ناندیڑ کا الیکشن اور ہمارے خوش فہم بھائی

Election

Election

تحریر : صادق رضا مصباحی، ممبئی
مہاراشٹر کے شہر ناندیڑ کے میونسپل کارپوریشن الیکشن میں کانگریس کی شاندار فتح اور بی جے پی کی شرمناک ہزیمت واقعی اس لائق ہے کہ اسے بڑھا چڑھا کرپیش کیا جائے کیوں کہ لمبے لمبے وعدوں اور دعووں کو کامیابی کامعیارسمجھنے والی بی جے پی حکومت کوالیکشن کے نتائج نے آئینہ دکھادیاہے، مگر یہاں کہنے کی بات ایک اورہے۔ناندیڑ کے الیکشن کے نتائج جوں ہی منظرعام پرآئے تومسلمانوں کاایک طبقہ جسے خوش فہمی سے بہت لگائو ہے ،جس کی پوری زندگی خوش فہمیوں کاطواف کرتے گزری ہے اور جو خوش فہمی کے اندھے کنوئیں میں ہمیشہ الٹے لٹکے رہناچاہتا ہے ،نے اخبارات اورنجی محفلوں میں کانگریس کی فتح سے زیادہ بی جے پی کی شکست میں خوشیوں کے شادیانے بجانے شروع کردیے ۔سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اگراس طرح کے بیانات دیں توتھوڑی دیرکے لیے سمجھاجاسکتاہے کہ چلو!یہ ان کی سیاسی مجبوری ہے مگرجب اس طرح کےجاہلانہ اوربے بصیرتی پرمبنی بیانات ایسے لوگوں کی طرف سے آئیں جنہیں سماج میں کچھ نہ کچھ ’’مرتبہ‘‘حاصل ہے اور جو خود کوکسی قدر’’ذمے دار‘‘بھی سمجھتے ہیں یاسمجھے جاتے ہیں توشدیدغصہ بھی آتا ہے اوران کے بھولے پن بھی ترس بھی ۔غصہ اس لیے کہ موصوف پچاس ، ساٹھ اورسترکی دہائی میں ہیں مگرآن جناب نے اب تک زندگی سے کچھ نہیں سیکھا۔ممبئی کی زبان میں اگرکہاجائے توکہناپڑے گاکہ یہ لوگ اب تک ’’جھک ‘‘ مارتے رہے اور’’جھک ماری‘‘کوہی کامیابی سمجھتے رہے ہیں،اورترس اس لیے کہ انہیں اپنےخول سے باہرنکلنے کا موقع نہیں مل سکا۔

بدقسمتی سے اس اجتماعی اورانفرادی ’’جھک ماری‘‘کی مثالیں ہمیں بہت دیکھنے کوملتی ہیں ۔ کہا جارہاہے کہ ناندیڑالیکشن میں بی جے پی کی شرمناک شکست سے بی جے پی کے زوال کادورشروع ہوچکاہے اوراب ۲۰۱۹میں بھی اس کی شکست یقینی ہے۔ہائے رے خوش فہمی ۔ناندیڑجیسے چھوٹے شہرکے ایک معمولی الیکشن سے یہ کیسے سمجھاجاسکتاہے کہ کانگریس نے بہت بڑاشیرماردیاہے اوربی جےپی سے چوہا بھی نہ مارا جا سکا ۔ممبئی ،دہلی، کلکتہ، بنگلور، مدراس جیسے بڑے شہروں کے میونسپل الیکشنوں میں اگراس طرح کے نتائج آتے توواقعی انہیں لائق توجہ سمجھاجاتااوریہ کہنابجاہوتاکہ بی جے پی کے’’اچھے دن‘‘اب’’برے دن‘‘میں تبدیل ہو گئے ہیں مگرکیاکِیا جائے ہمارے ذہنی افلاس کا۔’’غریبوں‘‘کوکیسے سمجھایاجائے کہ میاں !خوش فہمی ،ذہنی مفلسی اورفکری قلاشی سے جنم لیتی ہے ،مبارک ہوکہ آپ کاذہن مفلس ہوگیاہے اورفکر قلاش ۔اب جلدی سے اس کاعلاج کروائیے ،اس مفلسی اورقلاشی سے نجات کے لیے میرامشورہ ہے کہ آپ اپنی آنکھوں میں بصیرت کاسرمہ لگالیجیے ، حقیقت کاچشمہ آنکھوں پرسجالیجیے تاکہ آپ دور دور تک دیکھ سکیں۔

جس دن ناندیڑالیکشن کے نتائج ظاہرہوئے اسی دن ممبئی کےبھانڈوپ ،پونہ اورکولہاپورکے کارپوریشنوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج بھی آئے مگران تینوں سیٹوں پربی جےپی نے بازی ماری لیکن ہمارے خوش فہم حضرات کوصرف ناندیڑکاالیکشن نظرآیااوروہ پونہ،ممبئی اور کولہاپورکوایسے’’ہضم‘‘کرگئےجیسے کچھ ہواہی نہ ہواورنہ ہی ہمارے خوش فہم لوگوں کا ’’ہاضمہ‘‘خراب ہوا۔اس سےسمجھ میں آیاکہ ایسے لوگ حقیقت پسندی سے بہت فاصلے پرہیں ۔ایسے لوگوں کے لیے ہم صرف دعاہی کرسکتے ہیں ۔یہ بات بھی بتادینی ضروری ہے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ۲۰۱۹بھی بی جے پی کاہی ہے ،ممکن ہے بلکہ بہت ممکن ہے کہ بی جے پی کو لوک سبھاالیکشن میں منہ کی کھانی پڑجائے مگرناندیڑکے نتائج سے یہ پیش گوئی کیسے کی جا سکتی ہےکہ بی جےپی کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔

یادرکھیے کہ حقیقت پسندانسان کبھی بھی خوش فہمی کاشکارنہیں ہوتاکیوں کہ وہ جانتاہے کہ خوش فہمی سے بڑی غلط فہمی آج تک ایجادنہیں ہوئی اس لیے میرے عزیزو!عملی انسان ہوجائیے ،حقیقت پسندبنیے ،جلدبازی کا مظاہرہ مت کیاکیجیےورنہ انسان کواپنا ’’تھوک‘‘،’’چاٹنا‘‘پڑجاتاہے۔اگرواقعی آپ کواس میں ’’ذائقہ‘‘محسوس ہوتاہے توپھرٹھیک ہے ہم آپ کی ’’صحت ‘‘کے لیے دعاگوہیں اوراس ’’ذائقے‘‘کی ’’لذت‘‘ کےلیے پرامیدبھی کیوں کہ آپ کی ’’لذت کام ودہن ‘‘سے کم ازکم ہم تومفاہمت نہیں کر سکتے۔

Sadiq Raza

Sadiq Raza

تحریر : صادق رضا مصباحی، ممبئی
رابطہ نمبر:09619034199