تعلیم افسر شاہی کا کھلونا نہیں

Education

Education

تحریر : سید توقیر زیدی
کسی بھی قوم کی تعمیر میں بنیادی تعلیم کا اہم کردار ہوتا ہے کیا تماشا ہے کہ تعلیم کے جس شعبے کو دانشوروں اور ماہرین کے مشوروں سے قومی تقاضوں سے ہم آہنگ رکھتے ہوئے چلایا جانا چاہئے تھاہم اسے بھی بیوروکریٹوں کے ذریعے ایڈہاک ازم پر چلا رہے ہیں، تعلیم تو بیوروکریٹوں کا کھلونا نہیں ہے کہ جب تک چاہا کسی ادارے ، کسی نظام سے کھیلا ، جب چاہا اسے توڑ دیا۔ یہ بیوروکریٹ آج تک یہی فیصلہ نہیں کر پائے کہ سرکاری سکولوں میں ذریعہ تعلیم اردو ہو گا یا انگریزی، ان سرکاری بابووں سے زیادہ عقل مند تو پانچ ، پانچ مرلوں کے مکانوں میں بنے ہوئے پرائیویٹ سکولوں کے مالکان نکلے جو آکسفورڈ اور کیمبرج تک کی کتابیں مسلسل پڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔

پنجاب میں پہلے ایک ٹیکسٹ بک بورڈ ہوا کرتا تھا اور اس کے بعد ایک کریکولم اتھارٹی بنا دی گئی، پہلے ٹیکسٹ بک بورڈ خود کتابیں شائع کیا کرتا تھا پھر چند بڑے بڑے پبلشرز کو کہا گیا کہ وہ خود ہی کتابیں بنائیں اور چھاپیں، پبلشر اور پرنٹر انٹرنیٹ سے مواد کاپی کر کے خود کتابیں بناتے رہے،سرکاری سطح پر ان کتابوں کی منظور ی دی جاتی تھی، یہ کام اتنا بھی فی سبیل اللہ نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک ایک کتاب کی منظوری کے لئے بیس ، بیس لاکھ روپے رشوت کے طور پر دئیے جانے کا بھی چرچا رہا دوسری طرف والدین کتابیں حاصل کرنے کے لئے مارکیٹوں میں مارے مارے پھرتے تھے۔ معاملات جب بہت زیادہ خراب ہو گئے تو پتا چلا کہ کریکولم اتھارٹی تو کچرے کا ڈھیر ہے، کریکولم اتھارٹی کو پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے ساتھ مدغم کرتے ہوئے ایک نیا ادارہ بنا دیا گیا۔

یہ فیصلہ کم و بیش دس برس پرانا ہے کہ پہلی سے بارہویں جماعت تک نصاب کو از سر نو مرتب کیا جائے گا، بلے بلے ہوئی کہ اس سال پہلی جماعت سے پانچویں جماعت کی کتابیں جدید دور کے تعلیمی اور تدریسی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کر لی گئی ہیں، یہاں میرے ذہن میں دوسوال آئے، پہلا یہ کہ اب ہمارے بچے ، اپنے بڑے بہن بھائیوں کی پرانی کتابیں نہیں پڑھ سکیں گے تو کیا اس امر کو یقینی بنا لیا گیا ہے کہ جب اپریل کے پہلے ہفتے میں تعلیمی سال کا آغاز ہو رہا ہو تو تمام بچوں کے پاس نئی کتابیں موجود ہوں اور دوسرا یہ، جو پہلے سوال یہ بھی کہیں زیادہ اہم ہے، کہ جو نئی کتابیں بنائی گئی ہیں کیا وہ تعلیمی مواد میں پرائیویٹ سکولوں میں پڑھائی جانے والی آکسفورڈ اور کیمبرج کی کتا بوں کا مقابلہ کرتی ہیں۔

Books

Books

نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو گیا مگر ابھی میرے خیال میں ایک ، آدھ ہفتے کامزید مارجن دیاجانا چاہئے ورنہ والدین نے کتابوں کی عدم دستیابی کی شکایات شروع کر دی ہیں۔ یہاں کتابیں سرکاری سکولوں کے ساتھ ساتھ پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کے سکولوں میں پڑھنے والے انیس لاکھ بچوں کو بھی درکار ہیں۔ میں نے کئی برس والدین کو اپنے بچوں کو کتابیں فراہم کرنے کے لئے تعلیمی سال شروع ہونے پر بک سٹورز کے دھکے کھاتے دیکھا ہے، ابھی دعا یہی ہے کہ جو کتابیں تیار کی گئی ہیں وہ بروقت نہ صرف طالب علموں تک پہنچا دی جائیں بلکہ اگر کچھ پرائیویٹ سکولوں میں سرکاری کتابیں پڑھائی جار ہی ہیں توان کے لئے بھی کتب بازار میں دستیاب ہوں۔

میں نے کہا، دوسرا سوال زیادہ اہم ہے کہ جو کتابیں تیار کی گئی ہیں ان کا معیار کیا ہے؟ یار دوستوں نے تعریف کی کہ نئی کتابوں میں ہر باب کے آخر میں عملی مشقیں شامل کی گئی ہیں تاکہ سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات کو رٹے سے بچایا جا سکے۔ یہاں میرے پاس آکسفورڈ اور کیمبرج کی صورت ایک معیار موجود ہے لہذا میرا سوال تو یہی ہے کہ کیا یہ کتابیں پرائیویٹ سکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابوں سے زیادہ بہتر ہیں۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ آکسفورڈ کی ایک ، ایک کتاب چار ، پانچ سو روپوں کی ہے لہٰذا آپ اس کے کاغذ کا تو مقابلہ نہیں کرسکتے اور یقینی طور پر یہ میرا سوال ہی نہیں تھا۔ میں جانتا ہوں کہ سرکاری سطح پر کروڑوں کتابوں کو مفت فراہم کرنے کے لئے اس کاغذ پر نہیں چھاپا جا سکتا جو کاروباری ادارے منافع کمانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یقینی طور پر کاغذ تو کم تر ہو سکتا ہے مگر میرا سوال تو پڑھائے جانے والے مواد بارے ہے، تو اتفاق رائے ہے کہ نئی کتابیں اپنے مواد میں بھی پرائیویٹ سکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔

کیا آپ یقین کریں گے کہ میں نے ایک نجی سکول میں پڑھنے والے پانچویں جماعت کے طالب علم بیٹے کو سرکاری سکول کی پانچویں جماعت کی ایک کتاب دی اور اس نے وہ دو گھنٹوں کے اندر پوری پڑھ ڈا لی، یہ دونوں کتابوں اور پڑھائی کے معیار کا فرق تھا اور یہ فرق ابھی بھی برقرار ہے۔ ہم سرکاری سکولوں میں بہت سارے پیسے خرچ کرنے کے باوجود، بہت بڑی بڑی بلڈنگوں اور گراونڈز ہونے کے باوجود اپنے کلاس رومز کو اپنے بچوں کے لئے دلچسپی کا مرکز نہیں بنا سکے۔ پاکستان میں ابھی بھی اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر بیان کئے جاتے ہیں، مظفر گڑھ جیسے ضلع میں اڑھائی لاکھ بچے سکول نہیں جاتے اور یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

