کیا قربانی صرف عید الاضحی تک محدود ہے؟

Sacrifice

Sacrifice

تحریر:صادق رضا مصباحی ،ممبئی

عید الاضحی سے قطع نظراگر اسلام کے اصول پر غور کریں تواسلا م میں قدم قدم پرکہیں وضاحتاًاورکہیں اشارتاًقربانی کی ترغیب دی گئی ہے۔ بدنصیبی سے دین کے حوالے سے ہماری معلومات اس قدرسطحی اورمعمولی سی ہیں کہ قربانی کوصرف عیدالاضحی سے ہی منسوب کرتے ہیں،ہم سمجھتے ہیں کہ قربانی عیدالاضحی کے لیے ہے اور عیدالاضحی قربانی کے لیے ۔بلاشبہ ہمارے اندر قربانی کے تعلق سے بہت حدتک بیداری پائی جاتی ہے اورہم حسب بساط اس موقع پر خدا کے حضور قربانی پیش کرنے کے لیے اچھاخاصااہتمام کرتے ہیں۔اس موقع پرہماری کی خوشی اور دل چسپی قابل دیدبھی ہوتی ہے

قابل رشک بھی لیکن جوں ہی بقر عید کی رحمتوں اوربرکتوں کادامن ہمارے ہاتھ سے چھوٹتا ہے توقربانی کامفہوم ہمارے ذہنوں سے ایسے نکلتاہے جیسے ہمارے ذہنوں میں کبھی تھاہی نہیں ۔ہمیں اچھی طرح ذہن نشیں کرلیناچاہیے کہ بقرعیدکی اس قربانی کے علاوہ بھی بہت ساری قربانیاں ہیںجن کاہمارادین ہم مطالبہ کرتاہے ۔ہم ان اہم قربانیوں کوبھول گئے ہیںحالانکہ یہ قربانیاں بھی کم اہمیت کی حامل نہیں ہیںکہ جن کوانجام نہ دے کرہم بہت سے مسائل میں ایسی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ہم ہزارکوششوں کے باوجودان سے نکل نہیں پارہے ہیں۔

یہ دین کامطالبہ بھی ہے اوروقت کاتقاضابھی کہ ہم جس طرح عیدالاضحی کے موقع پرجانوروںکی قربانی پیش کرتے ہیںاسی طرح ہماری قربانیوں کاتسلسل سال بھرتک جاری رہناچاہیے لیکن یہ قربانی محض بکرے ،گائے وغیرہ کی نہیں بلکہ ہمارے مال کی ہے ، وقت کی ہے ،جذبات کی ہے،محنت کی ہے۔ اگردل کی آنکھ کھلی ہوئی ہوتوعیدقرباں میںبے شمارحکمتیں پوشیدہ ہیں اگرایک حکمت پربھی غوروفکرسے کام لیاجائے توا س کی تہ میں چھپے ہوئے لعل وجواہربے نقاب ہوسکتے ہیں۔

Islam

Islam

دین و ملت کاکوئی بھی پہلوایسانہیں جو قربانی کے بغیرترقی کے زینے پرچڑھ سکے ۔اگرکوئی اتنی استطاعت نہیں رکھتاکہ عیدالاضحی کے دن اللہ کے حضور قربانی پیش کرے تووہ دیگر بہت ساری قربانیاں دے کراللہ کامقرب بن سکتاہے۔ ان قربانیوں کے لیے صرف عیدالاضحی کام ہینہ ضروری نہیں ہے بلکہ پورے سال زندگی بھرجب چاہیں اپنی استطاعت کے مطابق یہ قربانی پیش کی جاسکتی ہے۔ ضرورت صرف اس کی بات کی ہے کہ قربانی کے حقیقی مفہوم سمجھا جائے اوراس کے معنی کوزندگی کے مختلف میدانوں تک وسیع کیاجائے تو یقینا ہمیں اندازہ ہو گا کہ زندگی کے مسائل کی چادرکہاں کہاں پھٹی ہے اورہم اپنی قربانیوں سے انہیں کہاں تک رفو کر سکتے ہیں۔

Life

Life

ہم محسوس کریں گے کہ زندگی کی گاڑی بغیر قربانیوں اور محنتوں کے کبھی نہیں چل سکتی۔ انسانی زندگی کی عمارت دراصل قربانیوں ہی کی بنیادپرکھڑی ہے۔ یہاں ہم قربانی کے مفہوم کوذراساپھیلادیں توکہیں گے کہ قربانی محنت، جستجو، طلب، جدوجہد، جان فشانی اور مسلسل جراءت وہمت کے ہم معنی ہے، زندگی کاکوئی گوشہ بغیران کے سرسبزنہیں ہوتا۔ اس لیے قربانی کومحض جانوروں یاعیدالاضحی تک محدودکرنے والے اس کے مفہوم سے صحیح انصاف نہیں کررہے ہیں۔

تحریر:صادق رضا مصباحی ،ممبئی