غریبوں کے نام پر چرم قربانی جمع کرنے والو ں سے ہوشیار رہیں!

Muslims

Muslims

تحریر:صادق رضا مصباحی ،ممبئی

تہوارکسی بھی قوم کے مزاج ،اس کی نفسیات اوراس کی فکروعمل کے ترجمان ہوتے ہیں ۔کسی بھی قومی تہوارکودیکھ کراس قوم کی داخلی کیفیات اورباطنی زاویوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس تناظر میں جب ہم امت مسلمہ کے تہواروں کاجائزہ لیتے ہیںتوہمیں اندازہ ہوتاہے مسلمانوں کے جتنے بھی تہوار ہیں اس کے پس پشت عظیم مقاصد،بے پناہ حکمتیں اوربے پایاں مصلحتیں پنہاں ہیں جن سے پوری امت مسلمہ اب تک فیضیاب ہوتی چلی آرہی ہے اور مسلمان اپنی ذمے داریاں بڑی خوش اسلوبی سے نبھاتے چلے آرہے ہیں۔یہ اوربات ہے کہ مادیت پسندی اوردنیوی آلائشوںنے تہواروں کی حقیقی روح نکال لی ہے اورمسلمان صرف رسم رواج کی لکیروں کوپیٹنے کے ہی عادی ہوتے چلے جارہے ہیں۔

مسلمانوں کے دو سب سے بڑے تہوار عید الفطر اور عید الاضحی ہیںجودین کے تقاضوںکوبھی پوراکرنے کامطالبہ کرتے ہیںاورمعاشرے کے بھی۔ ایک سطحی فکررکھنے والا شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ دونوں عیدیں مسلمانوں کو کیوں عطا کی گئی ہیں۔ عید الاضحی کے موقع پر صاحب استطاعت مسلمان قربانی کرتے ہیں، گوشت تقسیم کرتے ہیں ،دوست واحباب اور غریبوں ومسکینوں تک گوشت پہنچاتے ہیں تاکہ وہ لوگ جو اپنی غربت کی وجہ سے گوشت جیسی نعمت سے سال بھر تک شکم سیر ہوکر کھانا نہ کھاسکے وہ ان ایام میں توخدا کی عظیم نعمت (گوشت)سے فیضیاب ہوسکیں۔ اس لیے شریعت مطہرہ نے مسلمانوں کو اس بات کا پابند کیا ہے

قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں ایک حصہ اپنے گھروالوں کے لیے، ایک حصہ دوستوں کے لیے اور ایک حصہ غربا ومساکین کے لیے ۔اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے ہمیشہ ہر موڑ پر غریبوں کا خاص خیال رکھا ہے۔ عید الفطر ہوکہ عید الاضحی وہ خصوصی طور غریبوں سے ہمدردی،محبت،رواداری اور حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے بلکہ اگریوں کہاجائے توقرین حقیقت ہوگاکہ یہ دونوںعیدیں بنی ہی خاص طورسے غریبوں کے لیے ہیںکہ دکھو ںکے مارے یہ بے چارے ان دنوں میں تواپنادکھ دردکچھ کم کرسکیں۔غریب لوگ جنہیں کئی کئی دنوںتک کھانانصیب نہیںہوتایاوہ اپنی غربت کی بناپربہترین کھانا کھانے سے محروم رہ جاتے ہیںوہ ان مبارک ایام میں گوشت جیسی عظیم نعمت تناول کرلیتے ہیں اور صرف اسی دن تک نہیں بلکہ مشاہدہ یہ ہے

