جمہوری نظام کیخلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے: فضل الرحمن

Maulana Fazlur Rehman

Maulana Fazlur Rehman

اسلام آباد (جیوڈیسک) جمعیت علماءاسلام کے سر براہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جے یو آئی آئین کے نفاذ اور پارلیمانی عمل کے چلنے کی حامی ہے اور یہ نظام چلتا رہے گا اور جے یو آئی جمہوری نظام کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی، 73ءکا آئین متفقہ دستاویز ہے اس پر حکومت سمیت تمام جماعتوں کو عمل کرنے کا عہد کرنا چاہئے۔

وہ پارٹی رہنماﺅں مولانامحمد امجد خان، حافظ حسین احمد، حاجی شمس الرحمن شمسی، مفتی ابرار احمد سے گفتگو کر رہے تھے۔ فضل الرحمن نے کہا کہ عالمی دنیا سری نگر میں ہونے والے مظالم کا نوٹس لے۔ بھارتی فورسزکی فائرنگ سے شہادتیں کھلا ظلم اور جبر ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ کشمیر میں بھارتی فورسز مسلسل ظلم کر رہی ہے ہیں لیکن کشمیری عوام کے جذبے میں کوئی فرق نہیں آیا۔ عالمی دنیا خاموشی اختیار کر نے کے بجائے اپنا کردار ادا کرے نہ صرف ظلم بند کرانے بلکہ کشمیری عوام کے مطالبے پر توجہ دے۔

علاوہ ازیں مولانا سعید یوسف، مولانا عبدالقیوم اور عبدالرزاق عابد لاکھو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کا امتیازی رویہ افسوسناک ہے۔ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ناممکن ہے۔ کشمیری قوم کی خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پا کستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ دریں اثناءمولانا محمد یوسف، مولانا فضل علی حقانی اور دیگر رہنماﺅں نے گفتگو کرتے ہوئے فضل الرحمن نے کہا کہ حر مین شریفین کا تحفظ امت مسلمہ کا فرض ہے۔

علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمن سمیت فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ نے نادرا کی طرف سے شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے پشاور اور دیگر شہروں میں آنے والے ہزاروں لوگوں کے شناختی کارڈ نہ بنانے پر احتجاج کرتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور نادرا کے دفاتر کے باہر دھرنے دینے پر مشاورت شروع کر دی ہے جبکہ قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں خیبر پی کے سے تعلق رکھنے والے تمام ارکان چیئرمین نادرا عثمان مبین کے رویئے کے خلاف ایوان میں شدید احتجاج کریں گے اور تحریک استحقاق بھی جمع کرائی جائے گی۔

نادرا کی طرف سے گزشتہ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ضرب عضب آپریشن شروع ہونے کے بعد شمالی وزیرستان کے علاوہ فاٹا کے دیگر علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے سے انکار کیا ہے، اس معاملے پر مولانا فضل الرحمن نے وزیر داخلہ چوہدری نثار سے بھی بات کی تھی اور وزیر داخلہ کی ہدایت پر چیئرمین نادرا نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کر کے مسئلہ جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم ابھی تک نادرا نے شناختی کارڈ جاری نہیں کئے۔

اس ضمن میں جب مولانا فضل الرحمن سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے لیٹر پیڈ پر ایک سو پچاس قبائلی عمائدین اور شہریوں کو شناختی کارڈ بنانے کے متعلق ایک خط چیئرمین نادرا کو لکھا تھا جس میں میں نے یہ کہا تھا کہ ایک سو پچاس لوگوں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں انہیں شناختی کارڈ بنا کر دیئے جائیں لیکن ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود چیئرمین نادرا نے کوئی جواب نہیں دیا جس پر اب قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں شدید احتجاج کیا جا سکتا ہے اور ضروری سمجھا گیا تو چیئرمین نادرا کے رویئے کیخلاف تحریک استحقاق جمع کرائی جائیگی۔ دریں اثناءفاٹا کے دیگر ارکان نے بھی اس ضمن میں فضل الرحمن سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