مسٹر عمران اگر ہے، تو اخلاقی جراءت پیدا کرو

Imran Khan

Imran Khan

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
یہ پاکستان کی بد قسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ اس ملک میں ایسے اخلاق باختہ لوگ بیس کروڑ لوگوں کے سروں پر مقتدر بننا چاہتے ہیں۔جن کا نا تو دامن ہی پاک ہے اور نہ ہی اخلاق اور کردار بہتر ہے۔جو جھوٹ بولنے میں دنیا کے بڑے سے بڑے جھوٹے کو آسانی کے ساتھ ہرا دینے کا ملکہ رکھتے ہیں۔ایسے برے کردار اور برے اخلاق کے مالک لوگ پاکستان کے غریب عوام کی روزی روٹی چھیننے اور اس کو دشمنوں کا دستِ نگر بنانے کی کوششوں میں اپنے مغربی آقاؤں کے اشاروں پر دن رات کوشاں ہیں۔ ان میں صفِ اول کا کھلاڑی مغرب کا سرٹیفائڈاخلاق باختہ جو یہودیوں کی فنڈنگز کے تحت اس ملک کو ترقی کی راہوں پرچلنے ہی نہیں دینا چاہتا ہے۔اُس کے مکروہ چہرے سے مصنوعی نقاب اُلٹنے کی اشد ضرورت ہے۔ عموماَ انسان کا کردار خاندان کے بزرگوں کے کردار سے بڑی حد تک مماثلت رکھتا ہے۔کھلاڑی کے والد کرپشن کے الزا م میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے اور سرکاری نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے۔کرپشن کے پیسوں سے تعلیم حاصل کی اور پھر ایک یہودن سے شادی کرکے ساری زندگی کے لئے یہودیوں کے غلامی اپنے نامکرلی۔آج بھی موصوف ایک مسلمان کے مقابلے میں ان یہودیوں کو ہی فیور کرتے ہیں اور خواب اسلامی جمہوریہ پرحکمرانی کے دیکھ رہے ہیں اور ان کی حمائتی موم بتی مافیہ ہے۔

عمران خان ایسا ہی بد حواس کھلاڑی ہے جس نے گذشتہ چار سالوں سے اپنی ہٹ دھرمی سے پاکستان کے ترقی کے دروازوں پر تالہ بندی کی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔جو نہ تو اداروں کا احترام کرتا ہے اور نہ کسی کو سیاست کے میدان مین طِفلِ مکتب ہونے کے باوجود اپنے سے بڑا سیاسی رہنماسمجھتا ہے۔ان کے تانے بانے جن یہودیوں سے جڑے ہیں اُن سے کون فہم و فراصت کا مالک پاکستانی واقف نہیں ہے۔مگر چند نا سمجھ لوگ جو سیاست کے میدان کے شہسوار بننے کی خواہش رکھتے ہیں اور جن کو ماضی میں کہیں گھاس نہ ڈالی گئی یا جو فوجیوں کے جوتے چاٹتے رہے تھے وہ اس نا سمجھ اور خود ساختہ’’ بیس کروڑ‘‘ عوام کے لیڈر کے ساتھ اس لئے کھڑے ہیں کہ شائد اس مداری کے ذریعے انہیں بھی سیاست کے میدان میں کہیں حصہ مل جائے یا سیاسی پذیرائی حاصل ہو جائے۔ مگر باشعور لوگ اسے گھاس ڈالنے کو کسی بھی قیمت پر تیا نہیں ہیں۔
یہ بات ہر با شعور جانتا ہے کہ جھوٹ کی نیا ہمیشہ ڈوبتی ہی دیکھی گئی ہے۔آج پاکستان کی اور اس کے بیس کروڑ عوام کی بد قسمتی یہ ہے کہ جھوٹے اور شاطرلوگ سچائی کا علم اٹھائے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں لگے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ ایک ٹیڑی ٹوپی لگانے والا ،ان کے فریب کو سچا ثابت کرنے میں سب سے آگے دکھائی دیتا ہے۔عمران خان کے ماضی کے تمام جھوٹ ساری قوم کے ذہنوں میں محفوظ ہیں،کہیں ایمپائر کی انگلی اٹھنا ،کہیں پینتیس پنکچر،کہیں روزانہ اچھل اچھل کر چیخنا کہ نواز شریف کا اقتدار اب گیا کہ جب گیا۔

