ڈپٹی کمشنر نیلم راجہ ثاقب منیر شہید کی یادیں

 DC Naleem Raja Saqib Muneer

DC Naleem Raja Saqib Muneer

تحریر : چوہدری خالد حسین ایڈووکیٹ

خوشبو سے لیکر ستا روں کی حدوں تک اس شہر میں سب کچھ ہے بس تیر ی کمی ہے

موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ مالک حقیقی کے فیصلے اٹل ہیں زندگی کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو آخراسے موت کے سانچے میں ڈھلناہی ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ ہرذی رو ح نے ایک نہ ایک دن ضرورموت کا ذائقہ چکھناہے۔ بعض لوگوں کی موت سے صرف ان کے خاندان ویران ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کی موت سے اہل علاقہ جب کہ کچھ عظیم اورنامورایسی ہستیاں ہوتی ہیں جن کی ناگہانی موت سے پورے خطہ میں سوگ کاسماں ہوتا ہے۔ ان ہی نامورشخصیات میں ایک عظیم شخصیت فخر بھمبرڈپٹی کمشنرراجہ ثاقب منیرشہید کی ہے۔ جن کی ناگہانی موت نے پورے خطے کی ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔

ڈپٹی کمشنرراجہ ثاقب منیرکوہم سے بچھڑے ہوئے تین سال ہوگئے ہیں لیکن ان کی یادیں ان کی باتیں اس حقیقت کوتسلیم نہیں کررہی کہ وہ آج ہم میں موجود نہیں ہیں۔ آج بھی آزادکشمیربھرمیں ہرمحفل میں ان کے تذکرے اور اوصاف حمیدہ کی باتیں ہورہی ہیں۔ 12 اگست 1979 کو سیزفائرلائن پرواقعہ گائوں پیانہ بنڈالہ تحصیل سماہنی ضلع بھمبرکی سرزمین پرجنم لینے والانوجوان ڈپٹی کمشنرراجہ ثاقب منیرنے سول سروس میں بڑا نام کماکروہ مقام پیداکیاجس پرپوری وادی بلکہ آزاد خطہ کو بڑا فخر ہے۔

Azad Kashmir

Azad Kashmir

ڈپٹی کمشنر نیلم راجہ ثاقب منیرشہیدنہایت ہی مخلص ایماندار اور شریف نفس انسان تھے۔ انھوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے عوام کے دل جیت لیے۔ ڈپٹی کمشنرشہید جیسے لوگ صدیوں بعد پیداہوتے ہیں وہ انتہائی دوراندیش، معاملہ فہم آفیسر تھے۔ ڈپٹی کمشنرنہایت ہی خوبصورت ، نفیس ، ملنسار، مہمان نواز تھے۔ جس طرح ظاہری شکل وصورت میں اللہ تعالیٰ نے انھیں کمال خوبصورتی سے نوازاتھااخلاق وکردار کے حوالے سے بھی انتہائی باکمال شخصیت کے مالک تھے۔ سیرت وصورت میں بہترین خوبیوں کے حامل تھے۔

شہید ثاقب منیر روایتی آفیسر ہونے کی بجائے محب وطن، انسان دوست اور غریب پرور تھے۔ پہلی ہی ملاقات میں لوگو ں کے دلوں میں گھر کرلیتے تھے۔ معاملہ فہم اور وقت کی نذاکت کو سمجھ کرفوری فیصلہ کرنے والے ریاست جموں و کشمیر سول سروس کا درخشاں ستارہ تھے۔ انھوں نے ہمیشہ انسانیت کی خدمت واحترام کو بغیررنگ ونسل اپنافرض سمجھتے ہوئے اسے مقدم جانا۔ میں اس عظیم ماں کی عظمت کوسلام پیش کرتاہوں جنھوں نے عظیم سپوت کوجنم دیا اور اس کی تربیت ایسی کی کہ آنے والوں کے لیے ایک زندہ مثال قائم کی۔

شہید کی تربیت میں ان کے والد حاجی راجہ منیراللہ اور ماموں ڈائریکٹر اطلاعات آزاد کشمیر راجہ اظہراقبال کا بڑ ااہم رول ہے۔ اپنی عملی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے ہی شہید ثاقب منیرآزادکشمیرکے لوگوں کے دلوں میں گھر کرچکے تھے۔ ثاقب منیرشہید نے انتظامی امور روایتی انداز میں نہیں بلکہ عوام کا حقیقی خادم ، عوام دوست، سائیلان کا غم خوار بن کرسرانجام دیئے۔ انھیں بطور ڈپٹی کمشنرضلع نیلم تعینات کیاگیا۔ اپنی محنت ولگن سے انھوں نے جلد ہی ضلع نیلم کے ہرشخص کے دل میں جگہ بنالی۔ ضلع نیلم میں اپنے مختصرعرصہ تعیناتی کے دوران انھوں نے نیلم کے عوام کے لیے بے پناہ خدمات ہیں۔ نیلم ویلی کی عوام بنیادی ضروریات ٹیلی مواصلات کی فراہمی کے لیے شہید نے ایس سی او اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں اور عوام کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ نیلم میں ٹورازم کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کروائے۔

Neelum Azad Kashmir

Neelum Azad Kashmir

نیلم میں معیار تعلیم کو بلند کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی کوششیں کیں۔ لائق اور محنتی طلباء کے لیے سکالرشپ کا اہتمام کیا۔ انھوں نے نیلم ویلی کی عوام کی ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک رسائی کو آسان بنایا۔ انھوں نے عوام کی عزت ونفس حقوق کا ہمیشہ خیال رکھااور عوام کے مفاد میں اہم کرداراداکیا۔ شہید راجہ ثاقب منیرنے فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے مفاد سرکارمیں اپنی زندگی کوبھی قربان کر دیا۔

شہید ڈپٹی کمشنرراجہ ثاقب منیر کی زندگی کے سحر انگیز پہلوئوں کوفراموش کرنامیرے لیے ممکن نہیں۔ انھوں نے بحیثیت انتظامی آفیسر آزادخطہ میں اپنے اعلیٰ کردار کی وجہ سے جوکارہائے نمایاں سرانجام دیئے ان کی وجہ سے ثاقب منیرشہید آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ انسانیت کی شخصیت اس کی کردار کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے جوکسی عہدے کی محتاج نہیں ہوتی۔ ایسے انسان مرنے کے بعد بھی زندہ جاوید رہتے ہیں۔

ڈپٹی کمشنرراجہ ثاقب منیرکی بے وقت موت سے خطہ مایہ ناز فرض شناس آفیسرسے محروم ہوگیا۔ ان کی ناگہانی موت پورے آزاد کشمیر کے لیے سانحہ ہے۔ ان کی ناگہانی موت مدتوں بعد بھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔ ایسے لوگوں کوتاریخ اپنے سنہری حروف میں یاد رکھتی ہے۔ اللہ تعالی مرحوم کو اپنے جواررحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

Ch.Khalid Hussain

Ch.Khalid Hussain

تحریر : چوہدری خالد حسین ایڈووکیٹ