حاجی پور میں مہمان شاعر کے اعزاز میں نشست کا انعقاد

Ek Sham Waliullah Wali ke Naam

Ek Sham Waliullah Wali ke Naam

حاجی پور (پریس ریلیز) کاروانِ ادب حاجی پور کے جنرل سکریٹری انوار الحسن وسطوی کی رہائش گاہ باغملی، حاجی پور میں دہلی سے تشریف لائے معروف شاعر اور آل انڈیا ریڈیو، دہلی میں شعبۂ فارسی کے انچارج ولی اللہ ولی کے اعزاز میں ایک مخصوص نشست منعقد ہوئی۔نشست کی صدارت معروف ناقد اور ماہر اقبالیات پروفیسر ممتاز احمد خاں نے کی۔ اپنے صدارتی کلمات میں انہوں نے کہا کہ ولی اللہ ولی اس عہد کے ا ن چند شعرا میں سے ایک ہیں جو نمود نمائش کی دنیا سے دور رہ کر اپنی فکری اور پاکیزہ شاعری سے اردو شعر و ادب کے دامن کو وسعت بخش رہے ہیں۔

ولی اللہ ولی کی شاعری پاکیزہ جذبات کی ایسی ارفع و اعلیٰ شاعری ہے جسے سن کر وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ نشست کا آغاز بشیرہ حسن کی تلاوت اور نظیرہ حسن کی مناجات سے ہوا۔ کاروانِ ادب کے سکریٹری انوار الحسن وسطوی نے ولی اللہ ولی کا تفصیلی تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے یہ بات باعث فخر و مسرت ہے کہ ولی اللہ ولی جیسی باکمال شخصیت کا تعلق سرزمین ویشالی سے ہے۔ اس موقع پر نوجوان شاعر کامران غنی صبا اور مہمان شاعر ولی اللہ ولی نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔

ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق کے شکریہ کے ساتھ یہ اعزازی نشست ختم ہوئی۔ اس نشست میں عظیم انصاری، نسیم احمد صدیقی، سید مصباح الدین، ذاکر حسین، اشتیاق احمد خاں، مولانا نظر الہدی قاسمی، عارف حسن وسطوی، ظہیر الدین نوری، نسیم اختر، عبدالقادر، ڈاکٹر محمد ناصر الدین، محمد فداء الہدی ، لطیف احمد خاں، سمیت درجنوں افراد موجود تھے۔ نشست میں سنائے گئے کلام کا منتخب حصہ پیش خدمت ہے:

روٹھتا ہے گر زمانہ روٹھ جائے غم نہیں
اُس سراپا مہرباں کی مہربانی اور ہے
دیکھتا ہے کیوں کوئی مظلوم سوئے آسماں
بے کسوں کی یہ دعائے بے زبانی اور ہے
(ولی اللہ ولی)
جناب کھیل نہیں ہے مری طرح ہونا
لہو نچوڑا ہے تب جا کے عاشقی ہوئی ہے