ڈان باسکو اسکول میں قومی سیمینار بعنوان”مشتاق احمد نوری۔ حیات و خدمات”کا انعقاد

Seminar

Seminar

پٹنہ : مورخہ 29 جولائی بروز سنیچر 2017ء 10 بجے دن، بمقام ڈان باسکو اسکول، بی بی پاکر ، دربھنگہ میں محمد علی اشرف فاطمی کی صدارت میں المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ دربھنگہ کے زیر اہتمام،قومی سیمینار بعنوان”مشتاق احمد نوری۔ حیات و خدمات”کا انعقادکیا گیا۔ پروگرام کا افتتاح وجنتی کھیریا ، میئر دربھنگہ نگر نگم دربھنگہ نے کیا۔ کلیدی خطبہ پروفیسر عبدالمنان طرزی نے دیا۔ مہمانان خصوصی کے طور پرمشتاق احمد نوری، سکریٹر ی بہار اردو اکیڈمی ، پٹنہ ،مصطفی کمال انصاری ، رجسٹرار للت نرائن متھلا یونیورسٹی ، دربھنگہ ،ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری ، صدر شعبۂ اردو ،میرٹھ یونیورسٹی موجود تھے۔

نظامت کے فرائض ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے انجام دیئے۔ ٹکنیکل سیشن کی صدارت پروفیسر رئیس انور رحمن، شعبۂ اردو ، ایل این متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ،ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، شعبۂ اردو، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ، ڈاکٹر کلیم الرحمن کاکوی نے کی۔ اس موقع پر مہمانان خورشید حیات، چھتیس گڑھ، احمد اشفاق ، (سکریٹر بزم اردوقطر)موجود تھے۔صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر علی اشرف فاطمی نے مشتاق احمد نوری کی شخصیت اور خدمات پر سمینار کے انعقاد پر المنصور ایجوکیشنل ٹرسٹ اور مشتاق احمد نوری کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اردو زبان و ادب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو محبت کی زبان اور گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی زبان کی ترقی و ترویج کے لیے ضروری ہے کہ اسے روزگار سے جوڑا جائے۔ اردو کی بقا و تحفظ کے لیے بھی اسے روزگار سے جوڑنا انتہائی ناگزیر ہے۔

سابق ایم ایل اے اظہار احمد نے اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے مشتاق احمدنوری سے اپنے دیرینہ مراسم پر روشنی ڈالی۔ دربھنگہ کی میئر وجنتی کھیریا نے اردو زبان کی شیرنی اور مقبولیت کو اپنی گفتگو کا موضوع بنایا۔ ڈاکٹر فراز فاطمی (ایم ایل اے) نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے سمینار کے کامیاب انعقاد پر ٹرسٹ کے سکریٹری اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔ مشتاق احمد نوری نے سمینار کے انعقاد پر المنصور ایجوکیشنل ٹرسٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ نام و نمود کی پروا سے بے نیاز ہو کر خاموشی سے اپنا کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے المنصور ٹرسٹ کی سرگرمیوں کی ستائش کی۔ افتتاحی سیشن میںنوجوان شاعر کامران غنی صبا کے شعری مجموعہ پیام صبا کا اجرا بھی عمل میں آیا۔

ٹرسٹ کے سکریٹری ڈاکٹر منصور خوشتر نے اپنی افتاحی گفتگو میں کہا کہ مشتاق احمد نوری دوسری بار بہار اردو اکیڈمی کے سکریٹری مقرر ہوئے ہیں۔ بہار اردو اکادمی نے صرف دانشوران اردو، شعرا و ادبا تک ہی اپنی کارکردگیوں کو محدود نہیں رکھا بلکہ طلبہ و طالبات کی تربیت اور ان میں شعری و ادبی ذوق کو جلا بچشنے کے لیے بھی پیش رفت کی۔ اکادمی کی تاریخ میں کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے لیے پہلی بار بیت بازی کا مقابلہ منعقد کیا گیا۔صرف اتنا ہی نہیں اکادمی یونیورسٹی کے طلبہ کا ایک قومی ریسرچ اسکالر سمینار کرانے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔ صحافت کے معیار کو بلند کرنے کے لیے بھی اکادمی نے منصوبے بنائے ہیں اور اس سلسلہ میں عملی پیش رفت بھی ہو چکی ہے۔اس موقع پر مقالہ نگاروں نے اپنے خیالات کا اظہار بڑے خوبصورت انداز میں کیا۔ احتشام الحق نے مشتاق احمد نوری کے افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا۔

ڈاکٹر احسان عالم نے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا :مشتاق احمد نوری کا تعلق اردو ادب سے گہرارہا ہے۔ اپنی ادبی زندگی کا آغاز بچوں کے لئے کہانیاں لکھنے سے کیا۔ ان کی افسانہ نگاری کی شروعات ١٩٦٧ء میں ہوئی۔ بچوں کے لئے بہت سے عمدہ افسانے لکھے۔ یہ افسانے ”کھلونا ” دہلی، ”نور ڈائجسٹ” رامپور، ”ٹافی”لکھنؤ، ”مسرت” پٹنہ، ”پیام تعلیم” دہلی، ”امنگ” دہلی اور دیگر کئی رسائل میں شائع ہوئے۔ ان افسانوں کو بچوں کے علاوہ بڑے دانشوروں نے بھی سراہا۔

ڈاکٹر مستفیض احد عارفی نے کہا کہ مشتاق احمد نوری کو اردو ادب میں افسانہ نگار کی حیثیت سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ انکی اور بھی حیثیتیں ہیں لیکن میرا وہ موضوع نہیں۔۔۔۔! موصوف نوری کی شخصیت، انکا زمانہ، انکے مشاغل اور ادب سے متعلق انکی سرگرمی سب عیاں ہیں، اسلئے انداز نگارش کے آئینہ میں مدعا انکے افسانوی اسلوب اور انکے مجتہد ہونے سے ہے۔

ڈاکٹر مجیر احمد آزادمعروف افسانہ نگارنے اپنی گفتگو کچھ اس انداز میں کی”مشتاق احمد نوری کے افسانوں کے کردار”(زیادہ حقیقت تھوڑا فسانہ)کے عنوان سے ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے افسانہ ”گلاب بابو ”کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس افسانے میں ایک کردار سے سامنا ہوتا ہے جسے گلاب چندر یادو عرف گلاب بابو کہتے ہیں۔ وہ آفس میں کلرک کے عہدہ پر فائز ہیں ۔ان کے اندر آفس بابو کی ساری خوبیاں ہیںسوائے رشوت خوری کے ۔کام بہت کم کرنا مگر خود کو مصروف دکھانا ،دفتر دیر سے آنا اور دیر آنے کی وجہ سوچ کر آنا،سویرے جانا لیکن آفس کے تمام اسٹاف سے حسن سلوک ،خوش مزاج ۔اسٹاف کے کہنے پر چائے پلانے کو تیار۔ان کا اسکوٹر اور پھر موپیڈ ، ان کے آنے جانے کی سواری ۔ گفتگو میں سادگی ایسی کہ سامنے والا مسکرا کر رہ جائے۔افسرکو ان سے کام نہیں کرنے کے لئے ڈانٹتے ہیں تو ان کا جواب سادگی سے بھرا ہوا ہی نہیں پر مزاح بھی ہوتا ہے ،یہ کہانی ان کی بہترین کہانیوں میں سے ایک ہے۔

ڈاکٹر کلیم الرحمن کاکوی نے اپنے مخصوص انداز میں مشتاق احمد نوری کی شخصیت پر خاکہ پیش کیا۔ مشتاق احمد نوری کا خاکہ پیش کرتے ہوئے انہوںنے ان کی تصویر کشی کچھ اس طرح کی: گردن سے اوپر شریعت و مذہبی رنگ کا غلبہ و برتری اور ابال و اچھال ایسا کہ مولانا بخاری کے عبا چوغا کے آگے ان کی ہیت اور رعب داب سر چڑھ کر بولے لیکن گردن سے نیچے سرکتے سرکتے افسری کا خمار کچھ ایسا کہ جیسے کوئی پولیس آفسیر آن ڈیوٹی ہو۔

معروف ناقد ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی(پٹنہ یونیورسٹی) نے مشتاق احمد نوری کے افسانوں کا نفساتی اعتبار سے جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ زندگی نوری صاحب کے سامنے تجربے سے زیادہ مشاہدے کی شکل میں آئی ہے اور مشاہدے کی صورت میں حاصل ہونے والی زندگی میں مشاہدات کی بوقلونی برقرار رہتی ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے جواں سال ریسرچ اسکالر غلام نبی کمار نے مشتا ق احمد نوری کی شاعری کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوری کے کلام میں اعتبار و اعتماد جھلکتا ہے۔ وہ زندگی کی تلخ سچائیوں کو اپنی شاعری میں جگہ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری ، صدر شعبۂ اردو ،میرٹھ یونیورسٹی نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشتاق احمد نوری کی کہانی’ جادو گر’ حقیقت میں ایک فریب نظر ہے۔ قاری پوری کہانی میں حیران، تجسس اور جادو کو ڈھونڈتا رہتا ہے۔لیکن اسے سوائے اس کے کہ جادو گر آ کر اپنے وقت پر آ نے کے جواز کے طور پر گھڑیوں کے وقت کو روک دیتا ہے، قاری یہاں بھی الجھ کر رہ جاتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ یہ کیا ہوا۔
سلمان عبدالصمد(جے این یو، دہلی) نے کہا کہ مشتاق احمد نوری کے مکمل افسانوی سرمایے سے قطع نظر مجموعہ ‘بند آنکھوں کا سفر’ اور دیگر ایک درجن افسانوں کے مطالعہ کی بنیاد پر راقم یہ کہنے میں حق بہ جانب ہے کہ وہ موضوعات کی جستجو میں افتاں وخیزاں تخیلات کی وادی میں بھٹکتے ہیںاور نہ ہی نئے موضوعات کے زعم میں ایسی من گھڑت اکائیاں تیار کرتے ہیں، جن سے اخلاق باختگی لازم آئے یا پھر نفسیاتی پیچیدگیوں کے حیرت انگیز مناظر سامنے آئے۔کامران غنی صبا نے بحیثیت اعلی افسر اور انتظام کار مشتاق احمد نوری کی خدمات کی ستائش کی۔

خورشید حیات، چھتیس گڑھ نے اس موقع پر اپنے مقالہ میں کہا کہ مشتاق احمد نوری ایک ایسے افسانہ نگار کا نام ہے جو ہنگامے اور پروپگینڈے سے دور سفید کاغذوں پر بکھری ہوء زندگی رنگ تحریر کو عبادت سمجھتا ہے۔مشتاق احمد نوری کہانی قبیلے کے ایک ایسے درویش کا نام ہے جو گم ہوتی انسانیت کی” تلاش ” میں جب ” جن کی سواری ” کرتا ہے تو روشنی میں بھیگے ہوئے شہر کے لوگ ” لمبے قد کا بونا ” نظر آتے ہیں۔ پروفیسر قیام نیر، عالم گیر شبنم، علائوالدین حیدر وارثی نے مشتاق احمد نوری کی حیات و خدمات کے تعلق سے اپنے تاثرات پیش کیے۔

سمینار کے لیے پروفیسر اعجاز علی ارشد، عبد الصمد،مناظر عاشق ہرگانوی،امام اعظم،سید احمد قادری، احمد صغیر،ڈاکٹر زرنگار یاسمین، فاروق ارگلی،حقانی القاسمی(دہلی)، نور الحسین(مہاراشٹر)، نوشاد منظر(دہلی)،امان ذخیروی، نذیر فتح پوری اور محمد فہیم الدین نے ای میل کے ذریعہ اپنے مقالے پیش کیے۔ سمینار میں انور آفاقی، پروفیسر احتشام الدین، اظہر نیر،ڈاکٹر محمد بدر الدین، تسکین اعظمی، جمال الدین، فردوس علی ایڈوکیٹ، پروفیسر امتیاز، جاوید اختر، حسین منظر،منور راہی، احتشام الحق، منظر صدیقی، شاہنواز،سمیر خان، محمد حامد انصاری، عرفان احمد پیدل، ڈاکٹر عقیل احمد صدیقی، شاہد اطہر، شافع عالم، آفتاب عالم، امتیاز احمد، محمد شمشاد، ابوالکلام سمیت کثیر تعداد میں باذوق سامعین موجود تھے۔اسکول کے پرنسل ڈاکٹر ایس ایچ اے عابدی کے شکریہ کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