افطاری

Iftari

Iftari

تحریر : شاہ بانو میر

کل گھر میں افطاری تھی بازار سے گزرتے ایک بوڑھے سموسے پکوڑے والے کو دیکھا تو سوچا کہ اس کو ایڈوانس دے جاتا ہوں
اس نے حامی بھری اور پیسوں کا مطالبہ کیا
کتنے پیسے چاہئیں، کتنے پیسے دے جاوں؟ میں نے پوچھا،
بابا جی نے میری طرف دیکھا اور سوالیہ نظروں سے مسکرائے ۔
“کتنے پیسے دے سکتے ہو”
مجھے ایسے لگا، جیسے بابا جی نے میری توہین کی ہے،
مجھے ایک عرصے سے جانتے ہوئے بھی یہ سوال بے محل اور تضحیک تھی،
میں نے اصل قیمت سے زیادہ پیسے نکالے اور بابا جی کے سامنے رکھ دئیے،
بابا جی نے پیسے اٹھائے اور مجھے دیتے ہوئے بولے،
وہ سامنے سڑک کے اس پار اس بوڑھی عورت کو دے دو، کل آ کر اپنے سموسے پکوڑے لے جانا،
میری پریشانی تم نے حل کر دی، افطاری کا وقت قریب تھا اور میرے پاس اتنے پیسے جمع نہیں ہو رہے تھے، اب بیچاری چند دن سحری اور افطاری کی فکر سے آزاد ہو جائے گی۔
میرے جسم میں ٹھنڈی سی لہر دوڑ گئی۔
وہ کون ہے آپکی ؟؟
میرے منہ سے بے اختیار سوال نکلا ۔ بابا جی تپ گئے،
وہ میری ماں ہے ، بیٹی ہے اور بہن ہے ۔ تم پیسے والے کیا جانو، رشتے کیا ہوتے ہیں،
روزے کی افطاری کے بہانے تم تو کاروبار کرتے ہو ثواب تم کیا جانو
تم لوگوں کو انسانیت کی پہچان نہیں رہی صرف کاروبار کرتے ہو رشتے تمہارے پاس نہیں ہوتے اس لئےتمہیں رشتوں کا بھرم کیسے ہو گا،
یہ عورت تین گھنٹے سے کھڑی ہے، نہ مانگ رہی ہے اور نہ کوئی دے رہا ہے۔
تم لوگ بھوکا رہنے کو روزہ سمجھتے ہو اور پیٹ بھرے بے روزگاروں کو کو افطار کرا کے سمجھتے ہو ثواب کما لیا۔
جن کے روزے ہیں وہ ایسے ہیں جو بھوکے پیاسے روزے رکھتے ہیں
اور
ایک دوسرے کو کھلانے پلانے کا بہانہ بنا کر افطاریاں کراتے ہو
اللہ کے عذاب سے کیسے بچو گے تم؟
تم کو روزہ کا پتہ ہوتا تو دوسرے کی بھوک کا احساس ضرور ہوتا بھرے پیٹ کو تم لوگ اور بھرتے ہو
اگر روزہ رکھ کے بھی احساس نہیں جاگا تو یہ روزہ نہیں، صرف بھوک ہے بھوک
میں بوجھل قدموں سے اس بڑھیا کی طرف جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا،
اپنے ایمان کا وزن کر رہا تھا، یہ میرے ہاتھ میں پیسے میرے نہیں تھے
بابا جی کے تھے، میرے پیسے تو رشتوں کو استوار کر رہے تھے۔
میری شہرت میں مشہوری میں اضافہ کر رہے تھے
بابا جی کے پیسے اللہ کی رضا کو حاصل کرنے جا رہے تھے
میں سوچ رہا تھا کہ اس بڑھیا میں ماں، بہن اور بیٹی مجھے کیوں دکھائی نہیں دی؟
اے کاش میں بھی بابا جی کی آنکھ سے دیکھتا، اے کاش تمام صاحبان حیثیت بھی اسی آنکھ کے مالک ہوتے،
اے کاش، کے ساتھ بیشمار تمنائیں میرا پیچھا کر رہی تھیں۔

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر