوں کا معاشرہ قارئین یہاں کہیں بھی لیاقت علی خان جیسے دیانتدار نظر آتے ہیں نہ دیکھائی دیتے ہیں۔

بھلا ایسے میں ملک ترقی کیسے کرے اللہ کی رحمت کیسے نازل ہو۔ بدیانت حکمران فاقہ زدہ عوام بارشیں بند زلزلوں کا ہونا ۔ فساد اور دہشت گردی بدکرداری کا عام ہونا۔ یہ سب ہمارے اس بگڑے ہوئے معاشرے کی ہی سزا ہے ہماری بدیانتی چوری کی یہ سزا ہے ۔ بے راہ روی کے شکار نوجوان ملک کی معصوم بچے بچیوں کو درندگی کا شکار بنا رہے ہیں۔ درندوں کا کھلے عام پھرنا جنگل کے سے معاشرے کا ثبوت نہیں تو اور کیا ہے۔آئو ہم سب ملکر اپنی اصلاح کریں۔ جہاں جیسے کیسے بھی ہیں۔ سرکاری نجی ، ملازم مزدور حاکم رعایا توبہ تائب کریں۔ گائوں قریہ یا شہروں میں جہاں بھی ہیں۔ جھوٹ بدیانتی ، چوری کرپشن ملاوٹ سے توبہ کریں۔ برائی کے تمام کرداروں کا محاسبہ کریں لیاقت علی خان پٹھان جیسا پاکستانی شہری بنیں۔ تاکہ کل ہم بحیثیت پاکستانی شہری جہاں بھی جائیںآئیں اقوام عالم ہمیں بھی سلیوٹ سے نوازیں ۔ سبز پاسپورٹ کے ساتھ شلوار قمیض اور خداد اد پاکستان کی عزت و توقیر کا باعث بن سکیں انشاء اللہ

Haji Zahid Hussain

Haji Zahid Hussain

تحریر : حاجی زاہد حسین خان
ممبر آل پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ
hajizahid.palandri@gmail.com