کوئی بھی ’ہانگ کانگ سے متعلق سرخ لکیر‘ پار نہ کرے، چینی صدر

 Chinese President

Chinese President

چین (جیوڈیسک) چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں ہانگ کانگ اب بہت زیادہ آزاد ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ معاملات میں اس نیم خود مختار چینی علاقے کے معاملے میں کسی کو ’سرخ لکیر‘ عبور نہیں کرنے دی جائے گی۔

ہفتے کے روز چین نواز خاتون سیاستدان کیری لَیم نے ہانگ کانگ کی نئی سربراہ کے طور پر حلف بھی اٹھا لیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے چینی صدر شی جن پنگ کے حوالے سے بتایا ہے کہ چین کی سلامتی اور خود مختاری یا مرکزی حکومت کو لاحق ہونے والا کوئی بھی خطرہ ایک ’سرخ لکیر‘ ہے اور اس لکیر کو پار کرنے کی کسی کو بھی قطعاﹰ اجازت نہیں دی جائے گی۔

ہانک کانگ کے چین کے ساتھ دوبارہ الحاق کے بیس برس مکمل ہونے پر آج منائی جانے والی تقریبات میں چینی صدر نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر اپنے ایک نشریاتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں ہانگ کانگ اب بہت زیادہ آزادی سے لطف اندوز ہو رہا ہے لیکن قومی سلامتی سے جڑے کچھ معاملات ایسے ہیں، جن پر ’سمجھوتہ نہیں ہو سکتا‘۔

شی جن پنگ نے مزید کہا کہ ہانگ کانگ کے آئین کی خلاف ورزی یا اس شہر کو باقی ماندہ چین کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے یکم جولائی بروز ہفتہ جب یہ پیغام دیا تو ہانگ کانگ میں سینکڑوں مظاہرین چین مخالف مظاہرے بھی کر رہے تھے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا۔ برطانیہ نے سن 1997 میں ہانگ کانگ کو واپس چین کے حوالے کر دیا تھا اور تب سے وہاں ’ایک ملک، دو نظاموں‘ کے تحت ریاستی انتظامات چلائے جا رہے ہیں۔

قبل ازیں ہفتے کے دن ہی چین نواز خاتون سیاستدان کیری لَیم نے ہانگ کانگ کی نئی سربراہ کے طور پر حلف بھی اٹھا لیا۔ بتایا گیا ہے کہ ایک شاندار تقریب میں انہوں نے ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹیو کا حلف اٹھایا اور اس موقع پر چینی صدر بھی موجود تھے۔ جس مقام پر حلف برداری کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، وہیں قریب ہی جمہوریت نواز مظاہرین نے اپنا احتجاج بھی جاری رکھا۔

چین کے نیم خود مختار علاقے ہانگ کانگ کی الیکشن کمیٹی نے انسٹھ سالہ کیری لَیم کو مارچ میں اس عہدے کے لیے منتخب کیا تھا تاہم ہانگ کانگ کے شہری اس بیجنگ نواز سیاستدان کو اپنی رہنما تصور نہیں کرتے۔

ہانگ کانگ میں پہلی خاتون سربراہ بننے کا اعزاز حاصل کرنے والی لَیم کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح یہ ہو گی کہ وہ عوامی اختلافات کو ختم کرائیں۔ لَیم نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والے چیف ایگزیکٹیو لیونگ چُن یِنگ کی جگہ یہ منصب سنبھالا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ ہانگ کانگ کی الیکشن کمیٹی کے زیادہ تر ارکان کا انتخاب عوام نہیں کرتے بلکہ انہیں نامزد کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں یہی کمیٹی خطے کے چیف ایگزیکٹیو کو چنتی ہے۔