منزل منزل

Latest Garden

Latest Garden

راجدہ نے کہا تھا میرے متعلق افسانہ مت لکھنا، میں بدنام ہوجاؤں گی، اس بات کو آج تیسرا سال ہے اور میں نے راجدہ کے بارے میں کچھ نہیں لکھا اور نہ ہی کبھی لکھوں گا، اگرچہ وہ زمانہ جو میں نے اس کی محبت میں بسر کیا، میری زندگی کا سنہری زمانہ تھا، اور اس کا خیال مجھے ایک ایسے باغ کی یاد دلاتا ہے، جہاں سدا بہار درختوں کی پرسکون چھاؤں میں سچے گلاب کے پھولوں کے جھاڑ مسکرا رہے ہوں اور جس کی کھلی اور آزاد روشوں پر خوشحالی ، لوگ محو خرام ہوں، پھر بھی میں اس باغ کے متعلق کچھ نہیں بتاؤں گا، خواہ وہ اس میں راجدہ کی بدنامی ہو یا نیک نامی، جب سے راجدہ جدا ہوئی ہے راجدہ کومجھ سے جدائے ہوئے آج تیسرا سال ہے۔
اس عرصے میں راجدہ کو میں نے ایک پل کیلئے بھی نہیں دیکھا اور شاید اس نے بھی مجھے نہ دیکھا ہو، ہم۔۔۔۔۔۔۔جو ایک دوسرے کی پل بھر کی جدائی برداشت نہیں کرسکتے تھے، زندگی کے تین سال ایک دوسرے سے جدا رہ کر چپ چاپ بسر کر گئے ہیں، ان تین سالوں پر سے گزر کر پیچھے کی طرف جاتے ہوئے مجھے محسوس ہورہا ہے کہ میں جھڑے ہوئے پتوں والی ایک پژمردہ سڑک پر چل رہا ہوں، جو قبرستان میں سے ہوکر گزرتی ہے۔

printing press

printing press

ان دنوں میں لاہور کے ایک اخبار کے دفتر میں ملازم تھا، گھر چونکہ امرتسر میں تھا، لہذا شام کی گاڑی سے واپس اپنے گھر چلا جاتا تھا، لاہور میں بڑی آپا کا گھر تھا اور وہ لوگ میری اس ہر صبح سفر، ہر شام سفر ایسی زندگی پر مجھے اکثر پالتو کلرک کہا کرتے تھے، تاہم جو مزا اپنا گھر میں تھا وہ نہ بلخ میں تھا نہ بخارے میں۔۔۔۔علاوہ ازیں کہ میری عادت کہ میں امرتسری انگریزوں کی طرح ہوں۔۔۔۔ان اطوار کے پیش نظر اپنا گھر چھوڑنا عین حماقت تھی۔
لیکن راجدہ سے ملنے کے بعد میں نے امرتسر تقریبا چھوڑ دیا،

آج سے تین سال پہلے موسم گرما کی کی وہ ایک گرم اور چمکیلی شام تھی، میں ابھی ابھی گاڑی سے اترا تھا، مجھے حسب معمول بھوک لگ رہی تھی، تیز تیز قدم بڑھارہا تھا، پر شور بازاروں اور دھندلی گلیوں میں سے گزرتا میں گھر کی طرف بڑھا، ابھی میں گھر کی سیٹرھیوں میں ہی تھا کہ مجھے اوپر بھانجی کی آواز سنائی دی۔

man coming home

man coming home

بھانجی اور میں میں ہم عمر تھے اور ایک ساتھ کھیلے اور بڑے ہوئے تھے، وہ کافی دنوں کے بعد اپنی نانی کے گھر آئی تھی اور میں اس سے بڑے آرام سے ملنا چاہتا تھا، چنانچہ میں سیدھے اپنے کمرے میں گھس گیا، کپڑے اتارے، ٹھنڈے پانی سے غسل کیا، اور کپڑے بدلنے لگا، بھانجی چھوٹے بھائی سے کسی نئی فلم کی ہیروئن کے بارے میں گرماگرم بحث کررہی تھی، اس کے خیال میں ہیروئن سے زیادہ خوبصورت ہیرو تھا، مگر چھوٹا بھائی کہتا کہ ہیروئن کی آنکھیں بھینگی ہونے کے علاوہ اس کے مونچھیں بھی تھیں، اس لئے وہ کسی طرح بھی خوبصورت نہیں کہلائی جاسکتی۔۔۔۔۔۔

