ڈاکٹر طاہر القادری کا سچ

Dr. Tahir-ul-Qadri

Dr. Tahir-ul-Qadri

تحریر : ایم آر ملک
یہ اپریل 1999 کی بات ہے ن لیگ کا اقتدار سوا نیزے پر تھا میاں نواز شریف نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں انہوں نے اپنے قابل اعتماد ساتھیوں کو خصوصی طور پر بلوایا میٹنگ شروع ہوئی اقتصادی صورت حال پر بحث ہوئی بحث کے اختتام پر میاں نواز شریف نے کہا کہ میں آئین میں ایک ترمیم کرنے والا ہوں اس ترمیم سے آئی ایم ایف ورلڈ بنک کا سارا قرضہ معاف ہو سکتا ہے بس آپ کو میرا ساتھ دینا ہے اس ترمیم کی وقتی طور پر مخالفت ہوگی جس کی ہمیں پرواہ نہیں کابینہ کے اراکین کی خوشی دیدنی تھی حیرت کے جذبات سے سرشار انہوں نے کہا کہ ایسی کونسی ترمیم ہے جس سے خوشحالی کے دروازے کھل جائیں گے پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائے گا
میاں نواز شریف نے جواب دیا کہ” قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے والی دفعہ میں ترمیم ”اجلاس میں یکدم سناٹا چھا گیا اسی دوران مکھیوں کی بھنبھناہٹ کے شور سے ایک آواز اُبھری یہ راجہ ظفرالحق کی آواز تھی۔

”میاں صاحب یاد رکھیئے ہم نے ہمیشہ آپ کا جائز و ناجائز ساتھ دیا ،آپ کے ہر حکم کی تعمیل کی ختم نبوت کا مسئلہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے قادیانی ختم نبوت کے منکر ہیں وہ نبی آخرالزماں ۖکے مد مقابل جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کو پیش کرتے ہیں (نعوذ باللہ )قادیانی مذہب سامراج کا خود کاشتہ ہے علامہ اقبال نے کہا تھا کہ قادیانی اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں قادیانیوں نے حضرت قائد اعظم کا جنازہ بھی محض اس لئے نہیں پڑھا کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے تھے مسلمانوں نے بے پناہ قربانیوں کے نتیجے میں انہیں کیفر کردار تک پہنچایا 7ستمبر 1974کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بنا پر آئین میں ایک ترمیم کے ذریعے غیر مسلم اقلیت قرار دیا اگر آپ یہ ترمیم واپس لیکر قادیانیوں کو مسلمانوں کا درجہ دینا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں اُمت مسلمہ آپ کو اور ہمیں معاف نہیں کرے گی مسلمان ہر چیز برداشت کر سکتا ہے مگر حضور ۖکی عزت و ناموس پر حملہ آوروں کو کسی صورت معاف نہیں کر سکتا ”راجہ ظفر الحق جذباتی ہو گئے ایمانی حرارت سے مغلوب ہو کر کہہ دیا میاں صاحب آپ شوق سے یہ ترمیم کریں لیکن سب سے پہلے میرا استعفیٰ قبول کریں میں آپ کے ساتھ مزید کام نہیں کرسکتا راجہ ظفر الحق کی پیروی کرتے ہوئے بہت سے اراکین نے نواز شریف کے فیصلے کی مخالفت کردی میاں نواز شریف نے جب یہ دیکھا تو کھسیانے ہوکر اپنی شرمندگی کو چھپاتے ہوئے کہا کہ میرا مقصد اس ترمیم کو ختم کرنا نہیں بلکہ میں نے تو ایک تجویز آپ کے سامنے رکھی۔

قومی اسمبلی میں مرزایت کی خوشنودی کیلئے جو کچھ کیا گیا اس کا پس منظر بہت پرانا ہے اس مذموم مقصد کی پرورش برسوں وقت نے کی 28جون 1987میں جب سابق صدر رفیق تارڑ لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس کے عہدہ پر فائز تھے شعائر اسلام کی توہین کے سلسلے میں ایک کیس ”ملک جہانگیر جوئیہ بنام سرکار ”سماعت کیلئے لگا اس کیس میں ایک قادیانی وکیل مجیب الرحمٰن(جو قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا مسرور کا دست راست ہے )نے بھری عدالت میں اقرار کیا کہ ” (نعوذ باللہ )مدعی نبوت مرزا قادیانی محمد رسول اللہ کا درجہ رکھتا ہے )اور ہر قادیانی کا یہی عقیدہ ہے اس سلسلہ میں اس نے مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر ایم اے کی کتاب ”کلمة الفصل ” کایہ اقتباس جوکہ صفحہ نمبر 158پر درج ہے پڑھا کہ ”پس مسیح موعود (مرزا قادیانی )خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کیلئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ” یہی مجیب الرحمٰن نواز شریف کے سابقہ دور اقتدار میں سابق صدر تارڑ کی منظوری سے بھاری برکم تنخواہ اور مراعات کے عوض احتساب سیل میں حکومت کی طرف سے نامزد وکیل رہا میاں نواز شریف نے اپنی معزولی کے دوران اپنا وکالت نامہ بھی دستخط کرکے اسی قادیانی وکیل کو بھجوایا جو اٹک قلعہ میں میاںنواز شریف کی طرف سے پیش ہوا۔

پندرہ روزہ ”پاکیشیا”کراچی نے اپنی15مارچ1993 اشاعت میں ”سلمان رشدی سے نواز شریف کی خفیہ ملاقات ”کے عنوان سے لکھا کہ 18فروری کو بی بی سی نے ایک ممتاز بھارتی اخبار ”قومی آواز ”کے حوالے سے اپنے ایک نشریئے میں بتایا کہ پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بی بی سی کی عالمی سروس کے ذریعے براہ راست انٹرویو کو عین وقت پر منسوخ کرکے ان تمام لوگوں کو حیرت زدہ کردیا جو اس پروگرام کا شدت سے انتظار کر رہے تھے اس سے قبل بھارتی وزیر اعظم نر سہما رائو اس پروگرام میں شرکت کر چکے تھے جس کے فوری بعد بی بی سی نے پاکستانی وزیر اعظم سے انٹرویو کا پروگرام طے کیا تھا رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نواز شریف چند ہفتے قبل شاتم رسول سلمان رشدی سے ملاقات کر چکے تھے اس لئے اُنہیں پریشانی تھی کہ اگر کسی نے بی بی سی کے اس کھلے پروگرام میں اس خفیہ ملاقات کے بارے میں سوال کر لیا تو وہ کوئی جواب نہیں دے پائیں گے اخبار کے مطابق مغربی ملکوں میں رہنے والے پاکستانی اس خفیہ ملاقات کے بارے میں جانتے تھے اور وہ اس بارے میں وزیر اعظم سے سوال کرنے کا فیصلہ کرچکے تھے ان کا خیال تھا کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف کو بے نقاب کر دیں گے۔

26 مارچ 1994کو نئی دہلی سے شائع ہونے والے انگریزی اخبارات ”نیشنل ہیرالڈ ”اور”دی ایشین ایج ”نے اسٹاک ہوم سے خبر رساں ایجنسی یو این آئی کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا کہ پاکستان کے چیف جسٹس اور نواز شریف کے قریبی ساتھی ڈاکٹر نسیم حسن شاہ نے کہا ہے کہ اُن کے ملک پاکستان میں قادیانی فرقہ کے لوگوں کے ساتھ غیر منصفانہ برتائو کیا جارہا ہے اور اُنہیں اُن کے حقوق سے محروم کیا جارہا ہے دسمبر 1992میں سپریم کورٹ میں اسی جسٹس نسیم حسن شاہ کے پاس ”ناصر احمد بنام سرکار ”کیس میں مسلمانوں کی طرف سے استدعا کی گئی کہ قادیانیوں کو شعائر اسلام کی بے حرمتی سے روکا جائے میں ریمارکس دیتے ہوئے نسیم حسن شاہ نے کہا کہ ”آپ قادیانیوں پر اتنی پابندیاں نہ لگائیں کل کو اگر پاکستان میں قادیانیوں کی حکومت آگئی تو پھر مسلمانوں کا کیا بنے گا ”جس پر سینئر ایڈووکیٹ چوہدری محمد اسماعیل نے کہا کہ جناب آپ کیسی بات کر رہے ہیں
ڈاکٹر طاہرالقادری کے اس سچ سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ”نواز شریف صرف دوبارہ اہل ہونے کیلئے غیر مسلم قوتوں کی خوشنودی کی خاطر یہ مذموم فعل کرنے پر تل گئے جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کا یہ مضحکہ خیز بیان سامنے آیا ہے کہ ہم نے یہ ترمیم روکی حالانکہ سینٹ میں اجلاس کی صدارت عبدالغفور حیدری کر رہے تھے اس کا کریڈٹ شیخ رشید کو جاتا ہے نبی اکرم ۖ سے جنکے والہانہ عشق نے اسمبلی میں ان کے کرتوت کو ننگا کیا۔

اسمبلی سے شعائر اسلام کے خلاف ترمیم شدہ بل کا پس منظر برسوں پرانا ہے آج انکوائری کیلئے جو تین نام سامنے آئے ہیں اُن میں ایک نام راجہ ظفر الحق کا ہے جس نے 1999میں جرات رندانہ سے کام لیا اور ایک نام نبی آخرالزماں کی سچی عاشق جنت مکانی محترمہ آپا نثار فاطمہ جنہوں نے شان رسالت میں گستاخان رسول ۖکے مسلسل حملوں کے بعد 1986میں قانون توہین رسالت میں یہ ترمیم کرائی کہ ”شاتم رسول کی سزا سزائے موت یا عمر قید ہوگی ”کے بیٹے احسن اقبال کا ہے حکومتی صفوں میں زاہد حامد ،انوشہ رحمان ،بیرسٹر ظفراللہ اور فواد حسن فواد جیسے لوگ بھی ہیں جن کے خلاف شفاف انکوائری وقت کا تقاضا ہے۔

M.R.Malik

M.R.Malik

تحریر : ایم آر ملک