جعلی لوگ

Amal Baba

Amal Baba

تحریر : عبدالجبار خان دریشک
دن بدن اس کی مایوسی بڑھتی جارہی تھی اس نے بڑے سے بڑے ڈاکٹر اور اور مہنگے ترین ہسپتالوں سے اپنا علاج کروایا وہ مختلف درگاہوں آستانوں اور عاملوں کے پاس بھی گیا پر وہاں سے بھی کچھ نہ بنا سکا اس کی شادی کو دس سے زیادہ عرصہ بیت چکا تھا اللہ پاک کا دیا اس کے پاس سب کچھ تھا بس کسی چیز کی کمی تھی تو وہ اولاد کی تھی آس پاس کے لوگ دوست احباب رشتے دار سو سو باتیں کرتے تھے جس سے وہ مزید پریشان ہو جاتا پر یہ سب کچھ اس کے بس سے باہر تھا ایک دن اس کی دوکان پر ایک سنیاسی بابا (نیم حکیم) آیا سنیاسی بابا نے اسے باتوں باتوں بھانپ لیا اس نے اپنی ساری داستان اسے سنائی بابا نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میں تمہیں گارنٹی دوا دیتا ہوں اس کے استعمال سے تمہیں جلد ہی خوشخبری ملے گیبابا نے دوائی اس کے ہاتھ میں تھمائی اور کہا یہ سات پوڑیاں سات دن استعمال کرو اس نےبا با کے کہنے مطابق دوائی کھانا شروع کر دی ایک ہفتہ متوتر دوائی استعمال کرنے کے بعد اس کی طبیعت بگڑنا شروع ہوگئی وہ ڈاکٹر کے پاس گیا ڈاکٹر نے اسے بتایا تمہارے گردے ناکارہ ہو چکے ہیں مزیدحالت بگڑی تو مختلف ٹیسٹ کروائے گئے جن کی رپورٹ نے سب گھروالوں ہوش اڑا دیے اسے بلڈ کینسر ہوچکا تھا اس کا معدہ اور آنتیں گل چکی تھیں ڈاکٹر نے بتایا اس نے ایسی کوئی چیز کھائی ہے جس نے اس کا پوراکا پور اندرونی نظام جلا رکھ دیا ہے دوماہ ہسپتال میں زیرے علاج رہنے کے بعد بالا آخر اللہ کو پیارا ہو گیا یہ کہانی یہاں پر اختتام ہوئی ایک اور کہانی ملاخط کیجئے۔

طفیل لیاقت پور کے قریب ایک چک میں رہتا تھا وہ غریب آدمی تھا محنت مزدوری کر کے زندگی کے دن ہنسی خوشی زندگی کے دن گزار رہا تھا اس کی شادی کو 17 سال ہوچکے تھے اس کی پانچ بیٹیاں تھیں لیکن کوئی نرینہ اولاد نہ تھی اس بات کی کمی کا احساس اسے ہر وقت رہتا تھا اپنے پرائے اس کے کان بھرتے تھے اکثر اوقات اس کا بیوی سے بات بات پر جھگڑاا رہتا تھا وجہ اولاد نرینہ کی کمی تھی اس کی بیوی ایک دن اس پریشانی کو لے کر ایک عامل کے پاس چلی گئی وہ عامل اسے تعویز بنا کر دیتا اور اگلے ہفتے آنے کا کہتا ایسے یہ سلسلہ کئی ہفتے چلتا رہا عامل نے طفیل کی بیوی کو اپنے شیشے میں اتار لیا طفیل کی بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا اور عدالت سے رجوع کر کے طلاق لے لی اور وہ اپنی پانچوں بیٹیوں کو لے کر اس عامل کے پاس آکر رہنے لگی طفیل نے بیٹیوں کی واپسی مطالبہ کیا لیکن بیٹیاں اس کے حوالے نہ کی گئیں پریشانی کی وجہ سے طفیل کے سر پر جنون سوار تھا عید روز وہ عامل کے گھر گیا اپنی بیوی اور عامل کو قتل کر دیا خود جیل چلا گیا اور اس کی پانچ بیٹیاں در بدر کے دھکے کھا رہی ہیں ایسے ہی ایک اور ہنستا بستا گھر برباد ہوگیا۔

