پارہ: الم 1 سورةالبقرة مدنیہ رکوع 8 آیت 62 سے 71

Quran

Quran

تحریر : شاہ بانو میر

یقین جانو کہ نبیﷺ عربی کو ماننے والے ہوں یا یہودی٬ عیسائی ہوں٬ یا صابی٬ جو بھی اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔
اور
اس کیلئے کسی خوف اور رنج کا موقعہ نہیں ہے٬
یاد کرو وہ وقت جب ہم نے طور کو تم پر اٹھا کر تم سے پُختہ عہد لیا تھا ٬
اور
کہا تھا
کہ
٬٬ جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں ٬ اسے مضبوطی کے ساتھ تھامنا ٬
اور
جو احکام اور ہدایت اس میں درج ہیں
انہیں یاد رکھنا ٬
اسی ذریعہ سے توقع کی جا سکتی ہے ٬
کہ
تم تقویٰ کی روش پر چل سکو گے ٬٬
مگر
اس کے بعد تم اپنے عہد سے پھِر گئے ٬
اس پر بھی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا ٬
ورنہ
تم کبھی کے تباہ ہو چکے ہوتے ٬
پھر تمہیں اپنی قوم کے اُن لوگوں کا قصہ تو معلوم ہی ہے٬
جنہوں نے”” سبت”” کا قانون توڑا تھا٬
ہم نے انہیں کہ دیا
کہ
بندر بن جاؤ اور اس حال میں رہو
کہ
ہر طرف سے تم پر دھتکار پھٹکار پڑے ٬
اس طرح ہم نے ان کے انجام کو اُس زمانے کے لوگوں
اور
بعد کی آنے والی نسلوں کے لئے عبرت اوور ڈرنے والوں کیلئے نصیحت بنا کر چھوڑا ٬
پھر
وہ واقعہ یاد کرو
جب موسٰیؑ نے اپنی قوم سے کہا
کہ
اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے ٬
کہنے لگے
کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو؟
موسٰیؑ نے کہا
میں اِس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں
کہ ٌ
جاہلوں کی سی باتیں کروں ٬
بولے
اچھا
اپنے ربّ سے درخواست کرو
کہ
وہ ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے
موسیٰؑ نے کہا
اللہ کا ارشاد ہے
کہ
وہ ایسی گائے ہونی چاہئے
کہ
وہ جو نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا بلکہ اوسط عمر کی ہو ٬
لہٰذا
جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرو ٬
پھر
کہنے لگے
اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو
کہ
اسکا رنگ کیسا ہو؟
موسیٰؑ نے کہا وہ فرماتا ہے
زرد رنگ کی گائے ہونی چاہئے جس کا رنگ ایسا شوخ ہو
کہ
دیکھنے والوں کا جی خوش ہو جائے٬
پھر بولے
اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاؤ
کیسی گائے مطلوب ہے ٬
ہمیں اس کی تعین میں اشتباہ ہو گیا ہے٬
اللہ نے چاہا تو ہم اس کا پتہ پا لیں گے
موسیٰؑ نے جواب دیا
٬٬ اللہ کہتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی ٬
نہ زمین جوتتی ہے ٬ نہ پانی کھینچتی ہے٬ صحیح سالم اور بے داغ ہے ٬
اس پر وہ پکار اٹھے
کہ
ہاں اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا ہے٬
پھر
انہوں نے اسے ذبح کیا ورنہ وہ ایسے کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر