کے الیکٹرک نے حالات کا فائدہ اٹھانے میں لمحہ بھر دیر نہیں کی

K-electric

K-electric

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
کے الیکڑک (K-electric)نے اپریل کے مہنے سے کراچی لوگوں کو پریشان کرنا شروع کیا ہوا ہے ۔پورا رمضان اسی ڈرٹی گیم میں گذارا گیا جس کے دوران خاص طور پر سحر و افطار کے اوقات میں مسلسل لائٹ نہیں دی گئی۔لوڈ شیڈنگز کے علاوہ آٹھ سے دس دس گھنٹوں کے لئے لائٹ بند رکھی گئی لوگ مسلسل شکایات پر شکایات کرتے رہے ہیں مگر کتا الیکٹر ک کے کرتا دھرتاؤں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اب جولائی کا مہینہ آگیا ہے مگر ان کی بد معاشیوں میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ ان کی بد اخلاقی اور زیاد ہ بڑھ گئی ہے۔اب ان بے ضمیر وں کا طریقہ کار یہ ہے کہ دو ڈھائی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کرنے کے بعد جب لائٹ کھولی جاتی ہے تو پاور 60/70 وولت دے کر دس منٹ کے بعد لائٹ بند کر دی جاتی ہے اور قریباََ آدھا گھٹتے کے بعد پھر دس منٹ کے لئے لائٹ کھولدی جاتی ہے ۔ اس شدید گرمی کے موسم میں عوام کی پریشانیو ں کا اندزہ لگانے میں کسی کے لئے بھی مشکل نہیں ہونا چا ہئے۔جب کتا ا لیکٹرک کے متعلقہ دفتر میں شکایت کی جاتی ہے تو وہاں سے بتا یا جاتا ہے کہ ہمارے سسٹم میں تو آپ کے علاقے میں کوئی پروبلم آہی نہیں رہی ہے۔ہم آپکی شکایت متعلقہ لوگو ں تک پہچا دیتے ہیں۔ آپ کی پروبلم جلد سولوی کر دی جائے گی۔مگر پروبلم کئی کئی دنوں تک جاری رکھی جاتی ہے۔

پوری کراچی کا تو ہمیں علم نہیں مگر ڈیفنس کے لوگ بتاتے ہیں کہ اُن کے علاقے میں ایک منٹ کے لئے بھی لائٹ کی پروبلم نہیں آتی ہے۔ہمارا بے حس سندھی حکمرانوں سے سوال یہ ہے کہ اس ملک پر کیا ڈیفنس کا ہی زیادہ حق ہے؟شائد اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں کی آبادی میں جنرلز اور ججز کی بڑی تعداد کے علاوہ بڑے سرمایہ دار بیوروکریٹ اور بڑے بڑے لُٹیرے آباد ہیں۔ جو تمام کے تمام دودھ کے ڈھلے پاک پوتر ہیں۔ باقی ساراشہر کراچی کرپٹ لوگوں پر مشتمل ہیجنکو ہر طرح کی مار ماری جا رہی ہے۔یا پھر یہ تمام طبقا ت ہی ملک کا طاقتور طبقہ ہیں جن کو کانٹا بھی لگے گا تو پورے پاکستا ن کو ٹیسیں ہوں گیں۔باقی عوام تو گھاس کوڑا ہیں جو مر کھپ بھی جائیں تو ان کے لئے کیا کمی واقع ہوگی۔پاکستان میں کتا الیکٹرک سب سے زیادہ پیسہ چھوٹے علاقوں سے بغیر الیکٹر سٹی دیئے کماتی ہے۔ مگر ان مفلوک الحال لوگوں کو بجلی کی سہولتوں سے بیس بیس گھنٹے دور رکھا جاتا ہے۔ہمارے سیا سی لٹیرے جو اپوزیشن میں بیٹھے ہیں انہیں بھی عوام کی تکالف سے کوئی سروکار نہیں ہے۔وہ کبھی دھرنا دھرنا کھیلتے ہیں کبھی پاناما پاناما کی رٹ لگائے بیٹھے رہتے ہیں انہیں بھی حکومت کی بے حسی کی کوئی پرواہ ہے نہ فکر ہے۔عوام اپنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں اور سیاست داں عوام سے اٹھکھلیوں میں لگے ہیں۔ڈرامے بازی اور دکھاوے کی سیاست میں مصروف ہیں۔

ہم جس علاقے میں رہتے ہیں وہ کہنے کو لکھنؤ سوسائٹی کے نام سے ایک سوسائٹی ہے۔ جو ہرسماجی سہولت سے محروم کر دی گئی ہے۔ہر گلی میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔گٹروں کا پانی گلیوں میں تعفن کے ساتھ پھیلا ہوا ہے۔ جو شخص سوسائٹی کا نام نہاد جنرل سیکریٹی ہے ۔وہ الطاف کے غنڈوں کے ذریعے سوسائٹی میں ہر قسم کی بد معاشیا ں کر رہا ہے جس کو کوئی پو چھنے پکڑنے والا نہیں ہے۔مگر یہان پر غنڈا راج نافذ ہے۔شُنید یہ ہے کہ اس سوسائٹی کا مدت سے بغیر الیکشن جعلی جنرل سیکریٹری نے، کتا الیکٹرک سے ڈیل کی ہوئی ہے۔جس کے نتیجے میں کتا الیکٹر ک اس غنڈے کو معقول رقم بھی دیتی ہے اور اس کا گھر اور اسکے گرد لوڈ شیڈنگ یا الیکٹرک جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ لوگوں کے گھروں کو کئی کئی دن اندھیروں میں دحکیلے رکھتا ہے اور اس کا گھر اور اس کی گاڑیوں کی حفاظت کے لئے ہزار ہزار وولٹ کے تیزروشنی والے دس سے بارا بلب رات بھر جلتے ہی رہتے ں اور اس کے گھر کے گرد بجلی جانے کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ہم لکھنؤ سوسائٹی کے رہائشی کس سے جاکر فریاد کریں جن کی ناتو سندھیوں کی کرپٹ حکومت سُنتی ہے اور نہ ہی کتا الکٹرک کے کرتا دھرتا سُنتے ہیں!جو گذشتہ کئی سالوں سے اس اذیت کا شکار چلے آرہے ہیں۔

گذشتہ پانچ دنوں سے کتا الیکٹرک نے ایک عجیب گیم شروع کیا ہوا ہے لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ پر دو منٹ کے لئے لائٹ کھولی جاتی ہے اور پھر مسلسل بند رکھی جاتی ہے۔یہ گیم15 جولائی سے شروع کیا گیا اور آج 20 جولائی تک اس خطر ناک گرمی کا شکار سوسائٹی کا نصف سے زیادہ علاقہ چلا آرہا ہے۔میں ذاتی طور پر ہر دو دو تین تین گھنٹوں کے بعد اس مسئلے کی طرفکے الیکٹرک کے کرتا دھرتاؤں کو ٹیلیفون پر متوجہ کرتا رہا ہوں۔ مگر مجال ہے کسی کے کا ن پر جو تک رینگے!کتا الیکٹرک کے بے حسوں نے سیاسی حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اپنی من مانیوں میں بھر پور اضافہ کر دیا ہے۔کتا الیکٹرک نے حالات کا فائدہ ٹھا نے میں لمحہ بھر دیر نہیں کی ہے جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔

ہم ایک مرتبہ پھرکے الیکٹرک کے کرتا دھرتاؤں اور اور بے حس سندھی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ گذشتہ چار سالوں سے ہر سال مئی،جون، جولائی کے مہینوں میں کھیلا جانے والا یہ ڈرٹی گیم ختم کیا جائے تاکہ علاقہ مکینوں کو سکھ کا سانس میسر ہو۔ بے حس حکمرنوں اور ان کے چیلوں کے ذہنوں میں یہ رہنا چاہئے کہ جمہوریت میں ہمشہ تم اکیلے ہی مقتدر نہیں رہو گے۔

Shabbir Ahmed

Shabbir Ahmed

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
03333001671
shabbirahmedkarachi@gmail.com