کئی کئی دنوں تک رکھ کر اس کا استعمال کرتے ہیں۔ کم ازکم یہ توکہاجاسکتاہے کہ وہ عید الاضحی کے تین دنوں تک تو بھوکے نہیںسوسکیں گے اللہ کاکوئی نہ کوئی بندہ ضروران کے دروازے پردستک دے گا۔یہ دعوی کے ساتھ کہاجا سکتاہے کہ دنیا میں جہاں بھی مسلمان رہتے بستے ہیں وہاں کاکوئی بھی غریب مسلمان ان دنوں بھوک سے نہیں تڑپتا ہوگا اور کیوں نہ ہو ان تین دنوں تک توہمارا پالنہار، ہمارا مالک ومولی ہماری میزبانی کرتاہے اور ہم سب اس کے مہمان ہوتے ہیں بھلا کوئی میزبان یہ کیسے گواراکرے گا کہ کوئی مہمان ا س کے دسترخوان سے بھوکااٹھ جائے اوروہ تواللہ ہے جوہمیں اپنی میزبانی سے مشرف فرماتا ہے۔

توا س کی میزبانی میں کوئی کیونکربھوکارہ سکتاہے ۔وہ صرف گوشت ہی میں غریبوں کاخیال نہیں رکھتا بلکہ قربانی کے جانوروں کی کھالوں کو بھی ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیتا ہے تا کہ وہ انہیں فروخت کرکے اپنی ضرورتوں کی تکمیل کرسکیں۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ایک طرف تو قربانی کے گوشت کو غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا جارہا ہے تاکہ وہ کم سے کم تین دنوں تک تو کھانے پینے کی فکر سے آزاد ہوسکیں لیکن ظاہر ہے کہ صرف کھانا پینا ہی انسانی ضرورتوں میں شامل نہیں ہے ۔بے شمار مسائل ہیں جن میں غریب لوگ تہہ درتہہ ڈوبے ہوئے ہیں اور ان کی غربت زدگی ان مسائل ومصائب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چنانچہ ہمارے خدائے برتر نے گوشت کے ساتھ قربانی کے جانوروں کی کھالوں کو بھی غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا کہ وہ کھالوںکے پیسے سے اپنے دوسرے مسائل حل کرسکیں ۔قربانی کا گوشت تین دن تک یا اس سے زائد دن تک رکھ کر کھایا جاسکتا ہے۔

وہ بھی ایک حدتک اگرکچھ زیادہ دنوں تک رکھاگیاتوخراب بھی ہوسکتاہے مگر پیسہ توخراب نہیں ہوتاوہ جب چاہیں کھالوں کو فروخت کرکے اپنی غربت کے کچھ زخم رفو کرسکتے ہیں اوراپنی حاجتیں پوری کرسکتے ہیں۔یہ اللہ عزوجل کا کتنا عظیم الشان نظام ہے کہ عیدالاضحی کے دن اس نے کس طرح غریبوں کے کھانے پینے اوردیگرضرورتوں کاخیال رکھاہے ۔اس پراللہ کاجتنابھی شکربجالایاجائے کم ہے ۔بلاشبہ عید الاضحی ایک انعام ہے تمام امت مسلمہ کے لیے جس میں امیر وغریب، آقا وغلام،محتاج وملجا اور چھوٹے و بڑے سبھی ایک ساتھ خوشیاں منارہے ہیںاوراس کی نعمتوں سے شادکا م ہورہے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ عید الاضحی کے دن سب سے بڑی اور سب سے اہم ذمہ داری اہل ثروت مسلمانوں کی ہے۔ اگر انہوں نے اپنی ذمہ داری نبھانے میں ذرہ برابر بھی شعوری کوتاہی کی تو قیامت کے دن ان کا نپنا طے ہے۔ امیر مسلمان پہلے یہ جائزہ لیں کہ غریب لوگ کہاں بستے ہیںاگران کے علاقے میں ہی ہیں توپھرپڑوسی ہونے کے ناطے ان کی ذمے داری دوگنی ہوجاتی ہے ۔ان کے گھرجاکرانہیں گوشت کاتحفہ پیش کریں اور اس میں اپنی شان کی ہتک بالکل محسوس نہ کریںاور نہ سستی وکاہلی کا مظاہرہ کریں کہ غریبوںکی خوشی ہی میں اللہ ورسول کی خوشی ہے۔

