باب 48 با القراءة والعرض علی المحدث حدیث 61

Hadith

Hadith

تحریر : شاہ بانو میر

وَقَوْلِهِ تَعَالَى

وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا

الْقِرَاءَةُ وَالْعَرْضُ عَلَى الْمُحَدِّثِ.

وَرَأَى الْحَسَنُ وَالثَّوْرِيُّ وَمَالِكٌ الْقِرَاءَةَ جَائِزَةً

وَاحْتَجَّ بَعْضُهُمْ فِي الْقِرَاءَةِ عَلَى الْعَالِمِ بِحَدِيثِ ضِمَامِ بْنِ ثَعْلَبَةَ

قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ قَالَ “”نَعَمْ””

قَالَ فَهَذِهِ قِرَاءَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

أَخْبَرَ ضِمَامٌ قَوْمَهُ بِذَلِكَ فَأَجَازُوهُ

وَاحْتَجَّ مَالِكٌ بِالصَّكِّ يُقْرَأُ عَلَى الْقَوْمِ فَيَقُولُونَ أَشْهَدَنَا فُلاَنٌ

وَيُقْرَأُ ذَلِكَ قِرَاءَةً عَلَيْهِمْ

وَيُقْرَأُ عَلَى الْمُقْرِئِ فَيَقُولُ الْقَارِئُ أَقْرَأَنِي فُلاَنٌ.

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْوَاسِطِيُّ

عَنْ عَوْفٍ عَنِ الْحَسَنِ

قَالَ

لاَ بَأْسَ بِالْقِرَاءَةِ عَلَى الْعَالِمِ

وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرَبْرِيُّ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ

قَالَ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ

قَالَ إِذَا قُرِئَ عَلَى الْمُحَدِّثِ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَقُولَ حَدَّثَنِي

قَالَ وَسَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ يَقُولُ عَنْ مَالِكٍ وَسُفْيَانَ

الْقِرَاءَةُ عَلَى الْعَالِمِ وَقِرَاءَتُهُ سَوَاءٌ.

“” تحفة 18529، 18761 أ، 19246″”

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا

کہا ہم سے لیث نے بیان کیا

انھوں نے سعید مقبری سے

انھوں نے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے

انھوں نے انس بن مالک سے سنا کہ

ایک بار ہم مسجد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے

اتنے میں ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور اونٹ کو مسجد میں بٹھا کر باندھ دیا

پھر پوچھنے لگا ( بھائیو ) تم لوگوں میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کون سے ہیں ؟

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں میں تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے

ہم نے کہا ( حضرت ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ سفید رنگ والے بزرگ ہیں

جو تکیہ لگائے ہوئے تشریف فرما ہیں

تب وہ آپ سے مخاطب ہوا کہ اے عبدالمطلب کے فرزند !

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

کہو میں آپ کی بات سن رہا ہوں

وہ بولا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دینی باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں

اور

ذرا سختی سے بھی پوچھوں گا تو آپ اپنے دل میں برا نہ مانئے گا

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جو تمہارا دل چاہے پوچھو

تب اس نے کہا کہ میں آپ کو آپ کے رب اور اگلے لوگوں کے رب تبارک وتعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں

کیا آپ کو اللہ نے دنیا کے سب لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

ہاں

یا

میرے اللہ !

پھر اس نے کہا

میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں

کیا اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات دن میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم فرمایا ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

ہاں

یا

میرے اللہ !

پھر کہنے لگا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ

کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ سال بھر میں اس مہینہ رمضان کے روزے رکھو

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

ہاں

یا

میرے اللہ

پھر کہنے لگا

میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ

کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ ہم میں سے جو مالدار لوگ ہیں ان سے زکوٰۃ وصول کر کے ہمارے محتاجوں میں بانٹ دیا کریں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

ہاں

یا

میرے اللہ

تب وہ شخص کہنے لگا

جو حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پاس سے لائے ہیں

میں ان پر ایمان لایا اور میں اپنی قوم کے لوگوں کا جو یہاں نہیں آئے ہیں بھیجا ہوا ( تحقیق حال کے لیے ) آیا ہوں

میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے

میں بنی سعد بن بکر کے خاندان سے ہوں

اس حدیث کو ( لیث کی طرح ) موسیٰ اور علی بن عبدالحمید نے سلیمان سے روایت کیا

انھوں نے ثابت سے

انھوں نے انس سے

انھوں نے یہی مضمون آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر