حکومت اور اپوزیشن کے اختلا فات”نوٹوں” میں دب گئے

Government and opposition

Government and opposition

تحریر: مہر بشارت صدیقی
قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے اختلا فات اس وقت نو ٹو ں تلے دب گئے جب عوام کے نما ئندوں نے اپنی تنخواہوں، مراعات میں لاکھو ں روپے اضافے کی منظوری دیدی۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق کے قائم مقام چیئرمین بشیر ورک کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ، اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر اور چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے سے متعلق تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی گئی، جس پر اراکین نے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں دس گنا اضافے کی منظوری دی۔ تحریک میں کہا گیا کہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو بہت زیادہ تنخواہیں اور مراعات ملتی ہیں، جبکہ صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات تیار کرنے سے پہلے بھارت، بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کا بھی تقابلی جائزہ لیا۔ کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا کہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں 22 ویں گریڈ کے وفاقی سیکرٹری کے برابر کی جائیں، سفارشات کے مطابق ارکان اسمبلی کی بنیادی تنخواہ 36423 روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے ، یوٹیلیٹی الاونس50ہزار،ٹرانسپورٹ الائونس 50 ہزار ،حلقہ الائونس70ہزار،دفتر کی ماہانہ تزئین وآرائش کیلئے بھی ایک لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی بنیادی ماہانہ تنخواہ 97 ہزار 124 روپے سے بڑھا کر 4 لاکھ روپے کی جائے ، اس کے علاوہ دونوں اہم شخصیات کو دیئے جانے والے الاونس کو بھی 6 ہزار سے 50 ہزار کیا جائے۔ ڈپٹی اسپیکر اور ڈپٹی چیئرمین کی تنخواہوں میں اضافے کی بھی تجاویز پیش کی گئی ہیں ، جس کے تحت دونوں افراد کی بنیادی تنخواہ 89 ہزار 841 سے بڑھا کر 3لاکھ کر دی گئی۔ الاونس کی مد میں رقم کو 6 ہزار سے بڑھا کر 40 ہزار کر دیا گیا۔ ہر رکن کو پانچ سال میں ایک مرتبہ 3 لاکھ روپے کے آئی ٹی آلات الاونس سے بھی نوازا جائے گا۔ اس تحریک کے نافذ العمل ہونے کے ساتھ ہی ایک رکن اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی طرح اسپتالوں سے میڈیکل ، ائر پورٹ سیکیورٹی پاس اور وی آئی پی لائونج کی سہولت سے استفادہ کر سکے گا۔ کوئی بھی سابق رکن جو ایک بار پارلیمنٹ کا حصہ رہا ہو وہ بھی ان سہولیات کا اہل ہو گا۔قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کی سفارشات پرالیکشن کمیشن میں تبدیلی،چیف الیکشن کمشنر اور چاروں ارکان کی تقرری کے طریقہ کار سے متعلق 22ویں آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری دیدی۔اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا تو وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے 22ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کا بل پیش کیا۔ رائے شماری کے دوران 236 ارکان نے ترمیم کی منظوری کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ایوان میں موجود کسی بھی رکن نے مخالفت میں ووٹ نہیں ڈالا۔ 22 ویں ترمیم کے بل کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 8 میں ترمیم کی تجویز دی گئی، چیف الیکشن کمشنر کے لیے سپریم کورٹ کا ریٹائرڈ جج ہونے کی شرط ختم کر دی گئی۔

ریٹائرڈ جج کے علاوہ اب کم سے کم 20 سالہ تجربے اور 16 سالہ تعلیمی قابلیت کا حامل سرکاری افسر یا ٹیکنو کریٹ بھی چیف الیکشن کمشنر مقرر ہو سکے گا۔ بل کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے سرکاری ملازم سے مراد 22 ویں گریڈ کا ریٹائرڈ افسر ہے۔ الیکشن کمیشن کے ارکان کے لیے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی شرط ختم کردی گئی ، کوئی بھی ریٹائرڈ سرکاری افسر یا ٹیکنو کریٹ کمیشن کا رکن مقرر ہوسکے گا۔ چیف الیکشن کمشنر کی غیر موجودگی میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کو قائم مقام بنانے کی شرط ختم کردی گئی اور الیکشن کمیشن کا سینئر ترین رکن قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دے سکے گا۔ چیف الیکشن کمشنر کے لیے عمر کی زیادہ سے زیادہ حد 68 سال ، جبکہ ارکان الیکشن کمیشن کے لیے عمر کی زیادہ سے زیادہ حد 65 سال مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ترمیم کے تحت الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کیلئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق نہ ہونے کی صورت میں دونوں رہنما پارلیمانی کمیٹی کو الگ فہرست بھیجیں گے ، پارلیمانی کمیٹی مجوزہ افراد میں سے کسی ایک شخص کا انتخاب کرے گی، الیکشن کمیشن کے 2 ارکان پہلے ڈھائی سال بعد قرعہ اندازی کے ذریعے ریٹائر ہوں گے ، جبکہ دیگر 2 ارکان اگلے ڈھائی سال بعد ریٹائر ہوں گے۔ چیف الیکشن کمشنر یا کسی رکن کی خالی نشست 45 دن کے اندر پْر کی جائے گی۔ بل کے تحت الیکشن کمیشن سینیٹ کی طرز پر کبھی تحلیل نہیں ہوگا اور مسلسل قائم رہے گا۔

