امام بخاریؒ کچھ معلومات

Imam Bukhari

Imam Bukhari

تحریر : شاہ بانو میر

الفلق
کہو میں صبح کے پروردگار کی پناہ مانگتی ہوں ہر چیز کی برائی سے جو اس نے پیدا کی٬ اور شبِ تاریک کے شر سے جب وہ چھا جائے اور گنڈوں پر پڑھ پڑھ کر پھونکنے والیوں کی برائی سے اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب وہ حسد کرنے لگے

الناس
کہو میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتی ہوں یعنی لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی ٬ لوگوں کے معبودِ برحق کی ٬ (شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے (جو اللہ کا نام سن کر پیچھے ہٹ جاتا ہے٬ جو لوگوں کے دلوں میں (بے معنی) وسوسے ڈالتا ہے ( وہ )جنات سے( ہو یا انسانوں سے ٬

“””بخاری شریف رئیس المحدثین ابو عبداللہ محمد بن اسمعیٰل بُخاری”””
“””مترجم علامہ وحید الزماں “””
امیر المحدثین حضرت امام بخاری رحمة ؑ
محمد بن اسمعیٰل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بروزیہ بن ہذذبہ البخاری الجعفی )

ولادت سے پہلے جب والدین کی دعائیں آسمان پر جمع ہوں کہ بچہ حدیث کیلئے والد سے بڑھ کر نام پیدا کرے تو اللہ رب العزت تو ہر ایسی دعا کو کیوں نہ قبول و منظور فرماتے ہیں کہ جس دعا میں خلق خُدا کیلئے خیر ہو ٬ والد بھی حدیث کے عالم ہوں تو ماں کیسے خواہش نہ کرتی کہ بیٹا باپ سے مقام میں آگے جائے٬ بیٹا عطا ہوتا ہے اور نابینا ہے ماں جو شوہر کی وفات کے بعد ویسے ہی غمزدہ تھیں ٬ جائے نماز پر دعاؤں کرتے کرتے سو جاتیں٬ اتنا روئیں اتنا روئیں کہ ایک رات خلیل اللہ حضرت ابراہیمﷺ خواب میں تشریف لا کر فرماتے ہیں ٬ کہ تیری آہ و بکاہ سے کی گئی دعائیں شرف قبولیت پا گئیں ٬ تیرے بیٹے کو بصارت لوٹا دی گئئ٬ اور صبح دیکھتی ہیں کہ بیٹا بالکل ٹھیک ہے٬ بصارت اتنی روشن کی گئی کہ امام بخاری ؒ نے آپﷺ کے روضہ مبارک پر بیٹھ کر قندیل نہ ہونے کی وجہ سے پھر حق ایسے ادا کرنے کی کوشش کی کہ چاند کی چاندنی میں کتاب التاریخ لکھی ٬ سبحان اللہ مقام تو یہ ہیں جو اللہ نے متعین کئے ہوئے ہیں٬ جن میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی٬ اعلیٰ حقیقی مقام حقیقی شخصیات جو عمر بھر کی ریاضت کے بعد اپنا نام تاریخ میں ایسے جذب کرتی ہیں کہ ہزاروں لاکھوں لوگ آکر دعویٰ کریں ہمسری کا ٬ مگر تاریخ بڑی منصف ہے وقت گزرنے کے بعد قاری کو وہی پڑھائے گی جو سو فیصد سچ ہو گا۔

اور یہ اللہ کا انصاف ہے جو عام نگاہ دیکھنے سے سمجھنے سے قاصر ہے٬ سوچیں؟ امام بخاری کی اس دور کی تصنیف کو کہ جب تیز رفتار انٹر نیٹ نہیں تھا پریس نہیں تھا٬ علم کا خزانہ محض قلم دوات کے ساتھ ایسا ضخیم کہ آج تک ہم پلہّ کوئی نہ ہوا٬ امام بخاری کے اخلاص محنت مشقت کو ہر دور کے مشائخ عالم مانتے ہیں٬ بین اسی طرح انہیں آج کے اہل علم بھی سند جانتے مانتے ہیں٬ دنیا بھر میں جہاں جہاں اسلام کو اعلیٰ معیار کے ساتھ مطالعہ کیا جاتا ہے وہاں وہاں “” صحیح بخاری “” جس میں نبی پاکﷺ کی احادیث کو عمر بھر طویل سفر کر کے جمع کیا گیا ہے٬ اولین کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔

امام بخاری!!! زندگی کی سمت کو متعین کرنے والے ایسے لوگ کہ اللہ سبحان و تعالیٰ نے جن کی معطر پاکیزہ کامیاب زندگی کو کچھ یوں تاریخی بنا دیا کہ آج سیکڑوں سال گزرنے کے بعد جب بخاری شریف کو پڑھنے کا شرف مجھے حاصل ہوا تو ابتدائی حالات پڑھ کر قلم اٹھائے بغیر نہیں رہ سکی٬ حرف حرف آگہی شعور اصلاح حب نبی ﷺ کی خوشبو کتاب کھولتے ہی گویا قلب و ذہن کو مسحور کرتی ہے٬ جب تک مطالعہ رہتا ہے آپ خود کو اس دور میں محسوس کرتے ہیں ٬ اتنی سچائی اور گہرائی سے ترتیب کی گئی ہے۔

ان کی شخصیت ان کی فضیلت کے قصے آپ اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں گے٬ ابھی تو عام حروف ہیں اور کوشش ہے کہ عام انسان میری طرح ان کی اہمیت اور شان کو سمجھے تا کہ آگے جب زندگی کا احوال بیان ہو تو آسانی ہو٬ ان کا گزر بسر باوجود کامیاب کاروبار کے سادگی کی ایسی مثال کہ پڑھ کر بار بار اس حصے کا مطالعہ کیا کیا واقعی کوئی انسان اس قدر حب نبیﷺ میں اتنا غرق ہو سکتا ہے کہ باوجود پیسے کی فراوانی کے وہ چالیس سال تک سوکھی روٹی کھائے؟ اور اپنی آمدنی کو ترتیب کے ساتھ غریب طلباء اور تعلیمی امور کیلیۓ اس قدر فراوانی سے بانٹۓ؟ یہ ہیں ہمارے اسلاف اور آج ہم کیا خرچ کرتے ہیں علم والوں کیلئے؟ ان کی آمد کسی شہر میں ہوتے ہی نقیب اطلاع ہر خاص و عام کو پُکار پُکار کر دیتا کہ کوئی ان کی علمی دینی مجلس سے محروم نہ ہو جائے ٬ کھلے مٹی کے میدان ٬ سادہ لوگ سادہ عالم شرکاء کی تعداد میں صرف ٴ13 سو سے 14 سو قلم دوات رکھنے والے الگ بیٹھے ہوتے تھے ٬ جنہیں یہ علمی ضیافت روحانی طور پر سیر کرنے والی تھی ٬ اور تیس سے چالیس ہزار سننے والے سبحان اللہ ٬ وہ علم طلب محبت اور مشقت کے ساتھ مشروط تھی ٬اس وقت علم کے شیدائی ہر تکلیف سہ کر ان اہل علم کے پاس حاضر ہوتے ٬ یہ وہی وقت ہے جب بغداد علم کا گہوارہ تھا٬ دیگر اسلامی ممالک میں علمائے اکرام کا تعارف اسلام کی بقا کا باعث تھا۔

امام بخاری ؒ کی شخصیت ہر زاویہ سے اپنی محدود نگاہ سے دیکھنے کی کوشش کی میں نے ٬
مجھے ان کی زندگی ان کی علمی بصیرت ٬ ان کی ذہانت ٬ ان کی یاداشت کسی عام انسان کی نہیں بلکہ صرف اور صرف اللہ کا چناؤ محسوس ہوا٬ چھوٹی سی عمر میں اپنے ہی مدرسے کے معلم کوغلط حدیث پر ٹوک کر ان کی ڈانٹ کھانا اور بعد میں جب وہ معلم کتاب سے رجوع کرتے ہیں تو بچہ سچا ثابت ہوتا ہے٬ بچپن سے ان کی علمی قابلیت کا ذہانت کا چرچا انسانوں کے بس کی بات نہیں تھی یہ تو وہ سچا رب ہے جسے پسند کر لیتا ہے اس کے لئے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میں اس سے راضی ہوا آسمانوں پر اس کے نام کی منادی کروا دو٬ ہر ملائک جان لیتا ہے کہ کون خوش نصیب ہے جس سے رب تعالیٰ راضی ہوئے٬ اور یوں یہ پُکار زمین تک گونجتی ہے۔ ایسے ہی خوش نصیبوں میں ان کا نام ہے ہم سب کو اللہ پاک اپنے اپنے حصے کی توفیق عطا فرمائے کہ پڑھانے والے مجھے احسن درجے ہر پڑھا رہے ہیں٬

پڑھانے والی استاذہ رب کی رضا کیلئے اتنی محنت سے تعلیم دے رہی ہیں٬ اور طالبہ کا شوق اس کا رب جانتا ہے اسی اخلاص کی توفیق ما،نگتے مانگتے ایک قرآن کا سفر تکمیل کو پہنچا تو دوسرا حدیث کا علمی سفر شروع ہوا٬ یہ صرف میرے رب کا خاص کرم اور دعاؤں کی قبولیت ہے ٬ کہ آج کے مشینی دور میں کہیں جائے بغیر گھر کے اندر رہتے ہوئے اعلیٰ ترین علم عطا ہو رہا ہے۔