Quality

Quality

سوال ابھی تک وہیں پر ہے کہ بڑے بڑے دعووں کے ساتھ جو نئی کتابیں تیار کی گئی ہیں وہ کس معیار کی ہیں، چلیں اس سوال کو بھی تھوڑی دیر کے لئے ایک طرف رکھ دیں، اس سے بھی پہلے سوال تو یہ بنتا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد جب تعلیم کو صوبائی موضوع بنا یا گیا تو کیا پنجاب نے کوئی تعلیمی پالیسی بنائی۔ آپ محکمہ تعلیم کی تاریخ اور اخبارات کی فائلیں پوری طرح کھنگال لیں، ہمیں پنجاب میں کسی پالیسی کی تشکیل کاسراغ نہیں ملتا، ماہرین تعلیم سے کسی مشاورت کا پتا نہیں چلتا، کسی ایسی اوپن کانفرنس کے انعقاد بارے علم نہیں ہوتا جہاں ہم نے اپنے تعلیمی مقاصد اور اہداف کو ڈسکس کیا ہو۔ کیا آپ اس سوال کو غیر منطقی اور بلاجواز کہہ سکتے ہیں کہ ہماری نصابی کتب کس پالیسی کے تحت کن مقاصد اور کن اہداف کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہیں۔ میرے پاس ماضی کے یہ شکوے موجود ہیں جب ہماری نصابی کتب سے سیرت نبوی ? اور تحریک پاکستان جیسے موضوعات اور علامہ اقبال جیسی شخصیت پر سے مضمون نکالتے ہوئے اونٹ کی شادی جیسی لغویات کو نصابی کتب کا حصہ بنایا گیا، بلوچیوں کو پنجاب کی کتابوں میں بدمعاش کہنے کا تنازعہ بھی زیادہ پرانا نہیں۔ پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ نے اب بھی کتابیں اپنے چند ” ماہرین” سے کمروں میں بیٹھ کے تیار کروا لی ہیں، وہ انہیں سبجیکٹ سپیشلسٹ کہتا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ وہ واقعی اپنے اپنے مضمون کے ماہر ہوں مگر اس کے باوجود نصابی کتب کی تیاری ایسا معاملہ نہیں جسے کمروں میں بیٹھ کے نمٹا لیا جائے اور اپنی تعریف کے ڈونگر ے خودپر ہی برسانے شروع کر دئیے جائیں کہ انہوں نے وہ کام کر دکھایا ہے جو رستم بھی نہیں کر پائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان سے کئی وزارتوں کا بوجھ واپس لے لیا ہے اور اب وہ صرف سکولز ایجوکیشن کے وزیر ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس فیصلے کی سیاسی وجوہات بھی ہوں مگر مجھے خوشی تو اس بات کی ہے کہ اب وہ بنیادی تعلیم کے شعبے کو زیادہ سے زیادہ وقت دے سکیں گے۔ ان کے پاس کھیل، نوجوانوں کے امور، سیاحت ، اعلیٰ تعلیم اور ایسی بہت ساری دیگر وزارتوں کی بجائے اپنے بچوں کو دی جانے والی تعلیم ، ان کی کتابوں،ان کے سکولوں اور ان کے اساتذہ کے معیار کو جانچنے کا وقت ہو گا۔ صحت اور تعلیم دو ایسے شعبے ہیں جو بیوروکریٹوں کے حوالے نہیں کرنے چاہئیں ورنہ وہ ان کے ساتھ وہی کریں گے جو سابق سیکرٹری ایجوکیشن اسلم کمبوہ کر گئے ہیں۔

مجھے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے تمام شعبوں میں پوری لگن اور جانفشانی سے محنت کرنے کے باوجود ایک شکوہ ہے اور وہ میں کسی الگ کالم میں کروں گا مگر یہاں صرف اتنا حوالہ دوں گا کہ دانش سکول اپنی جگہ اہم ہوں گے، پنجاب انڈوومنٹ فنڈ اور پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کے قیام کے بھی بہت سارے فوائد حاصل ہوں گے، میرٹ پر بچوں کو لیپ ٹاپ دئیے جانے نے بھی ان کے وڑن اور علم میں بہت اضافہ کیا ہو گا، میں ان تمام منصوبوں اور اقدامات کا مخالف نہیں ہو ں مگر کیا میں یہ سوال کر سکتا ہوں کہ تعلیم کے بنیادی نظام کو درست کرنے کے لئے کیا انقلابی اقدامات کئے گئے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ ہمارے پاس تو ابھی تک کوئی تعلیمی پالیسی تک نہیں ہے جس کے مقاصدا ور اہداف کو سامنے رکھ کر سبجیکٹ سپیشلسٹ کتابیں تک تیار کر سکیں۔

Syed Tauqeer Hussain Zaidi

Syed Tauqeer Hussain Zaidi

تحریر : سید توقیر زیدی