الیکشن کمیشن کو مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کی تیاری کا اختیار بھی ہو گا۔ منظوری کے بعد وزیر قانون زاہد حامد نے ایوان کو مبارکباد دی۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل اب سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر پاکستان کے دستخطوں سے آئین پاکستان کا حصہ بن جائے گا۔آئینی ماہرین نے قرار دیا ہے 22 ویں آئینی ترمیم سے پہلے عوامی ریفرنڈم کروایا جاتا۔ ارکان الیکشن کمشن کی تعیناتیاں خود مختار کمشن کے ذریعے آنے سے ہی وہ مقاصد حاصل ہوسکتے ہیں جس سے عوامی مینڈیٹ کو چرانے کے الزامات سے بچا جاسکے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اے کے ڈوگر نے کہا الیکشن کمشن اہم ترین آئینی ادارہ ہے۔ 22 ویں ترمیم کے ذریعے ریٹائرڈ افسر لینے کا فیصلہ درست نہیں۔ انتخابی عمل کو شفاف بنانا مقصود تھا تو ایک آئینی کمشن قائم کیا جاتا جو الیکشن کمشن میں ارکان کی تقرریاں تشہیر کے بعد مقابلے کے امتحان کے ذریعے پْر کرتا۔ سپریم کورٹ کے وکیل محمد اظہر صدیق نے کہا 22 ویں آئینی ترمیم نے الیکشن کمشن کی آزادانہ حیثیت کو تباہ کر دیا ہے۔ 22 ویں ترمیم عجلت میں کی گئی۔ ترمیم سے پہلے عوامی ریفرنڈم کرایا جاتا۔ یہ ترمیم اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج ہوگی کیونکہ یہ الیکشن کمشن کی آزادانہ حیثیت کے خلاف ہے۔قومی اسمبلی میں پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے ضابطہ کار بنانے والی پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں تنازع پیدا ہو گیا۔۔

MQM

MQM

ایم کیو ایم کے مطالبے کے باوجود اسے کمیٹی میں شامل نہ کیا جا سکا۔ اپوزیشن اسے حکومت کی طرف سے جبکہ حکومت اپوزیشن کی طرف سے شامل کرنے پر زور دیتی رہی۔ وزیر قانون زاہد حامد نے 16 رکنی پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی تحریک پیش کی تو اپوزیشن ارکان مشتعل ہو گئے۔ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے اجلاس میں طے پایا تھا کہ کمیٹی میں حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 6،6 ہو گی ، لیکن بعد میں اس میں اضافہ کر دیا گیا۔ جس پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایوان میں کہا کہ انہیں فاروق ستار کا ٹیلی فون موصول ہوا، جس میں انہوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے 25 ارکان ہیں ، لیکن انہیں کمیٹی میں نمائندگی نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا موقف مناسب ہے ، اس کے باوجود اگر اپوزیشن چاہے تو کمیٹی میں ارکان کی تعداد 12 کرنے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ ایم کیو ایم کے آصف حسنین نے کہا کہ ایم کیو ایم اپوزیشن بینچوں پر بیٹھی ہے ،

اگرکسی کو ایم کیو ایم پر اعتراض تھا تو اسپیکر کے چیمبر میں ہونے والی میٹنگ میں اعتراض کرتا، کسی ایک سیاسی جماعت کو حق نہیں کہ پوری اپوزیشن کو ڈکٹیشن دے ، ہمیں کمیٹی کے ارکان کی تعداد پراعتراض نہیں۔ جس پیمانے پر دیگر جماعتوں کوشامل کیاگیا اسی پر ایم کیو ایم کو بھی شامل کیا جائے۔ ملک کی چوتھی بڑی جماعت کو نظر انداز کرنا کسی طور درست نہیں۔ اس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کے ضابطہ کاری کی تیاری میں ایم کیو ایم شامل تھی لیکن خورشید شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں ایم کیو ایم شریک نہیں ہوئی، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم حکومت کے بجائے اپوزیشن سے رابطہ کرے۔ سپیکر کی ہدایت پر وزیر قانون نے 16 رکنی کمیٹی کی تحریک واپس لیتے ہوئے 12 رکنی کمیٹی کی تحریک پیش کی ، جسے ایوان زیریں نے منظور کر لیا۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

Mehr Basharat Siddiqi

Mehr Basharat Siddiqi

تحریر: مہر بشارت صدیقی