جمہوریت ہار گئی

Democracy

Democracy

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
پاکستان کے نظامِ سیاست کو جس طرح گذشتہ چار سالوں سے ڈِسٹرب رکھا گیا وہ مناظر ہم نے ہی نہیں ساری دنیا نے دیکھے ہیں۔یہ لوگ پاکستان کو اپنے مذمو م مقاصد کیلئے ہمیشہ سے استعمال کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے۔اُن کے مقاصد نے ہی بنگالیوں کو پاکستان کی یکجہتی کے خلاف کھڑا کیا اورپھر تاریخ کی عبرتناک شکست کے بعدہم اپنے چہروں پر سیاہی ملو کر اپنے بھیانک چہرے دنیا کو دکھاتے ہوئے لوٹے تھے۔مگر کلاکار پھر اس ملک کے سینے پر مونگ دلتے دوسری اور تیسری مرتبہ دیکھے گئے۔جو بھی ان سیاہ چہرے والوں کے مدِ مقابل آیا اُس کو یہ کم عقل طبقے بظاہر عبرت کا نشان بناتے چلے آئے ہیں۔ مگر ان کے ناموں کو مٹا نہیں سکے ہیں۔
جبھی تو جیالوں نے کہا تھا ’’تم کتنے بھٹو مارو گے؟ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘‘

مگر بڑی بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ بھٹوز کی آنکھیں بند ہوتے ہی بھٹوز کی میراس پر زرداری (آج کا سب سے بھاری)قابض ہوگیا اور مفاد پرستوں نے بد نامِ زمانہ شخص کو ہی اپنارہنما مان کر ملک کا سب سے بڑ اعہدہ دے کر ملک کو لُٹوادیا۔جبھی تو کسی نے کہا تھا ’’نانی تیری مورنی (اقتدار)کو مور لے گئے باقی جو بچا تھا کالے چور لے گئے‘‘ کالے چور جب اس ملک کی متاع چرا کے سرے محل اور نہ جانے کیا کیا بنائے گئے تو آنکھ پر پٹی باندھے بیلنسرز نے سب باتوں کو جھوٹ مان کر کلین چٹ پکڑانے کا تاریخی کارنامہ تکمیل کو پہنچا دیا۔اور ملک کے غریبوں کی لوٹی دولت واپس لانے کے دعویداروں نے ملک برائے فروخت کی تختی لگا کر اپنے آشرم ٹھنڈے رکھے۔

سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کا پاکستان میرے پُر کھوں کی محنت و جدو جہد سے بننے والے پاکستان سے کہیں ذرہ برابر بھی مماثلت رکھتا ہے؟آج شطرنج کے کھلاڑی اپنے مہروں یا کٹھ پتلیوں کو اپنے نہیں دوسرے ہاتھوں سے حرکت دلوا رہے ہیں۔جیسا کے سینٹ انتخاب سے آج ساری دنیا محوِ حیرت بنی ہوئی ہے۔ جس کا اظہاراندر اور باہر ہر دو جانب سے زبر دست طریقے پر ہو رہا ہے۔

جبھی تو مریم نواز کہنے پر مجبور ہوئی ،شطرنج کے مہرو!تم جیتے نہیں بلکہ تمہیں عبرتناک شکست ہوئی ہے…..بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکے جانے والو،قوم نے آج تمہارا اصل چہرہ دیکھ لیا ہے! ذرا عوام کے سامنے تو آؤ!…. اس حوالے سے مختلف تجزیہ نگاروں اور سیاست دانوں کی رائے کو بھی ذرا دیکھتے چلیں طلعت حسین کہتے ہیں کہ آج سینٹ کا چیئر مین منتخب نہیں ہوا بلکہ سینٹ کو قابو کیا گیا ہے۔ ن لیگ کے سعد رفیق کا ماننا ہے کہ آج سینٹ میں جمہوریت ہار گئی ہے۔اس ضمن میں ایک اور سینئر تجزیہ نگار مظہر عباس نے کیا خوب کہا ہے،بلوچستان سے شروع ہونے والا مشن کراچی سے ہوتا ہوا چیئر مین سینٹ کے انتخاب پر ختم ہوا۔ان تجزیہ نگاروں کی رائے سے کوئی مشکل سے ہی اختلاف کر پائے گا۔مسلم لیگی رہنما طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ،پتلی تماشہ جیت گیا عمران اور زرداری کٹھ پتلی الیون کے اوپنر ہیں، دونوں چاہتے ہیں کہ ووٹ کا تقدس نہ ہو اور ڈرائنگ روم کی سیاست چلتی رہے۔