کپڑے بدل کر میں صحن میں آگیا بھانجی مجھے دیکھتے ہی اچھل پڑی میں بھی تقریباً اچھل پڑا سب قہقہے مار کر ہنسنے لگے، وہاں شور مچ گیا جس میں میرے اور بھانجی کے قہقہوں کے آوازیں نمایاں تھیں، یونہی میری نظر چق کے پیچھے صحن کے دوسرے آدھے حصے میں پڑی، وہاں بھانجی کی نند عظمی بیٹھی ہمارے قہقہوں میں دلچسپی لے رہی تھی۔
تو گویا آپ بھی ہیں؟
اور میں چق اٹھا کر تیزی سے اس کے پاس پہنچا گیا، عظمی کے ساتھ ایک اور لڑکی بیٹھی تھی، جسے میں نے بالکل نہ دیکھا اور جس نے مجھے دیکھ کر منہ جلدی سے دوسرے طرف پھیر لیا، میں ذرا ٹھٹھک گیا، اتنے میں بھانجی بھی آگئی اور اس لڑکی کو مجھ سے پردا کرتے دیکھ کر بول اٹھی۔

parda

parda

حد ہوگئی بھلا ماموں سے کیا پردہ۔
ہاں بھئی بھلا یہ کوئی پردے کا موقع ہے، عظمیٰ نے اس لڑکی کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا، اس دوران میں وہ لڑکی شرم سے سکڑی جارہی تھی اور اسکے کانوں کی لویں سرخ ہورہی تھیں، میں عظمی اور بھانجی سے باتیں کرتا رہا، باتیں کرتے ہوئے میں نے دو تین بار نظریں بچا کر اس لڑکی کو دیکھا، باریک ہونٹ، ستواں ناک، جھالر اور پلکیں ہلکا گلابی رنگ، چپ چاپ بے زبان جیسے موم بتی۔۔۔۔۔۔۔یہ تھی راجدہ۔۔۔۔۔

اس سے پہلے میں نے راجدہ کو کہیں اور نہیں دیکھا تھا، بھانجی نے بتایا کہ وہ عظمی کے سسرال سے ہے، اگر وہ عظمی کے سسرال سے نہ ہوتی تو مجھے کہاں ملتی؟ ویسے راجدہ کا مجھ سے ملنا نا گزیر تھا، یہ میں اب سوچتا ہوں، شام کے کھانے کے بعد سیر کا پروگرام بن گیا، اور ہم سب کمپنی باغ کی طرف چل پڑے۔
باغ ابھی فاصلے پر تھا کہ شام کے ٹھنڈے سائے ماند پڑگئے، اور مرطوب ہوا کے نیم جھونکے ہمارے جسموں میں چھوئے باغ میں داخل ہوتے ہوئے ہی ہم نے چنبیلی اور مولسری کے پھولوں اور ایسی مٹی کی خوشبو سونگھی جیسے نہر کے پانی سے سیراب کیا گیاہو اور جہاں سارا دن تیز دھوپ میں گرم بخارات اٹھتے رہے ہوں، شہر کی نسبت یہاں کی فضا آزاد اور مرطوب تھی، گرم ہوا بڑی نرمی سے چل رہی تھی اور گھنے درختوں کی گہری سبز شاخیں بے معلوم انداز میں بڑی نرمی سے چل رہی تھی۔

اے حمید