شہنشاہ غزل مہدی حسن کو مداحوں سے بچھڑے پانچ سال بیت گئے

Mehdi Hassan

Mehdi Hassan

لاہور (جیوڈیسک) شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتے تھے، ایسا کہنا تھا بلبل ہندوستان لتا منگیشکر کا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہدی حسن کی آواز کی شہرت سرحدوں کی قیدی نہیں تھی۔

ان کو گلوکاری پر ایسا عبور حاصل تھا کہ چھوٹی سی عمر سے ہی سر اور تال کو سمجھ لیا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے، غم روزگار نے سائیکل مکینک بنا دیا لیکن ریاض سے ناطہ نہ ٹوٹا، پچاس کی دہائی میں پہلا چانس ریڈیو پاکستان کراچی سے ملا جس کے بعد گلوکاری کی دنیا کے بے تاج بادشاہ بن گئے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں مہدی حسن فلمی موسیقاروں کی اولین پسند تھے۔

انہوں نے لاتعداد فلمی گیت گائے جو آج بھی زبان زدو عام ہیں۔ غزل گائیکی میں بھی کوئی ان کا ثانی نہ تھا۔ سروں کے بادشاہ مہدی حسن طویل علالت کے بعد 13 جون 2012 کو دنیا چھوڑ گئے لیکن ان کے مداح کبھی بھی انہیں بھلا نہ سکیں گے۔