مکالمہ

News

News

تحریر: نوید احمد۔ بحرہ ،جدہ
خواتین و حضرات! اس خبر انگیز دنیا میں جب شہر کا شہر باخبر نظر آتا ہے، جب خبر رساں ادارے خبر کی صحت یا ساکھ (Credibility) کی بجائے خبر میں ہیجان Thriller)) پیدا کرتے نظر آتے ہیں، جب خبر کی ترسیل (Transmission) کی بجائے خبر کی تشہیر (Advertising) پر زیادہ توجہ دی جاتی ہو، جب آزادیء اظہار کے نام پر حجلہ ء عروسی کی داستان میڈیا پر بیان کی جاتی ہو، معروف شخصیات کی نجی زندگی کو پبلک پراپرٹی قرار دے کر اس پر طبع آزمائی کی جاتی ہو۔

جب “جو دکھتاہے وہ بکتا ہے”جیسے بیانیے (Narrative) کے تحت ہوش ربا پروگرام سکرین کی زینت بنتے ہوں اور ثناء خوانِ تقدیس مشرق کی زبان بند رہے تو ایسے وقت میں بعض پیشہ ور صحافی اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لیے اور اپنے آپ کو باخبر ثابت کرنے کے لیے کئی تاریک گوشوں سے خبر نکال کر لاتے ہیں، ایسی صورتحال میں بعض اوقات خبر کا مزاج مجروح بھی ہو جاتا ہے جو قابل تعریف نہیں،بہرحال ایک واقعہ کے بارے میں آئے روز سنسنی خیز انکشافات کرنے والے ایک باخبر صحافی سے گفتگو پیش خدمت ہے۔

Journalist

Journalist

سوال: آپ کے نزدیک خبر کسے کہتے ہیں؟
باخبر صحافی: خبر وہی ہے جس کے Whatsapp پر زیادہ سے زیادہ کلپ (Clip) شیئر ہوں، جس سے صحافی کو Google میں بار بار Browse کیا جائے، اس کے سماجی تعلقات میں اضافہ ہو ،ٹی وی چینل کی ریٹنگ بڑھے۔

سوال: کیا صحافی یا رپورٹر کے لیے مناسب تعلیمی قابلیت ضروری نہیں تاکہ وہ ذمہ داری سے اپنا فرض ادا کر سکے؟

Educated

Educated

با خبر صحافی: ہمارا ملک ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شامل ہے، شرح خواندگی بہت کم ہے اس لیے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح صحافت میں بھی کم تعلیم یافتہ یا غیر تعلیم یافتہ افراد موجود ہیں،دوسری وجہ صحافتی اداروں کے مالکان کا ضلع اور تحصیل کی سطح پر موجود صحافیوں کو باقاعدہ تنخواہ نہ دینا ہے،

سوال:صحافتی اخلاقیات کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
باخبر صحافی: اگر صحافتی اقدار یا صحافتی اصولوں کو مد نظر رکھا جائے تو اکثر صحافی بے روزگار ہو جائیں۔

سوال:شادی اور طلاق جیسے ذاتی اور حساس موضوع پر آپ جیسے سینئیر صحافی کا خبر بریک کرنا کیا اعلیٰ صحافتی اقدار کی عکاسی کرتا ہے؟ باخبر صحافی:دیکھیں جی! میرے والد صاحب کہا کرتے تھے کہ خبر ایک مقدس امانت ہے اس میں خیانت نہیں کرنی چاہئیے،اسے عوام تک ہر حال میں پہنچنا چاہئیے،حق بحقدار رسید!۔

Complaints

Complaints

سوال:آج کل لوگوں کو صحافیوں سے کافی شکایات ہیں لیکن اس کے ازالے کے لیے کوئی مناسب فورم نہیں، کیا ایک مضبوط اور آزاد پریس اور پبلیکیشن کمیشن کا قیام بہت ضروری نہیں؟

با خبر صحافی: صحافت ،ریاست کا چوتھا ستون ہے، ہم نے اس ملک میں صحافت جی آزادی کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیںہمیں یہ آزادی کشکول میں نہیں ملی،کوئی شخص یا ادارہ صحافیوں پر قدغن نہیں لگا سکتا،البتہ اگر کوئی صحافی اپنا احتساب خود کرنا چاہے تو کوئی مضائقہ نہیں،

تحریر: نوید احمد۔ بحرہ،جدہ
ایڈیٹر انچیف جہلم لائیو