آپ ان دونوں واقعات کا بغور جائزہ لیں تو آپ کو ایک چیز مشترکہ ملے گی جب انسان پریشان اور مایوس ہوتا ہے وہ کسی کی بات پراعتبار کر لیتا ہے ایسا ہی ان دونوں واقعات میں ہوا یاردکھیں جعلی لوگ جعلی ہی ہوتے ہیں ان کو کسی کی عزت جان مال کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی بس پیسہ اور ذاتی مطلب ان لئے اہم ہوتا ہے یہ ڈھونگی نوسر بازلوگ مصوم پریشان حال افرادکی تلاش میں رہتے ہیں یہ اپنی دوکان اور جعلی آستانہ بنا کر لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں یہ لوگ ایک ہی وقت میں حکیم روحانی معالج دست شناس اور ستاروں کے علم کے پروفیسر بھی بن جاتے ہیں بازاروں چوکوں چورہوں پر بے وقوفوں کا مجمہ لگا کر دانت درد سے لے کر جلدی جنسی اور تمام پیچیدہ امراض کی پھکیاں پوڑیاں گولیاں اور کیپسول بیچتے ہیں ان کی باتیں سنیں تو یہ لوگ کسی ماہر فیزیشن سے کم نہیں ہوں گے جن کے پاس تمام امراض کا علاج اور ادویات موجود ہوں گی یہ انسانوں کے علاوہ جانوروں کا علاج بھی کرتے ہیں جانوروں کی پھکیاں سیرپ اور تعویز دم سب ان پاس ہوگا بازاروں اور گلیوں میں پھرنے والے سنیاسی جوگی اور نیم حکیم ہر ملنے والے کو پہلے پہل یہ بات کر یں گے کہ آپ کی آنکھیں پیلی ہیں اور مثانے میں گرمی ہے ایسے ہی عامل آپ کی تمام پریشانیوں کا حل فوری اور منٹوں میں کر دینے کا دعوا کرتے ہیں یہ لوگ جن بیماریوں اور پریشانیوں کا حل کرنے کا دعوا کرتے ہیں ان میں یہ خود مبتلا ہوتے ہیں۔

موجودہ دور میں حکومت عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے والوں کو سیدھا کر رہی ہے آئے دن جعلی ادویات بنانے والی فیکٹریوں اور میڈیکل سٹورز کو سیل کیا جا رہا ہے عطائیوں کے خلاف بھر پور ایکشن لیا جا رہا علاج میں کوتائی برتنے والے ڈاکٹرز کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے فوڈ اتھارٹی جعلی اور غیر معیاری اشیاءبنانے والوں کے خلاف کاروائی کررہی ہے حکومت قطعاً کسی کو اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی کی صحت کے ساتھ کھیلے لیکن یہ جعلی عامل غیر تربیت یافتہ حکیم سنیاسی اور جوگی بابا کیوں آزادی سے عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں؟ ان کو کس نے اجازت دی کیا ؟ ان کے پاس کوئی لائسنس ہے ؟ یہ جعلی لوگ اپنا کام آسانی سے جاری رکھتے ہیں یہ بسوں پبلک مقامات درگاہوں کے باہر ریلوے اسٹیشن بس اڈوں گلی محلوں بازاروں میں بغیر کسی رکاوٹ ادویات بھی بیچتے ہیں تعویز دیتے ہیں اور دمہ بھی کرتے ہیں ان کے پاس کسی قسم کا کوئی لائسنس یا اجازت نامہ تک نہیں ہوتا حکومت ایسے جعلی عامل نیم حکیم سنیاسی اور جوگی بابا لوگوں کے خلاف سخت ایکشن لے۔

ایک ردالفساد یہاں بھی ہونا چاہیے ان کی وجہ سے کتنے لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیںسینکڑوں خواتین خودکشی کر چکی ہیں کئیہنستے بستے گھر برباد ہو چکے ہیں اور کئی لوگ اپنی عزت اور دولت گنوا چکے ہیں ساتھ ہی ہمیں خود بھی سوچنا اور سمجھنا چاہیے کہ جو لوگ خود مریض کی شکل کے ہیں جن کو ایک نہیں کئی امراض لاحق ہیں وہ کیا ہمارا علاج کریں گے ایک بندہ خود سٹرک پر سارا دن دھول چاٹ رہا ہے جو شام کو بامشکل گھر کے لیے آٹا لے جاتا ہے وہ کیا کسی کو نوکری دلوا سکتا ہے کسی کا کاروبار چمکا سکتا ہے آپ اس بات پر تو یقین رکھتے ہیں کہ مایوسی اور ناامیدی کفر ہے کچھ خواہشات دنیا میں پوری نہیں بھی ہوتیںتو اس میں بھی اللہ پاک کی حکمت شامل ہوتی ہے وہ سب کچھ بہتر جانتا ہے جب کسی کی کوئی خواہش اس دنیا پوری نہیں ہو تی تو اللہ پاک کسی نا کسی صورت اس بدلہ اس دنیا میں بھی دیتا ہے اور آخرت میں بھی دیتا ہے اگر کوئی بیمار ہے تو بہترین سے بہترین ڈاکٹر آج کے دور میں موجود ہیں اپنا بہتر علاج کروائیں کسی سخت ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں سکون نہیں مل رہا تو عامل کے پاس جانے کی بجائے ماہرے نفسیات کے رجوع کریں کم سے کم وہ آپ کو خوش رہنے اور بہتر زندگی گزارنے حل بتائے گا اور اس سے بھی بڑھ کر اللہ کو یاد کریں نماز پڑھیں اس میں سکون بھی اور علاج بھی۔

Abdul Jabbar Khan

Abdul Jabbar Khan

تحریر : عبدالجبار خان دریشک