ڈاکٹر منصور خوشتر کو ان کی ادبی و صحافتی خدمات کے لیے ‘محسن دربھنگوی’ ایوارڈ سے نوازا گیا

Darbhanga

Darbhanga

پٹنہ (پریس ریلیز) اردو زبان کے فروغ کے لئے ہمیں ہر وقت تیار رہنے کی ضرورت ہے، جب تک ہم خود اس جانب توجہ نہیں دیں گے تو اس میں کامیابی ممکن نہیں ہے۔ منصور خوشتر نے اردو ادب سے پناہ محبت کرتے ہوئے اس کے فروغ کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ جس کا ثمرہ ہے کہ آج انہیں کاشانۂ طرزی اور ملت کالج کے زیر اہتمام محسن دربھنگوی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ایوارڈ ملنے سے کام کرنے والے کو حوصلہ ملتا ہے اور منصور خوشتر نے جس ہنر مندی اور سوجھ بوجھ سے کام کیا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ ہمیں آپسی اختلافات کو مٹاکر آگے بڑھنا چاہئے۔ یہ باتیں سابق مرکزی وزیر مملکت برائے فروغ انسانی وسائل حکومت ہند محمد علی اشرف فاطمی نے ملت کالج میں منعقد ایوارڈ تقریب سے بحیثیت صدر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ میری دعائیں منصو ر کے ساتھ اور میں اس کے روشن مستقبل کے لئے دعا گو ہوں۔ للت نرائن متھلا یونیورسٹی کے رجسٹرار مصطفی کمال انصاری نے بحیثیت مہمان خصوصی کہا کہ یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ پروگرام میں تین نسلیں ایک ساتھ دیکھنے کو مل رہی ہیں۔

پروفیسر عبدالمنان طرزی نے منصور خوشتر کو محسن دربھنگوی ایوارڈ دے کر خوش آئند شروعات کی ہے۔ منصور نے اپنی تیس سال عمر میں جتنے کام کئے ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ان کی کتاب ”بہار میں اردو صحافت۔سمت و رفتار” جھارکھنڈ کے ایم اے کے نصاب میں شامل ہے۔ یہ اہل دربھنگہ کے لئے خوشی کی بات ہے۔ للت نرائن متھلا یونیورسٹی خاندان کی جانب سے میں منصور خوشتر کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے صحافی عبدالمتین قاسمی نے کہا کہ ہم لوگوں کے لئے خوشی کی بات ہے کہ ہمارے ہم عصر جنہوں نے اردو ادب کے فروغ کے لئے ہر ممکن کوشش کی انہیں ہمارے گارجین ایوارڈ سے نواز رہے ہیں۔اس سے قبل منصور خوشتر کو محسن دربھنگوی ایوارڈ محمد علی اشرف فاطمی، للت نرائن متھلا یونیورسٹی کے رجسٹرار مصطفی کمال انصاری ، مشہور ناول نگار آچاریہ شوکت خلیل،ملت کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد رحمت اللہ ، للت نرائن متھلا یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر شاکر خلیق ،الہ آبادبینک کے سابق سینئر منجیر انظار احمد ہاشمی، ڈاکٹر سید ظفر آفتاب حسین اور پروفیسر حافظ عبدالمنان طرزی کے ہاتھوں دیا گیا۔ پروگرام کے روح رواں پروفیسر حافظ عبدالمنان طرزی نے پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ منصور خوشتر اپنے ہم عصروں میں مثال ہیں۔ ان کے جیسا عزم ہمارے اور بچوں میں آجائے تو یقینا بہت کچھ ہوگا ۔ انہوں نے اپنی طویل نظم پیش کی۔

صحافی حق بیاں گر تو، ادیبے با خبر بھی ہے
غمِ جاناں و دوراں کا وہ شاعر معتبر بھی ہے
وہ عصری آگہی کا نَےْ نوائے خوب تر بھی ہے
نگارش سے عیاں تابانیٔ ذوقِ نظر بھی ہے
جنونِ شوق کی پونجی سے وہ محشر بداماں ہے
گلِ خوش رنگ سرمایہ ہے جس کا، وہ گلستاں ہے
جو ہے ”کچھ محفلِ خوباں کی” اس کا شعری مجموعہ
سلیقہ جس میں اظہارِ حدیثِ دل کا دکھلایا

مشہور و معروف ناول نگار اور متھلا مائنوریٹی ڈنٹل کالج کے چیئر مین آچاریہ شوکت خلیل نے کہاکہ منصور خوشتر نے جس عمر میں یہ مقام پایا ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اور بھی ترقی کریں گے اور اسی طرح اردو زبان وادب کی خدمت کرتے رہیں گے۔ پروفیسرشاکر خلیق نے کہا کہ آج کی ادبی مجلس میں دربھنگہ کے تین نسلوں کے لوگ موجود ہیں ۔ وہ تین نسلوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ منصور ان تینوں نسلوں میں مقبول ہیں۔ کچھ اپنی ادبی اور صحافتی کارگذاریوں کی وجہ سے اور کچھ ٹرسٹ کے ذریعہ کے گئے پروگراموں کی وجہ سے۔ بزرگ ادبا کو چاہئے کہ نئی نسل کے قلم کاروں کی ہمت افزائی کریں اور نئی نسل کا یہ شیوہ ہوا بزرگوں سے تربیت حاصل کریں اور ان کی قدر کریں۔ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے کہا کہ منصور خوشتر کی کارگزاریوں کو ان کی تصنیفات و تالیفات اور ادبی فعالیت کی روشنی میں دیکھا جانا چاہئے تو یہ واضح ہوگا کہ اس نوجوان ادیب نے اپنی بساط سے کہیں زیادہ زبان وادب کے میدان میں خود کو فعال رکھا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کارنامے انجام دینے کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی ۔ اس لحاظ سے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں اور اپنی سرزمین پر اعزازیابی ہونے کا ان کا حق حاصل ہے۔ وہیں ملّت کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد رحمت اللہ نے اپنے خطاب میں کہ نوجوان ادیب وشاعر ڈاکٹر منصور خوشتر نے اس کم عمری اور مختصر مدت میں اردو ادب کو جو عروج بخشا ہے وہ دربھنگہ اور اہلِ دربھنگہ کے لئے فخر کی بات ہے ۔ اللہ انہیں اور عروج بخشے۔

استاذ الاشعراء رہبر چندن پٹوی نے کہا کہ جس طرح سونا آگ میں تپ کر خوبصورت زیور کی شکل لیتا ہے اسی طرح منصور خوشتر نے اپنے آپ کو صرف پندرہ سال کی عمر سے آگ میں تپایا ہے تب جاکر اسے یہ مقام حاصل ہوا ہے۔

ڈاکٹر قیام نیر ،اظہر نیر،ڈاکٹر منظر سلیمان ،سلطان احمد شمسی ، جنید عالم آروی ،سید محمود احمد کریمی نے کہا کہ ڈاکٹر منصور خوشتر نے اپنی صحافت کے ذریعہ دربھنگہ ٹائمز کو اردو عالمی برادری میں بام عروج پر پہنچایا ہے۔ جناب طرزی کے ذریعہ انہیں ایوارڈ دیا جانا اردو کی ترقی میں ایک نمایاں قدم ہے۔ ڈاکٹر احسان عالم نے کہا کہ اردو ادب کی خدمت میں ڈاکٹر منصور خوشتر اپنے تن من دھن سے لگے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کی تعریف کی جانی چاہئے تاکہ ان کا حوصلہ اور بلند ہوسکے۔ انور آفاقی نے گلف ممالک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا رسالہ دربھنگہ ٹائمز صرف ہندوستان ہیں نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر جانا پہچانا جارہا ہے۔ یہ دربھنگہ اور اہل دربھنگہ کے لئے باعث فخر ہے۔ اقرا اکیڈمی کے ڈائرکٹر انجینئر خورشید عالم نے کہا کہ میں ڈاکٹر منصور خوشتر کو بہت بچپن سے جانتا ہوں۔انہوں نے ابتدائی دور سے ہی محنت کی اور آج اپنی پہچان بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ الہ آباد بینک کے قیصر عالم نے منصورخوشتر کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ بہت ہی نیک صفت انسان ہیں۔ اپنے کام کے تئیں لگن رکھنے والا شخص ہے۔

اس موقع پر پروفیسر امتیاز احمد، نسیم الدین احمد، احتشام الحق، مستفیذ احد عارفی،وارث علی،منظر الحق منظر صدیقی، نسیم رفعت مکی ، عقیل احمد صدیقی، نثار احمد (سوشل سروسز ٹرسٹ)، وسیم اختر، حسن وارث، پروفیسر عطاء الرحمن، ایس ایم جاوید اقبال (سکریٹری مسلم اسکول)، علی حسن انصاری، عرفان احمد پیدل ،اقبال شیدا ،حامد انصاری، شاہد اطہر، محمد شمشاد کے علاوہ درجنوں لوگ شامل تھے۔ آخر میں ڈاکٹر سید ظفر آفتاب حسین نے آئے ہوئے مہمانوں کا استقبال اور شکریہ ادا کیا اور ان کی دعائوں کے ساتھ ناظم محفل مولانا عبدالودود قاسمی نے اختتام کا اعلان کیا۔