پروفیسر ڈاکڑ شبیر احمد کو مسلح دشت گروں لوٹ لیا

Karachi

Karachi

کراچی : سینئر کالم نگار اور رئٹرپرفیسر ڈاکٹر شبیراحمد خوشید کو8دشت گردوں نے لاندھی سے پیچھا کرتے ہوئے کورنگی کے ناصر جمپُ کے پاس گاڑی کے گرد گھیرا دے پہلے گن پوائنٹ پر ان کی گاڑی رکوائی ۔ڈاکٹر شبیر احمد سمجھے کہ دہشت گرد فون چھننا چاہتے ہیں اہنوں نے موبائل نکالا تو دہشت گرد جن کی عمریں 18 سے 25 سال کے درمیان تھیں دونوں جانب کے دروازے کھو کر انہیں ہتھیاروں سے بٹیں مار مار کر 65 سال کی ضعیف عمر لہو لہا ن کر دیااور انکی جیب سے ایک لاکھ روپے جو وہ بینک سے لا رہے تھے زبردستی ان کی پینٹ کی جیب سے نکال لئے اور ان کی گاڑی کی ونڈ اسکرین بھی ایک دہشت گرد نے اپنی گن مار کر توڑ دی۔

نزدیک ہی ایس ایچ او اندسٹریل ایریا پولیس کی سرکاری کار میں اپنے عملے کے ہمراہ موجو د تھے۔مگر پولیس نے و قوعے کے وقت کوئی مداخلت نہ کی ۔بلکہ ان دہشت گردوں کو اپنی کاراوائی مکمل کرنے کا پورا پورا موقعہ دیا اوراس وقت کوئی کار وائی نہ کی ۔جیسے ہی یہ دہشتگرد اپنی دہشت گردی کی فتح کا جشن مناتے ہوئے چلتے روڈ پر فائرنگ کر تے ہوے مشکل سے ہزارا قدم پر پہنچے ہونگے کہ ایس ایچ او کو سینئر کالم نگار نے اپنی گاڑی کے پاس سے گذرتے دیکھا تو انہوں نے کئی بار ہارن دے دے کر ایس ایچ اوکی گاڑی کو رکوایا۔ جن کی وردی پرمکمل نام کی بجائے ’’سیال ‘‘لکھا ہوا تھا موصوف کو ڈاکٹر صاحب نے پورا واقع بتاتو وموصوف نے ان سے پوچھا وہ کدھر گئے ہیں پروفیسر صاحب نے بتایا کہ اسی روڈپر تو ابھی فائرنگ کرتے ہوے وہ چارو ں موٹر سائیکلوں پر بھاگے ہیں۔ وہ اپنا تعرف اور فون نمبر دے کر چلے گئے تو ڈاکٹر شبییراحمد پولیس اسٹیشن ( IAK,PS) رپورٹ لکھوانے کی غرض سے پہنچے انہوں اپنا تعرف بھی کریا تھانے کے عملے نے ایف آئی آر درج نہ کی۔

بلکہ اُن سے کہا گیا کہ ہم کاروئی کرتے ہیں آپ یہ پرچہ اہسپتال لیجائیں اور اپنا ایم ایل او کر واکر لے آئیں۔تو ہم آپکی رپورٹ بھی درج کر لیں گے۔ جناح ہسپتال سے ایم ایل او کی کاپی لیجا کر تھانے کو دی گئی تو اس وقت ایس ایچ او بھی موجود تھے مگران سے بار بار کے کہنے کے باوجود ایس ایچ او صاحب بھی ایف آئی آر درج کرنے کو تیار نہ تھے۔انہوں نے خود ہی اپنے ہیڈ محرر سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی درخوست لکھ کر ان سے دستخط کروالیں(ڈاکٹر شبیر احمد سے کہا کہ آپ اس بزرگی میں کہاں عدالتوں کے چکر مجرمموں کی شناخت کیلئے بار بار لگاتے پھریں گے؟) میں دو دن میںآپ کے مسئلے کو حل کردوں گا اور ڈاکٹر شبیر احمد سے کہا کہ اگر میں نے دودن میں آپ کا مسئلہ حل نہ کیا توآپ کی ایف آئی آر بھی میں خود لکھوں گا آپ میری زبان پر اعتبار کریں ۔ اب دیکھتے ہیں دو دن میں پولس کیا کروائی کتی ہے۔