ہے کوئی سچا عمران جیسا

Imran Khan

Imran Khan

تحریر : انجینئر افتخار چودھری
آج نون غنوں کی عید ہے انہیں عمران خان کا وہ بیان ہاتھ لگ گیا ہے جو کسی مشاق صحافی کی سرخی نکالنے کے باعث انہیں بے انتہا خوشی نصیب ہوئی ہے اخبارات میں سر خی نکالنے والے بھی کمال کے بندے ہوتے ہیں نیچے متن کچھ اور ہوتا ہے اور اوپر سودے کچھ اور ہوتے ہیں۔بی بی سی کو دئے گئے انٹرویو میں عمران خان نے اپنے صوبے کی حکومت کی بہترین کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل سے ہمارے ہاں اسکولوں کی حالت اس قدر بہتر ہوئی ہے کہ پرائویٹ اسکولوں سے بچے گونمنٹ اسکولوں میں منتقل ہو رہے ہیں ہم نے تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ تعلیم کے لئے رکھا۔پولیس کا نظام پہلے سے بہت بہتر ہوا ہے۔

ہسپتالوں کا نظام اس قدر بہتر کیا کہ اب صوبے کے دور دراز مقامات پر ڈاکٹر موجود ہیں۔ میرے گھر میں دو ڈاکٹر ہیں ان کا کہنا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز تو دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک ہمیں کے پی کے جیسی مراعات دلا دے ۔عمران خان نے بلدیاتی نظام کو اس قدر بہتر قرار دیا کہ کہ دوسرے صوبے کے لوگ اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔تعلیم صحت بلدیاتی نظام کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ وہ بلین ٹری سونامی کا ذکر کرنا بھول گئے انہوں نے پولیس گردی کے مکمل خاتمے کی بات ہی نہیں کی شائد انٹرویو لینے والے کی کم علمی تھی یا وہ خود ذکر کرنا بھول گئے۔اب عید نون غناں کا ذکر کرتا ہوں۔انہوں نے برملا اعتراف کیا کہ ہماری ٹیم تجربہ کار نہ تھی اور اللہ کا شکر ہے کہ ہم بڑے تجربے سے نہیں گزرے۔اس بات کا عتراف تو عمران بیسیوں بار کر چکے ہیں کہ اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے کہ اس نے ہمیں بڑے امتحان میں نہیں ڈالا ورنہ ہم ایک بڑے تجربے میں چھوٹے تجربے سے گزرے بغیر مکمل ناکام ہو جاتے۔

انہوں نے بار ہا کہا کہ میری اپنی ٹیم کے لوگ ماضی کی حکومتوں کی طرح مزہ لوٹنے کے موڈ میں تھے اور ہم نے انہیں لگامیں دیں۔
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ضیاء اللہ آفریدی جیسے لوگوں نے مائینز کے ٹھیکوں میں اربوں روپے کمائے ؟کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جاوید نسیم جیسے ایم پی ایز نے گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کی تھی ابھی بہت ساا سچ میرے پاس ہے کہ ہمارے ایم پی ایز نے سخت نگرانی کے باوجود لوگوں سے مفت زمینیں اپنے نام کروائیں اور اس کے بدلے مختلف ترقیاتی کام اور اسکیمیں دے کر حرام کمایا؟قارئین یہ سب سچ ہے آپ یقین کریں اگر کے پی کے میں عمران خان کی ٹیم کنٹرول نہ کرتیں تو پنجاب اور سندھ کی طرح اور بلوچستان کی مانند سب ہڑپ کر لیا جاتا۔کل کشمیر کے ایک جنگلات کے افسر میرے مہمان تھے کہنے لگے پاسباں اور نگران ہمارے بھی ہیں آپ والے بوٹا کیا جھاڑی نہیں کاٹنے دیتے ہمارے وزیروں کے رشتے دار گھر بیٹھ کر ہزاروں کی تنخواہ حرام کرتے ہیں دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں کیا پنجاب کے پرائیویٹ اسکولوں میں کوئی بھی بچہ پڑھانا پسند کرتا ہے۔میری نوکرانی ہے وہ بھی اپنے بچے کو پرائویٹ اسکول میں پڑھاتی ہے جب کے کے پی کے کا صوبائی وزیر اپنی بچی کو گورنمنٹ اسکول میں پڑھاتا ہے۔

