بڑا المیہ

Rao Khalil

Rao Khalil

تحریر : راؤ خلیل احمد
انسانی زندگی کا سب سے بڑا المیہ جوان اولاد کا جنازہ اپنے بوڑھے والدین کے کندھوں پر ہونا ہے۔ اللہ پاک اس کرب سے بچائے، مگر جوان اولاد کے کندھوں پر والدین کا جنازہ ایسی تلخ حقیقت ہے جیسے ہر کسی کو فیس کرنا پڑتا ہے۔ انسانی ز ندگی کے اس نیچرل فنامنے کا سامنہ کسی حساس انسان کی زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور اگر والدین اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ الیہ وعلیہ وسلم سے محبت کرنے والے ہوں تو یہ مرحلہ انتہائی تکلیف کے باوجود بھی خوش اسلوبی سے سمبھل جاتا ہے۔

آج پیرس کے مضافات Villeneuve Saint George میں مسز فرحت اقبال کھوکھر کو اشکبار انکھوں سے سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں حسب حیثیت بڑی تعداد تو تھی ہی مگر خاص بات نماز جنازہ پرفیشنل امام کی بجائے مرحومہ کے بیٹے اعجاز کھوکھر نے پڑھایا۔ اور خوب پڑھایا اللہ پاک کے حضور ماں کی مغفرت یوں طلب کی کہ پڑھے لکھے تو کیا عام فہم آدمی کو بھی اپنی ماں کی جدائی یاد آگئی۔

اقبال کھوکھر ایک دنیا دار آدمی ہیں اور جب ایک آدمی ایڈوکیٹ بھی ہو تو سیاست دان نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا موصوف کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے ۔ اور یہ تعلق صرف تعلق پر ہی مبنی نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مین سٹریم سے ڈائرکٹ انٹریکشن بھی ہے ۔ جہانگیر بدر مرحوم کا دارہ پیرس ہو یا چیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے فرانس میں پہلے جلسے کا انعقاد ! محترم اقبال کھوکھر ہی روح رواں تھے۔ صدارت ان کے منجھلے بیٹے مبشر کھوکھر نے کی تھی جن کا تعلق فرانس کی سوشلسٹ پارٹی سے ہے اور موصوف مقامی میئری میں منتخب مشیر ہیں۔

پیپلز پارٹی کو سیکولر جماعت کہا جاتا ہے اسے یہ کہا جانا اس کے پیپلز سے ہے ۔ اور ان میں سے کوئی یورپ میں ہو پانچ بیٹے ہوں اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم سے بھی خوب آگاہ ہوں تو یہ سب صرف اسی ماں کا کمال ہے۔جس نے یورپ کی لائم لائٹ سے آنکھیں چندھیانے کی بجائے آنکھوں میں مدینے والے کے سبز گمبد کو سجائے رکھا۔ آج وہ ماں منوں مٹی تلے مدفون ہے ۔اور اس کی تدفین میں اس کے چھوٹے چھوٹے پوتے بھی قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے دادی کو الودع کہ رہے تھے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

تحریر : راؤ خلیل احمد