اس قرآن کے نورانی سفر نے اندر اتنا اجالا کر دیا ہے کہ اب دنیا باوجود چندھیانے والی روشنیوں کے نیم تاریک دکھائی دیتی ہے٬ صبغت اللہ کے رنگ سبحان اللہ اور اب “” ورفعنا لک ذکرک “” جب قرآن مجید میں یہ فرما دیا تو انتظام بھی اللہ سبحان و تعالیٰ نے کرنا تھا٬ کیونکہ وہ سب سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہیں٬ وہ کیسے اہتمام نہ کرتے ایسے لوگوں کا جو دنیا میں رہ کر اللہ کے پیارے رسولﷺ کے اذکار کو محققانہ انداز میں ترتیب دے کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے و رفعنا لک ذکرک پر مہر لگا دیں۔

آپﷺ کے مقام کی بلندی اتنی کہ آسمان پر رب تعالیٰ اپنے فرشتوں کے ساتھ درود بیھجتے ہیں٬ اللہ تو پتھر میں موجود کیڑے کو رزق مہیا کرتا ہے یہی بنیاد بنی اللہ پر مکمل اعتماد کی پھر دیکھا توکل مضبوط ہو تو گھر کے اندر ہی علم کی کہکشائیں وہ بھی قابل احترام مستند استاذہ کے ساتھ کیسے اجالا کرتی ہیں ٬ سبحان اللہ فاستبقوالخیرٰت استاذہ محترمہ امینہ زمرد صاحبہ کی دن رات کی محنت اور محبت سے قرآن مجید کا سفر تکمیل کو پہنچا تو اللہ کا شکر اس کے گھر جا کر کرنے کی دعا کی جو اللہ پاک نے احسن درجے پر فورا ہی قبول و منظور فرمائی۔

عمرہ سے واپسی پر طے ہونا تھا کہ علم کونسا لیا جائے ؟ یعنی آگے کیا شروع کیا جائے سبحان اللہ استادوں کی استاد استاذہ محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ اس وقت کینیڈا میں موجود ہیں٬ وہ میری استاذہ کے گھر وہ تشریف لائیں ٬ وہاں میری خوش نصیبی کہ دو اہل علم استاذہ نے حامل قرآن نے مجھ ناچیز کیلئے سوچا میری فکر کی کہ آگے کیا کیا جائے تو سبحان اللہ استاذہ فرحت ہاشمی صاحبہ نے کتاب تجویز کی اور فرمایا کہ”” بخاری شریف”” کو شروع کر لیں۔

سوموار منگل بدھ قرآن مجید کا ایک جزو ترجمہ سے سنا جائے ٬ اور جمعرات جمعہ کو بخاری شریف پڑھائی جائۓ ہفتہ کو تفسیر کی گھر میں کلاس جاری رہے گی٬ علم اللہ کا یا نبیﷺ کا کمال یہی ہے کہ علم دینے والوں کے اندر اتنا علم ہے کہ وہ وقت نہیں لیتے ٬ اور فورا ہی اللہ سے دعا کرتے ہوئے بسمہ اللہ کر دیتے ہیں٬ الحمد للہ !!!3 اسباق ہو گئے ہیں اور سبحان اللہ جو اسباق پڑھے ہیں ٬ انشاءاللہ اللہ نے توفیق دی تو وہ آپ تک ضرور پہنچانے ہیں۔

اپنے رب سے کہ دیا ہے کہ اے اللہ میں تیرے نبیﷺ کا ذکر لکھنے والے کیلئے کچھ کرنا چاہتی ہوں مجھے اپنی رحمتوں کے حصار میں لے لے٬ میرے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے لے تو ہی ہر بات کا جواب دے ٬ مجھ سے بہترین کام کروا لے٬ آمین امام بخاری کو بیان کرنا اتنا آسان نہیں ان کی صحیح بخاری کو علمائے اکرام “”اصح الکتاب بعد کتاب اللہ “” کا درجہ دیتے ہیں٬ اس میں آقائے نامدار سرور کونین آپﷺ کی احادیث کو لامتناہی سفر کر کے زندگی وقف کر کے ان کو مستند انداز مکمل تحقیق کر کے حوالہ بحوالہ تلاش کر کے تحریر کیا گیا ہے٬ جتنی خدمت اللہ سبحان و تعالیٰ نے لینی ہوئی انشاءاللہ اپنی استاذہ کی رہنمائی سے اور اللہ کی توفیق سے تحریر کرنا چاہتی ہوں٬ امام بخاری کی پیدائش سے وفات تک کے حالات جاری ہیں انشاءاللہ۔

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر