ڈاکٹر تقی عابدی کناڈا کو خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ دینے کا اعلان‎

Dr Taqi Abidi

Dr Taqi Abidi

پٹنہ (ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ) دوحہ قطر، عالمی شہرت یافتہ ادبی تنظیم ” مجلس ِ فروغ اُردو ادب”دوحہ قطر کی جانب سے کناڈا میں مقیم معروف محقق، نقاد، اور شاعرڈاکٹر سید تقی عابدی کو امسال ”خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ ” دینے کا اعلان کیا ہے۔ ” مجلس ِ فروغ اُردو ادب”دوحہ قطر گزشتہ ٢٥ سالوں سے فروغ اردو ادب کے لیے مصروف ِ عمل ہے۔ مجلس نے دوحہ قطر میں ١٩٩٤ء میں جشن عالمی مشاعروں کا انعقاد کیا تھا۔ اور ٢٠٠١ء تک جشن عالمی مشاعروں کے بعد تا حال تواتر و تسلسل کے ساتھ عالمی مشاعرے منعقد کر رہی ہے۔ مجلس نے ١٩٩٦ء میں ” عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ ” آغاز کیا اور ١٩٩٦ء سے تواتر و تسلسل کے ساتھ پاک و ہند کے بیالیس فکشن نگاروں کی خدمت میں ان کی اعلیٰ ترین نثری و ادبی خدمات کے اعتراف میں ” عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ ”پیش کرچکی ہے۔

امسال بھی چیئرمین مجلس محمد عتیق کی سربراہی میں مجلس انتظامیہ کے عہدیداران فرتاش سید (صدر) ، اور دیگر اراکین کا ایک اجلاس میں معروف شاعر ،نقاد، محقق اور دانشور ڈاکٹر تقی عابدی کی تحقیقی و تنقیدی اور ادبی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے، ان کا نام نامی ”خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ ” کے لئے متفقہ طور پر منتخب کیا ۔ ”خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ ”نومبر کے پہلے ہفتہ میں دوحہ قطر میں ”اکیسویں عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ ٢٠١٧ء اعزاز پروفیسر فتح محمد ملک و پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد اور ”تیئسویں عالمی مشاعرہ٢٠١٧ئ”جس کی صدارت عہد حاضر کے صاحب اسلوب شاعر جناب افتخار عارف کریں گے ، اس موقع پر ڈاکٹر تقی عابدی کی خدمت میں ایوارڈ پیش کیا جائے گا۔

ادب کا مریض اور صحت کا طبیب ڈاکٹر سید تقی عابدی عہد حاضر میں اردو ادب کا ایک معتبر نام ہے۔ وہ بیک وقت ڈاکٹر ، کہنہ مشق شاعر، نقادمحقق، کے ساتھ ساتھ موجودہ عہد میں رثائی ادب کے ماہر ہیں۔ ان کا اصل نام سید تقی حسن عابدی ہے۔ ادبی نام تقی عابدی اور تخلص تقی ہے۔ ان کی پیدائش یکم مارچ ١٩٥٢ء کو دہلی میں ہوئی۔ ان کا آبائی تعلق ریاست امروہہ سے متصل سادات کی بستی نوگائوں سادات سے ہے اور ان کا خاندان سید بڑے کا خاندان کے نام سے مشہور ہے۔

پیشے سے وہ ایک ماہر طبیب ہیں لیکن اردو ادب کے تئیں ان کے ذوق وشوق کو دیکھتے ہوئے حیرت ہوتی ہے کہ اپنی پیشہ وارانہ مصروفیات کے باوجود اردو زبان میں تصنیف و تحقیق میں رات دن کیسے لگے رہتے ہیں۔ کلاسیکی ادبیات کی جانب ان کا خاص رجحان ہے۔ غالب، اقبال، فیض، انیس، حالی، دبیر اور داغ پر ان کی اہم تحقیقی کاوشیں منظر عام پر آچکی ہیں جو ہندو پاک کی بیش تر یونیورسٹیز کے نصابات میں بھی شامل ہیں اور اردو ادب کے حلقے میں بھی پذیرائی حاصل کر رہی ہیں۔

تقی عابدی اردو، دکنی،فارسی اور انگریزی زبان پر یکساں مہارت رکھتے ہیں۔فارسی میں کلیات غالب کی تدوین و ترتیب ان کا ایک اہم علمی کام ہے۔ تقی عابدی نہ صرف تصنیف و تالیف میں مصرف رہتے ہیں بلکہ دنیا بھر کی ادبی و علمی سرگرمیوں میں محفلوں کی رونق بنتے رہتے ہیں۔ ٦٦ سالہ ڈاکٹر تقی عابدی کی اب تک ساٹھ (٦٠) کتابیں منصہ شہود پر آ چکی ہیں۔