میر اگائوں نلہ یوسی جبری میں ہے اس کے بنیادی ہیلتھ سینٹر میں ڈاکٹر اسلام آباد سے روزانہ جاتی ہے اس سے پہلے ایم بی بی ایس کی شکل کو ترسا کرتا تھا یہ سینٹر۔کٹر نون لیگئے کی بیگم نے مجھے بتایا میری طرف سے عمران خان کا شکریہ ادا کرنا جس نے ہمارے بچوں کو مفت کتابیں اور بہترین یونیفارم مہیا کی۔خود ویلیج کونسل کا چیئرمین جو پی ٹی آئی سے نہیں ہے اس نے اپنا بچہ میرے سامنے کھڑا کیا جس نے وسٹرڈ کلر کی پینٹ اور بلیو شرٹ پہن رکھی تھی اسے یہ یونیفارم رعائتی نرخوں پر اسکول نے دی ہے اس کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے ہمیں فرسودہ ملیشیئے کی وردی سے جان چھڑائی اس سے پہلے جب پرائیوٹ اسکول کے بچوں میں ہم جاتے تھے تو ہمیں شرم آتی تھی
عمران خان بہت اچھا ہے اس میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ سچا ہے اور سچ بولتا ہے شائد یہ رسم زمانہ نہیں۔وہ شہباز شریف کی طرح جھوٹ نہیں بولتا اسے نواز شریف کی طرح کذب بیان کرنا نہیں آتا۔عمران خان سچا ہے جبک یہ دو بھائی عدلیہ سے سند یافتہ جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔میں نے دیکھا کہ وہ لوگ جو سرکاری خرچوں پر حج کے لئے گئے آج عمران خان پر زبان درازی کر رہے ہیں۔ایسے صحافی جنہیں حلال کھانا آیا ہی نہیں وہ اکلم لکھ رہے ہیں جھوٹ کی فیکٹری میں جسے اللہ نے سچ اور جھوٹ کا عرفان بھی بنا رکھا ہے اور قبیلہ ء صدیق سے تعلق بھی ہے وہاں اب جھوٹ کی مشینوں سے کذب اور خائینی کی لکیریں لکھی جا رہی ہیں کہ دیکھو دیکھو عمرانخان نے خود مان لیا کہ وہ نالائیق ہے۔ اس کا پورا بیان تو پڑھو جس میں اس نے تعلیم صحت اور دیگر شعبوں میں بے مثال ترقی کی بات کی ہے۔وزیر داخلہ احسن اقبال اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ جدہ کے قونصلیٹ میں آپ نے بات نہیںکی تھی کہ بجلی کے بارے میں ہمارے سارے اندازے غلط تھے ہم نے اقتتدار میں آ کر دیکھا کہ بجلی کی جنریشن سے زیادہ اس کی ڈسٹریبیوشن میں مسائل ہیں؟دوں گواہ اس بات کے۔شرم کریں آپ نے اپنے منہ سے تسلیم کیا اور یہی کچھ عمران خان نے کہا کہ حکومت میں آ کر ہمیں پتہ چلا کہ ہماری ٹیم کو ابھی تجربہ کار لوگوں کی ضرورت ہے۔اور اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں بڑے امتحان میں نہیں ڈالا۔اس سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ آپ کی دھاندلی کو مان لیا گیا ہے۔

آپ اپنی طرف سے چوری ڈاکے مارتے رہے اور میرے اللہ نے اس میں مصلحت یہ رکھی کہ عمران جائو ایک چھوٹے صوبے میں اور تجربہ حاصل کر کے ٹیم لائو سامنے۔ہمیں علم ہے کہ یوتھ کے نام پر جوٹھ کسی طرح ٹکٹ لے گئے اور سوائے چند ایک کے سارے مال پانی بنا گئے کوئی ہار کی قیمت لے گئے اور کچھ جیت کے چپ کا سودا کر بیٹھے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اس نالائقی پر ہزار لائقیت فدا ہو گی کہ لکھنے والے صرف وہ ہی نہیں ہم جیسے ہزاروں ہیں جو جانتے ہیں کہ خیبر پختون خواہ میں کیا تبدیلی آئی ہے۔ایک چھوٹی سی تبدیل میں آپ کو دکھانے لے چلوں گا آئیں سارے صحافی میری دعوت پر پیر سوہاوہ روڈ پر وادی ء جنت نظیر ندی ہرو کو دیکھنے ۔سڑک گرچہ تھوڑی بنی ہے میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ایسی کوئی سڑک پورے پاکستان میں دکھا دی جائے تو مان جائیں۔ویلیج کونسل نلہ میں اب تک پینتیس لاکھ کے کام ہو چکے ہیں اور مزید پینتالیس لاکھ لگنے ہیں اس سے پہلے یہ ایک ناظم کا فنڈ تھا۔آپ ایک سال میں دیکھیں گے کہ کیا کمالات ہوتے ہیں۔یہی تکلیف تھی ہمارے ایم پی ایز کو کہ فنڈ ہمیں دیں کہ الیکشن ہم نے لڑنے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اپنے پیسوں سے لڑو یہ غریب کا مال ہے۔خود احتسابی اسے کہتے ہیں۔ہے کوئی عمران جیسا؟

Iftikhar Chaudhry

Iftikhar Chaudhry

تحریر : انجینئر افتخار چودھری