سہیل وڑائچ سینئر تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ،صادق سنجرانی کی سینٹ چیئر مین کے طور پر کامیابی سے پاکستان میں نئی سیاست کی شروعات کردی گئی ہے۔ن لیگ کو عدالتی فیصلوں کے بعد آج سیاسی طور پر بھی نقصان ہوا ہے۔ اس بات سے بھی کسی کو اختلاف کرنے کی کہیں بھی گنجائش دکھائی نہیں دیتی ہے..ان کا یہ بھیکہنا ہے کہ .ن لیگ کو آج یہ اندازہ ہو گیا ہوگا کہ مقتدر طاقتوں کی حمائت سے محروم ہوجانے سے انہیں اور کیسے کیسے دھچکے لگ سکتے ہیں؟وزیرِمملکت مریم اورنگ زیب کہتی ہیں کہ ،آج تبدیلی لانے والوں کا بھیانک چہرہ ابھر کر سامنے آگئے ہیں۔سینٹ الیکشن ہو رہا تھا اور لوگ مبارک بادیں دے رہے تھے،نواز شریف نے خرید و فروخت کی اور نہ ہونے دی۔بلوچستا کے سیاسی رہنما حاصل بزنجو نے سینٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ،آج بھٹوز کا دور ختم ہو گیا۔ آج پارلیمنٹ مکمل طور پر ہار گئی ہے(جب انہیں چئر مین سینٹ کی طرف سے کہا گیا کہ مبارک باد دیں)تو میر حاصل بزنجو نے کہا کہ آج کس کو مبارک باد دوں؟ آج ایوان کا منہ کالا ہو گیا ہے ۔آج مجھے پارلیمنٹ میں بیٹھتے ہوئے شرم آرہی ہے ۔ آج مکمل طور پر ثابت ہو گیا کہ بالادست طبقے پارلیمنٹ سے بالا دست ہیں۔آج بے نظیر اور ذولفقار علی بھٹو زندہ نہیں رہے ہیں۔

ہر پاکستانی ذی شعور کے لئے جو کچھ کھلواڑ جمہوریت کے ساتھ ہو رہا ہے اس پر بے حد فکر مندی ۔کیونکہ آج جمہوریت خون میں لت پت ہو کر پنی ہارپر صدماتی جشن خون کے آنسووں سے منا رہی ہے۔پاکستان میں سیاست دانوں کا نہیں اداروں کی کٹھ پتلیوں کا سیاسی تماشہ سجایا جارہا ہے۔ہم ایک مرتبہ پھر اپنی اس بات کو دھراتے ہیں کہ یہاں پر ن لیگ کے خلاف آر او الیکشن کی تیاریاں ہر لحاظ سے مکمل کی جاچکی ہیں۔عین ممکن ہے تمہارے علاقوں کے انتخابات کو منعقد کرنے والے لوگوں کو بھی تبدیل کرا کے کٹھ پتلیوں کے علمبردار لگا دیئے جائیں۔نواز شریف اور ان کی لیڈر شپ کی ایک متحرک کھیپ کو نا اہل کر کے اڈیالہ جیل کا راستہ دکھا کرتمہارے تمام پر کاٹ کے تمہارے تمام کس بل نکالنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی۔تمہیں عوامی قوت پر جتنا ناز ہے اس کو توڑ کر تمہیں اکثریت کسی حال میں نہیں لینے دی جائے گی اور ہنگ پارلیمنٹ اس ملک کا مستقبل لکھ دیا گیا ہے۔

Shabbir Ahmed

Shabbir Ahmed

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
03333001671
shabbirahmedkarachi@gmail.com