تعلیم انسانی ترقی میں اہم کردار اداء کرتی ہے۔ مفتی منظور حسین

Unit Office

Unit Office

فیصل آباد (علی گوہر سے) تعلیم انسانی ترقی میں اہم کردار اداء کرتی ہے مگر کیا وہی تعلیم ہمیں موجودہ دور میں فائدہ دے رہی ہے؟کیا ہم اس تعلیم سے وہ آداب سیکھ رہے ہیں جن سے ہم اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار سکتے ہیں؟ موجودہ تعلیم کے حصول کے بعد بھی ہم والدین، بہن، بھائی اور اپنے بڑوں کے احترام کرنے اور انسانی رواداری کے نظام سے باہرہیں اس کی کیا وجہ ہے کیا ہم عصر حاضر کی میعاری تعلیم حاصل نہیں کررہے ہیں ؟ پھر معاشرے میں یہ بگاڑ کیوں ہے بھائی بھائی کا دشمن کیوں ہے۔

ان خیالات کاا ظہار علامہ مولانا مفتی منظور حسین آف دربار عالیہ حضرت سلطان باھُو نے یونٹ دفتر دھنولہ شریف کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوںنے مزیدکہا کہ علاقہ میں مسجد ،مدرسہ ،سکول ،کالج او ریونیورسٹی کے قیام کے بعد اصلاحی جماعت وعالمی تنظیم العارفین کے دفتر کے قیام کی ضرورت کیوں باقی رہ جاتی ہے تو اس کا مختصر مگر جامع جواب یہ ہے کہ جب تک دلوں کی اصلاحی نہیںہوگی اور جب تک ہم دلوں سے نفرتوں کے خاتمے کا بندوبست نہیں کرتے اور جب تک ہم دل کو اللہ کریم اور نبی کریم ۖ کی محبت سے نہیں بھر لیتے تو صرف زبانی تعلیم ہمیں صرف اتنا ہی فائدہ دے سکتی ہے کہ ہم ریڈی میڈ انسان بن کر زندگی گزاریں ۔جو ہمارے اندار فیڈ کر دیا جائے ہم اس کو اچھائی اور برائی کے ڈیڈیکٹر سے گزارے بغیر ہی عمل کریں گے تو معاشرے میں اصلاح نہیں پھیل سکتی ہے۔

اس لیے ہمیں اپنے دلوںسے زنگ کو دور کرنے کی ضرورت ہے تعلیمات حضرت سلطان باھُو پرعمل پیرا ہو کر ہم اپنے دل کی اصلاح اسم اللہ ذات کے ذکر سے کرسکتے ہیں جو باطن میں ظلم و بربریت اور ظلمت کے خلاف ہماری رہنمائی کرتا ہے اور ہم اپنی تعلیم سے بہترین انداز میں استعفادہ کرنے والے بن جاتے ہیں ۔کیونکہ جب ہم دوسروں کا معاف کرنے اور محبت کا درس دیں گے تو علاقے اور معاشرے میں نفرت اور شرانگیزی کی بجائے محبت، امن او ر بھائی چارے کی تعلیم عام یہی وجہ سے یہاں دھنولہ شریف میں اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے دفتر کے قیا م کی تاکہ عوام الناس اپنے تائیں اصلاح کندہ بن جائیں۔

غیر مذہب بھی ایک مسلمان کو دیکھ کر گھبرانے کی بجائے پُراعتماد رہیں اور اطمینان سے بات سنیں تبھی ہم ان کو راہ حق کا پیغام د ے سکتے ہیں جب ہم کردار کی اعلیٰ منازل کو طے کریں ۔جیسا کہ حضرت علامہ محمد اقبال فرماتے ہیں کہ ”حسن کردار سے قرآن مجسم ہو جا ۔۔۔۔۔کہ ابلیس بھی تجھے دیکھے تو مسلمان ہو جائے۔