مجھ پر جو گذری

Sad Girl

Sad Girl

تحریر : ظہیر رونجہ
غم اور پریشانیاں زندگی کا حصہ ہیں وقت کے ساتھ انسانی زندگی میں مختلف حالات و واقعات اور تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں اور انسان ہر بدلتے وقت ااور لمحے کیساتھ کچھ نہ کچھ سیکھ لیتا ہے وہ کہتے ہیں کہ واقعات اور سانحے آکر چند لمحے کے بعد واپس چلے جا تے ہیں مگر جاتے جا تے انسان کی زندگی میں کچھ تبدیلیاں چھوڑ جاتے ہیں وہ وقت کیساتھ ساتھ انسان بدلتا رہتا ہے غم کے واقعات انسانی جسم اور روح پر کچھ نا خوشگوار اثرات چھوڑ جاتے ہیں جو انسانی دماغ کو کا فی گہرائی تک چھوجاتے ہیں۔ایسا ہی ایک واقعہ 31 جنوری 2017کی شب میرے ساتھ رونما ہوا جو کا فی دنوں تک میرے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا رہا ۔جو شاہد آپ پر بیوی،بہن،ماں کی صورتحال میں ایسے واقعات کا سامنا ہوا ہواور آپ کے جسم میں ایک تھڑتھڑاہت پیدا کردی ہو31 جنوری کو بیلہ میں لیڈی ڈاکٹر کی غفلت اور جھوٹی تسلیوں کی وجہ سے میری شریک حیات موت کی وادی سے ہوکر گذری ہے جو لسبیلہ کے مختلف ہسپیتالوں میں لیڈی ڈاکٹرز کی عدم موجودگی کے باعث خواتین کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے۔

صوبائی حکومت تبدیلی کے دعوے تو بہت کرتی رہتی ہے اور اخبارار کی ہیڈلائنز انہی بلند وبانگ دعوئوں کی زینت بنی رہتی ہیں مگر حقیقت اس سے کا فی مختلف ہے نامناسب بندوبست کی وجہ سے دوران ڈلیوری اکثر خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں مگر پھر بھی حکومت دعوے کرتے ہوئے تھکنے کا نام ہی نہیں ملتی لسبیلہ کے ہسپیتالوں میں طبی سہولیات کی عدم فراہمی غریب عوام لیڈی ڈاکٹرز نہ ہونے کی وجہ سے پرائیوٹ کلینکس اور عطائی ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر ہیں صاحب استطاعت افراد علاج کے لیئے کراچی کا رخ کرتے ہیں اور جن کے پاس پیسے نہیں ہو تے وہ مقامی خواتین داعی سے علاج کراتی ہیں۔

اکثر غیرتجربہ کا ر داعی عورتوں کے ہاتھوں دوران ڈلیوری ما ں اور بچے دم توڑ جاتے ہیں ۔نارمل ڈیلیوری کا جھانسہ دے کر پیسے بٹورنے کا سلسلہ کا فی پرانا ہے جو لسبیلہ کی دھرتی پر کہی مائوں کو مو ت کی وادی میں دھکیلا گیا ہے جب کیس ہاتھ سے نکل جائے تو سادھی سیدھی دیہات سے آنے والی خواتین کو کراچی لے جانے کا بول دیتی ہیں غریب خواتین اس دھوکے اور غفلت سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔مجھے ان حالات کا اندازہ اس وقت ہوا جب اس واقعے سے مجھے خود گذرنا پڑا۔

Lady Doctor

Lady Doctor

لیڈی ڈاکٹر نے بیوی کا سارہ دن یہ کہہ کر روکے رکھا کہ حوصلہ رکھے رات کی درمیانی شپ بچہ نارمل ہوگا جب کیس ہاتھوں سے نکلتے دیکھا تو کراچی رات کے 11 بجے ریفر کرنے کو کہاگیا اس دوران کرایہ کی گاڑی کا انتظام کرنا اتنا لمبا راستہ طے کرنا کراچی کی ٹریفک کا سامنا کرنا پو را منظر اور بیوی کی درد سے کراہتے آوازیں دماغ میں ایک زوردار ہتھوڑے کی طر ح لگنے لگی۔لیکن جس کی جان وہ اس رب پاک کے ہاتھوں میں ہو تب کچھ نہیں ہوتا۔

اللہ کے رحم وکرم سے کراچی ہسپیتال لمبے سفر اور ٹریفک کے ہجوم سے نکل کر ہسپیتال پہنچے اور صبح کی درمیانی شب اللہ نے مجھے ایک پیاری سے بیٹی سے نوازا ماں اور بیٹی کو اللہ نے دونوں کو اپنی حفاظت میں رکھا ۔لیکن میرے ذہن میں ابھی تک یہ سوالات گھوم رہے ہیں کہ ان مائوں اور بہنوں کا کیا ہوتا ہوگاجوا ن لیڈی ڈاکٹر کی رحم وکر م پر ہیں۔

Government

Government

میں نہیں چاہتا جو مجھ پر گذری وہ آپ پر گذرے ہسپیتالوں میں بنیادی سہولیا ت کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیج میں سے ہیں لیکن شاہد صحت پر بننے والے فنڈز اس ناتجربہ کا ر لیڈی ڈاکٹر کی طرح کسی اور کے ہتھوں لگ جاتے ہیں ااور ہسپیتالوں میں پُہچنے سے پہلے دم توڑ دیتے ہیں۔

تحریر : ظہیر رونجہ