موجودہ دنوں کا ایک نیا اور عظیم الشان جھو ٹ گھڑ کر جب پیش کیا گی کہ ۔’’ وزیر اعظم نواز شریف نے پاناما لیکس پر خاموش رہنے کے لئے انہیں دس ارب روپے کی پیشکش کی ہے‘‘!!! تواس پر ساری دنیا قہقہے لگا رہی ہے۔ بعض لوگ تو اس جملے پر کہہ رہے ہیں’’ یہ منہ اور یہ مسور کی دال‘‘ بعض کا کہنا تھا کہ ’’ابھی سیاسی قد اتنا بڑا نہیں ہو اہے‘‘بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں’’ ٹکے ٹکے پر لوگوں کے سامنے جھولی پھیلانے والے نے شائد اپنی ویلیو خود ہی قائم کر لی ہے ‘‘۔ سیاسی لوگ پوچھتے ہیں دس ارب میں ’’ار ب ’’ع‘‘ والا ہے یا ’’الف‘‘ والا ہے؟
اس جھوٹ پرن لیگ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئر مین کو پاناما کیس کے حوالے سے دس ارب روپے کی پیشکش جھوٹ ہے۔

اگر ان میں ذراسی بھی اخلاقی جراء ت ہے تو اُس شخص کانام بتائیں کہ انہیں کس نے دس ارب روپے کی پیشکش کی ؟دوسری جانب پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھی عمران خان سے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مگر یہ ماضی کی طرح کوئی ثبوت دیں گے نہیں ،آئیں بائیں شائیں کرتے ہوئے اس معاملے پر عوام کو ورغلاتے ضرور رہیں گے۔عمران خان کے پاس گند اچھالنے کے سوا کچھ ہے تو نہیں۔نا صرف مسلم لیگ کے م تماہی وزراء و ارکانِ پارلیمنٹ عمران خان سے ثبوتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔بلکہ سیاست کے میدان کے تمامہی کھلاڑی ثبوتوں کے پیش کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مگر یہ اب دودھ میں منگنیاں ڈالتے رہیں گے۔سعید غنی نے بہت ہی خوبصورت بات کہی ہے کہ’’بولی صرف بکنے والے مال پر ہی لگتی ہے‘‘ مگر یاد رہے گھٹیا مال کی بولی لگتی ہی نہیں ہے۔اس پٹے ہوئے مہرے پر تو کوئی دو ٹکے کی بولی بھی نہیں لگائے گا۔ان کے حواری ان سے کہیں کہ اب خوبوں کی دنیا سے نکل کر عملی دنیا میں جتنا جلد آجائیں اور ایک سچے پاکستانی بن جائیں تو شائد کبھی مستقبل میں ان کے لئے بہتری کے سامان پیدا ہو جائیں۔

اب عمران کی تعویلات سُنئے کہتے ہیں کہ 10،ارب کی پیشکش کرنے والا شہباز شریف کا قریبی ساتھی ہے اور میرا بھی دوست ہے۔یہ خبر دوبئی کے راستے مجھ تک پہنچی اس شخص کے پاس پہلے سے آفر کی ہوئی تھی مگر اس نے دو ہفتے پہلے مجھے بتایا۔میں اس شخص کا نام نہیں لے سکتا بے چاراپھنس جائے گا۔کھلاڑی صاحب! ’’ہاتھ کنگن کو آرسی کیا‘‘ اب آپ جھوٹا بیان دے کر خودپھنس چکے ہیں۔جھوٹے بیان پر عدالت آپ کے کپڑے بھی اتروالے گی۔ مسٹر عمران خان جواب دیں 10،ارب روپے کی پیشکش کا پاناما لیکس کی سماعت کے دوران عدالت میں ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟؟؟مریم اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ’’ عمران خان حسد کی آخری منزل میں ہیں‘‘مسلم لیگی ہنما کا کہنا ہے کہ لوگ جلتے رہیں ہم کام کرتے رہیں گے۔سابق وفاقی وزیر پرویز رشید کہتے ہیں کہ’’ عمران خان ایسی سیاسی بیمار ی ہے‘‘اسکوچُپ رہنے کے لئے کوئی احمق ہی رقم کی پیشکش کرے گا۔

عمران خان ذاتی طور پر’ وزیر اعظم فوبیا کا شکار ہیں‘ان کے اس مرض کو وزیر اعظم کی مو جودگی خاصی ایگریویٹ کرتی ہے۔جس علاج موجودہمیڈیکل سائنس کے پاس ابھ کسی ایجاد کی شکل میں آیا نہیں ہے۔مسٹر عمران اگر نہیں ہے، تو اخلاقی جراء ت پیدا کرو اور مان جاؤ کہ جھوٹ کی نیا ڈوبنے کو ہے۔پاکستانی قوم اتنی بیوقوف نہیں ہے کہ ’’وزیر اعظم فوبیا کے مریض ‘‘کو اپنا رہنما مان لے۔

Shabbir Ahmed

Shabbir Ahmed

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
03333001671
shabbirahmedkarachi@gmail.com