اس دن مالدار لوگ تو صرف ذریعہ بنتے ہیں یہ میزبان نہیں ہوتے بلکہ اصل میزبان تو اللہ ہوتا ہے جو مسلسل تین دنوں تک اپنے سایہ رحمت کا دستر خوان وسیع کردیتا ہے اور اس دستر خوان پر بیٹھنے میں کس پر پابندی نہیں لگاتا تو ہم مسلمان خاص کر مالدار مسلمان کون ہوتے ہیں پابندی لگانے والے کہ وہ فلاں غریب کو گوشت یاچرم قربانی دی جائے کیونکہ وہ ہمارا مطیع وفرماںبردار ہے اور فلاںکونہ دیاجائے کیونکہ وہ ہم سے کدرکھتاہے۔

Eid al-Adha

Eid al-Adha

عیدالاضحی کے حقیقی پیغامات ،تقاضے اورمطالبے مدنظر رکھیے اور اپنے اندرون کا جائزہ لیجئے۔ خواص سے لے کر عوام تک ہر ایک اپنی اپنی سطح پر اپنے اپنے عمل ،اپنی اپنینیتوں اور اپنے اپنے رویوں پر تنقیدی نگاہ ڈالے اور انصاف سے بتائے کہ ہم سے کہاں کہاں غلطی ہورہی ہے ۔کیاہم سے عیدالاضحی کے تقاضے پورے ہورہے ہیں؟کیاہم اس موقع پراپنی قربانیو ںسے ضرورت مندوںکی کفالت کرپارہے ہیں؟ہمارے یہاں بدقسمتی سے ریاکاری، نمائش،نفسانیت اور سطحی جذبہ مسابقت اس قدر پروان چڑھ چکا ہے کہ الامان والحفیظ۔ قربانی کے نام پراپنی دولت کا مظاہرہ کرنے اور دوسروں کو نیچا دکھا نے کے لیے وہ سب کیا جارہا ہے کہ انہیں دیکھ کر ایک دل درمند خون کے آنسو روتا ہے۔

میں آج خاص طورسے عوام سے نہیں خواص سے مخاطب ہوں۔عوام میں توکسی قدراللہ کاخوف باقی ہے مگراب ایسا لگتاہے کہ خوا ص کی صفوں سے تعلق رکھنے والے بیشتر حضرات کے دل خوف خدا سے خالی ہوچکے ہیں۔عید الاضحی کے موقع پر چندہ خور(ضمیرفروش) مولویوں ، فرضی مدرسوں اورجعلی یتیم خانوں کے ذمہ داران حشرات الارض کی طرح اپنے بلوں سے نکل پڑتے ہیں اورقربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لیے نگرنگر،ڈگرڈگراورقریہ قریہ خاک چھانتے پھرتے ہیں۔خاص طورپرممبئی میں تومسلم علاقوں میں دودوقدم کے فاصلے پرمدرسوں، انجمنوں ،یتیم خانوں اورفلاحی اداروں کے ذمے داران میز،کرسی اور بینر لگا کربیٹھ جاتے ہیں۔یہ مناظردیکھ کرکسی کوکچھ نہ ہو تونہ ہو مجھے ضرورکوفت ہوتی ہے۔

معلوم نہیں چرم قربانی سے حاصل کیاگیاپیسہ کہاں اور کس مصرف میں خرچ ہوتاہے۔میں یہاں یہ واضح کردوں کہ میرا روئے سخن صرف انہیں لوگوں کی طرف ہے جنہوں نے دین کو دنیا کمانے کاپیشہ بنا لیا ہے اور جو اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کاسبب بن رہے ہیں۔ہر سال اربوں روپے کی کھال فروخت ہوتی ہے ۔صرف ممبئی شہر میں ہر سال کروڑوں روپیوں کی کھالیں فروخت ہوجاتی ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ جس قوم میں ہر سال اربوں روپیوں کی زکوة نکلتی ہواورعیدالاضحی کے موقع پر کروڑوں روپیوں کی کھالیں فروخت ہوجاتی ہوں ایسی صورت میں ہوناتویہ چاہیے کہ قوم مسلم میں کوئی بھی شخص بھوکانہ رہے اورکوئی غربت کے دلدل میں نہ پھنسے مگر حیرت ہے کہ قوم کی حالت جوں کی توں ہے بلکہ برابر بدسے بدتر ہوتی جارہی ہے تومیراسوال یہ ہے کہ یہ کروڑوںاربوں روپیہ کہاں چلاجاتاہے؟۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ غریبوں کے ہی نام پر یہ کھالیں جمع کی جاتی ہیں مگر غریبوں کوہی نظرانداز کیاجاتاہے ۔لوگوں نے اپنی اپنی مذہبی دکانیں کھول رکھی ہیں اور اس دکان کو مزید ترقی دی جارہی ہے۔ ایسے دل خراش ماحول میں قابل مبارک باد ہیں وہ لوگ جو کھالوں کا صحیح استعمال کرتے ہیں اورانہیں صحیح حقدار تک پہنچانے میں حتی الوسع اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔

ایک خاص بات عام مسلمانوں سے یہ عرض کرنی ہے کہ وہ اپنے قربانی کے جانوروں کی کھالیں یا ان کی قیمت اولاً تو خود اپنے ہاتھوں سے مستحقین تک پہنچائیں اوراپنے قریبی مستحقین کوہی دیں۔بصورت دیگر قابل اعتماد اور شناسا حضرات جو مدارس یا فلاحی اوررفاہی ادارے چلاتے ہیں، انہیں دیں تاکہ یہ کھالیں صحیح مصرف میں استعمال ہوسکیں۔ اس معاملے میں بالکل بھی غیر ذمہ داری اور کوتاہی کا مظاہرہ نہ کریں۔ایسانہ ہو کہ جو بھی سامنے آیا اور اس نے اپنی چرب زبانی سے دین و ملت کی حالت زارکاخطبہ پڑھاامت مسلمہ کی پسماندگی پر گھڑیالی آنسو بہائے اورآ پ نے بے چوںوچراں بغیرتصدیق کیے ہوئے قربانی کی کھالیںا س کے حوالے کردیں۔ اس ضمن میں بڑی جرأت و ہمت سے یہ بھی عرض کر دوں کہ مولویانہ لباس، چہرے پر داڑھی،سر پر ٹوپی اور زبان پر قوم وملت کی مردہ حالت کا مرثیہ پڑھنے والوں پر مکمل اعتماد نہ کریں بلکہ چھان پھٹک کرکے ایسے اداروں کا انتخاب کریں کہ جن پر آپ کومکمل یقین ہو ۔بے چارے عام مسلمان مولویانہ لباس والوں پر اعتماد کر لیتے ہیں مگربیشتر ایسا ہوتا ہے۔

ان کو دیا گیا پیسہ یا کھالیں قوم کے غم کانہیں ان کے غم کا مداوا کرتی ہیں۔مولوی نمالوگ اس طرح کی قابل مذمت حرکت سے نہ صرف یہ کہ غریبوں اورمستحق اداروں کاحق ماررہے ہیںبلکہ اپنی آخرت بھی خراب کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات یادرکھی جائے کہ اگر آپ نے کھالیں بلا تحقیق قصداًایسے لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیں جنہوں نے ا ن کا صحیح استعمال نہیں کیا تو اس کے ذمہ دار آپ بھی ہوں گے لہذا یہ آپ کا فرض بنتا ہے کہ اگر آپ نے قربانی کے گوشت کو غریبوں میں تقسیم کرکے ان کے پیٹ کی آگ سرد کی ہے تو دوسری طرف ان کی دیگر ضروررتوں کی تکمیل بھی جانوروں کی کھالوں اوریاان کی قیمت سے کیجیے۔

بعض امیر مسلمانوں کی یہ ذہنیت ہے کہ گزشتہ برسوں سے جس مدرسے یا جس فلاحی ادارے یا جس غریب آدمی کو قربانی کی کھالیں دیتے آرہے ہیں وہ ہر سال انہیں کو دیتے ہیں ۔صرف اس وجہ سے کہ وہ ان کے پیر صاحب کاا دارہ ہے یا ان کے والد صاحب کی خواہش ہے یا ان کے دوست واحباب کا تقاضا ہے۔ یہ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ جنہیں ہم کھالیں دے رہے ہیں وہ ان کا صحیح استعمال کربھی رہے ہیں کہ نہیں۔ حالانکہ اان کے سامنے دوسرے ضرورت مند ادارے اورضرورت مندلوگ ہوتے ہیںمگریہ انہیں سختی سے نظراندازکردیتے ہیں۔ اس نقطہ نظرکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

ایسی صورت میں مذکورہ بالا حضرات کی قربانیوں کی کھالیں بارگاہ خداوندی میں شرف قبولیت سے سرفراز ہوتی ہوں گی یا نہیں یہ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتے۔اگر مسلمان اس معاملے میں سنجیدہ ہوگئے اور تحقیق وتفتیش کرکے چرم قربانی مستحق لوگوں کو ہی دینے لگے تو ان شاء اللہ فرضی رسیدکاٹنے والوں، کھالوں کی بھیک مانگ قوم کاپیٹ نہیں اپنا پیٹ بھرنے والوں، ضمیر فروش چندہ خور مولویوں اور جعلی مدرسوں کا جو طوفان ہر سال عید الفطر اور عید الاضحی کے موقع پر مسلمانوں کے سروں پر منڈلانے لگتا ہے وہ یقینا چھٹ جائے گا۔یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان ننگ دین اورننگ قوم قسم کے لوگوں کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ جو دین کی آڑ میں غریبوں کا حق مار رہے ہیں ان سے نجات مل سکے۔

بہت سے ادارے اپنے مستحق ہونے کادعوی کرتے ہیں اورغریب اپنا دکھڑا سناتے ہیں اس کی وجہ سے عام مسلمان بڑی کشمکش کا شکارہوجاتے ہیں کہ وہ چرم قربانی کسے دیں اورکسے نہ دیں۔اس سلسلے میں یہ دیکھیں کہ کون ان میں سے زیادہ حقدارہے اورکون سا ادارہ صحیح سمت میں اپنے فرائض انجام دے رہاہے ۔ ایک بات تو ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ یہ دونوں چیزیں (گوشت اورچرم قربانی)سب سے پہلے اپنے نزدیکی لوگوں یعنی نزدیکی مستحقین کو دی جائیں توبہت بہترہے اس کے بعدہی دوسروں کی طرف نظر کی جائے۔

Poor

Poor

بیرونی ”مستحقین ”سے زیادہ اپنے گھراوراپنے شہرکے مستحقین کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان بیرونی ”مستحقین ”کی وجہ سے بے چارے یہاں کے مستحقین کاحق ماراجاتاہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ امت مسلمہ بیدار ہو اور جھوٹے دعویداروں، دین کے نام پر ٹھگی کرنے والوں، یتیموں، بیواوئں، مفلسوں اور غریبوں کے نام پرکھالیں اور چندہ جمع کرنے والوں پر سختی سے نگاہ رکھی جائے تاکہ صحیح مستحقین کو ان کا حق مل سکے اور عیدالاضحی کے حقیقی تقاضے پورے ہوسکیں۔

تحریر:صادق رضا مصباحی ،ممبئی
موبائل نمبر:09320884970